کرنا ہے کار خیر تو پھر سر نہ دیکھنا
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

کرنا ہے کار خیر تو پھر سر نہ دیکھنا
برسیں جو تیری ذات پہ پتھر نہ دیکھنا

لگنے لگیں گے دوست بھی دشمن سبھی تمہیں
یعنی ہے کس کے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا

رکھنا حقیقتیں بھی نگاہوں کے سامنے
دن رات صرف خواب کا منظر نہ دیکھنا

رہ جائے رنگ و بو سے تعلق ترا اگر
پھولوں کو اپنے ہاتھ سے چھو کر نہ دیکھنا

جانا اگر ہے پار تو ہو کر سوار تم
کشتی کے ساتھ ساتھ سمندر نہ دیکھنا

خود کرنا زندگی سے وفاؤں کا فیصلہ
کیا کہہ رہا ہے تم سے مقدر نہ دیکھنا

مصروف اپنی جنگ میں رہنا سدا مگر
نظریں اٹھا کے تم کبھی اوپر نہ دیکھنا

Rate it: Views: 21 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 20 Feb, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4379 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.