جہاں کے رنج سہے ہے گزارا ہے کہ نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

جہاں کے رنج سہے ہے گزارا ہے کہ نہیں
خذاں تھی زیست میں یہ سہارا ہے کہ نہیں

پڑا جو وقت تو سب نے ہی ساتھ چھوڑ دیا
ہے کون دوست جہاں میں ہمارا ہے کہ نہیں

گرا دیا کسی گہری سی کھائی میں تم نے
تھا جس پہ مان ہمیں وہ سہاراہے کہ نہیں

اب اعتبار کروں بھی تو کس طرح تم پر
مکاریوں کو تمہا ری مارا ہے کہ نہیں

ہو دشمنوں سے ملے یہ بھی ہم نے جان لیا
انھیں جو چھپ کے کیا وہ اشارا ہے کہ نہیں

ہزار بار کسی سے فریب کھایا ہے
نہ دوستی کو نبھائیں نہ پایا ہے کہ نہیں

چلو یہ اچھا ہوا آنے والے طوفاں سے
بچے گی جان کہ وشمہ کنارا ہے کہ نہیں

Rate it: Views: 4 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 14 May, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4467 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.