یہ انکساری دل کی تریاق سے نبھائی
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

یہ انکساری دل کی تریاق سے نبھائی
ہر بار ہار دل کی اک جیت سے لگائی

گو بجلیاں بھری ہیں اپنی سرشت میں بھی
پر خامشی ہماری تقریر سے سنائی

بانو بہشت کی میں خواہش یہ کس طرح کی
اس پالکی بدن میں سیرِ چمن کو آئی

رشتے لباس جیسے محتاج موسموں کے
یہ دوستی محبت سب رنگتیں ہی لائی

ہم نے وفا کی جھولی بھر دی ہے گوہروں سے
آنکھیں ہماری کانیں عادت بھی ہےدہائی


گم گشتہ ء جہاں ہیں، نذرِ نظر رہے ہیں
انداز آسماں کا، تقدیر کی خدائی

اس کوچہ خانہ میں سب نے فَنا ہی پائی
دو داد وشمہ الفت کی اس ادا سے آئی

Rate it: Views: 1 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 11 Mar, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4379 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.