آنکھوں سے مری آنسو ہر آن نکلتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

آنکھوں سے مری آنسو ہر آن نکلتے ہیں
کیوں میری محبت کے ارمان نکلتے ہیں

جب شعروں کی مالا میں سوچوں سے پروتی ہوں
تب جا کے کہیں دل سے دیوان نکلتے ہیں

جب آئینے میں صورت دھندلی سی دکھائی دے
پھر دھول کی وادی سے انسان نکلتے ہیں

اس گھر میں جفاؤں کی بلاؤں کا جو ڈیرا ہے
چل پڑھتے ہوئے دل سے قرآن نکلتے ہیں

کوشش تو بہت کی ہےپھولوں سے سجاؤں میں
پر لے کے وہ خالی ہی گلدان نکلتے ہیں

وہ بھول چکا سب کچھ ، پھر بھی یہ فریضہ ہے
ہاں ، ملنے کے کچھ نہ کچھ امکان نکلتے ہیں

ہونٹوں پہ درودوں سے مسکان سجا وشمہ
جب ورد کریں اکثر شیطان نکلتے ہیں

Rate it: Views: 19 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 08 Jan, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4344 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.