چھوڑ کے جاسکتے ہو
Poet: نعمان صدیقی
By: Noman Baqi Siddiqi, Karachi

تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جاسکتے ہو
تم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جاسکتے ہو

تم سے باتوں میں مَیں اتنا ہی مگن ہوتی ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جاسکتے ہو

کی زمین میں

بیزار ہو تو چمن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے دفعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو

میری لگن بھی یہاں میری محنت بھی یہاں
تم اپنا جتن چھوڑ کے جا سکتے ہو

مجھے یہیں پہ رہنا ہے یہی مناسب ہے
تم اپنا وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو

میں نے تو اپنی چال چل دی ہے
تم اپنا چلن چھوڑ کے جاسکتے ہو

میں ہمیشہ تمہیں یاد رکھوں گا
تم یہ ملن چھوڑ کے جا سکتے ہو

مجھے تو یہاں پر سکون ملتا ہے
تم یہ مسکن چھوڑ کے جا سکتے ہو

روح نے نعمان اک دن تو جانا ہے
جسم اپنا دفن چھوڑ کے جا سکتے ہو

Rate it: Views: 6 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 14 Jun, 2018
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Visit 28 Other Poetries by Noman Baqi Siddiqi »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.