محبت کرنے والے کچھ ایسے نادان ہوتے ہیں
Poet: مونا شہزاد
By: Mona Shehzad, Calgary

کیا ہے محبت کو بدنام ایسے
لٹے ہے گهر بار جیسے
یہ باغوں کی روشوں پر ٹہلن
یہ ریسٹورنٹوں کی ملاقاتیں
یہ فون پر لمبی لمبی باتیں
یہ سراب ہیں محض سارے
محبت کرنے والے ایسے نہیں ہوتے
یہ تو وه قبیل ہے جو وضو کرکے محبت کا نام لیتے ہیں
محبوب کی چادر میلی نہ ہو
اس کا دھیان رکھتے ہیں
ان کا عشق وصل کا محتاج نہیں
یہ ہجر کی آگ کو ہی انعام پاتے ہیں
محبت کرنے والے کچھ ایسے ہی نادان ہوتے ہیں
ان کی آنکھوں میں ہوس کے پنچھی نہیں پهڑپهڑاتے
یہ اپنے محبوب کی عزت کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں
جلتے ہیں شمع کے گرد پر شکایت سرعام نہیں کرتے
رہتی ہیں آنکھیں اکثر شب بیداری سے سرخ
کوئی پوچھے تو تنکے کو ہی الزام دیتے ہیں
محبت کو سر بازار نیلام نہیں کرتے
محبت کرنے والے کچھ ایسے نادان ہوتے ہیں

Rate it: Views: 1 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 16 Apr, 2018
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Visit 92 Other Poetries by Mona Shehzad »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.