جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
Poet: ارشد ارشیؔ
By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi

چھوڑ کر چل دیا بے سہارا مجھے
دے گیا زندگی کا خسارہ مجھے

شانوں پہ اس کے جب ہم نے سر رکھ دیا
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

خواب جو بھی تھے دیکھے تمہارے میں نے
سب سے کرنا پڑا ہے کنارہ مجھے

لاکھ اب وہ کرے بات اقرار کی
ساتھ اس کا نہیں اب گوارا مجھے

ہم نے کی ہے محبت غلامی نہیں
کیوں سمجھتے ہو تم اپنا کارہ مجھے

کوئی شکوہ نہیں ہے مجھے غیر سے
اپنوں کی ہی عنایت نے مارا مجھے

دو قدم ہی چلا ہوگا وہ شب ہجر
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

جا رہا ہوں ترے شہر سے روٹھ کر
اب نہ دیکھو گے تم بھی دوبارہ مجھے

میں تو ہوں اجنبی اس نئے شہر میں
نام سے میرے کس نے پکارا مجھے
 

Rate it: Views: 8 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 13 Mar, 2018
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi)

My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Visit 79 Other Poetries by Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.