تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
Poet: داغ دہلوی
By: muhammad zubair, Chichawatni

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا

وفا کریں گے نبھاہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا

نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا

تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا

ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا

اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا

گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا

ہمیں تو حضرت واعظ کی ضد نے پلوائی
یہاں ارادۂ شرب مدام کس کا تھا

اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا

وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا

انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا

ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا

Rate it: Views: 0 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 10 Jul, 2018
About the Author: muhammad zubair

Visit 16 Other Poetries by muhammad zubair »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
VERY NICE
THANX FOR SHARING ONE OF THE BEST "KALAM" BY DAAGH DEHLVI
STAY BLESSED ALWAYS
By: uzma ahmad, Lahore on Jul, 10 2018
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.