یادِ ماضی کو ہواؤں میں اڑایا لوگو

Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

غم محبت کےجزیرے سےاٹھایا لوگو
یادِ ماضی کو ہواؤں میں اڑایا لوگو

پیار کا راہی مرا راہ میں دم توڑ گیا
مرے زخموں کے لئےدرد کو دھارا لوگو

میں نے اک بار ہی دیکھا تھا مگر بارِ دگر
وہ تو انبار محبت کے اٹھا یا لوگو

کیوں مجھے ہجر کی دلدل میں یہاں چھوڑ گیا
میرے ہونٹوں پہ اگر ذکرِ وفا کیا لوگو

آج مدہوش پڑے ہیں وہ مرے لمس کے ساتھ
رقص جن کا ہمیں ساحل سے بہایا لوگو

میں نے اک بار بھی دیکھا نہ کبھی اس کی طرف
میری تصویر جو آنکھوں میں بنا یا لوگو

میری شاموں میں تری یاد کا ڈھلتا سورج
آج پھر دردِ محبت کو جگایا لوگو

اُس نے کیوں آنکھ چرائی ہے ذرا یہ تو بتا
اپنی چاہت سے جو وشمہ کو اٹھایا لوگو

Rate it:
09 Oct, 2018

More Life Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: washma khan washma
I am honest loyal.. View More
Visit 4523 Other Poetries by washma khan washma »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City