تُم بھی ناں
Poet: نعمان صدیقی
By: Noman Baqi Siddiqi, Karachi

عنبرین حسیب کے اشعار میں "تُم بھی نہ " کی تکرار سے متائثر چند اشعار

تُم بھی ناں !

کتنا میٹھا بول رہے ہو تُم بھی نہ
اپنا بولا تول رہے ہو تُم بھی نہ

چہرہ دکھا کر مجھ کو تو خاموش کیا
نہ جانے کیا بول رہے ہو تم بھی نہ

آنکھوں میں تیری اُلجھا اور سُلجھا ہوں
زُلفیں اپنی کھول رہے ہو تم بھی نہ

ساکت کر کے رکھا ہے دیدار میں اپنے
اِدھر اُدھر تم ڈول رہے ہو تم بھی نہ

ترنم ہے لہجے میں تمہارے بِن گاۓ
کانوں میں رس گھول رہے ہو تم بھی نہ

اتنے غور سے دیکھ رہے ہو کیا ہو گا
مُجھ میں کیا ٹٹول رہے ہو تم بھی نہ

عام ڈگر پر کیوں چلتے ہو تم نعمان
تم تو کبھی انمول رہے ہو تُم بھی نہ
 

Rate it: Views: 0 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 05 Oct, 2018
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Visit 51 Other Poetries by Noman Baqi Siddiqi »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.