پھر ملاقات کی جیسے کہ ضرورت سے ملے
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

پھر ملاقات کی جیسے کہ ضرورت سے ملے
دل میں یوں آن بسا، دید کی حاجت سے ملے

شوخیاں بھول گئے عمر کے ڈھلتے ڈھلتے
آنکھ میں ناچتی معصوم شرارت سے ملے

آنکھ جو نم ہو وہی دیدۂ تر میرا ہے
موج غم اٹھے کہیں اسکی عنایت سے ملے

اس شر آباد خرابے میں کہاں حسن و جمال
حسن جتنا بھی ہے سب حسن محبت سے ملے

مژدہ ہجر شب وصل وہ دیتا ہی رہا
وصل برپا تو ہوا، لطف و مسرت سے ملے

محو حیرت ہوں میں جس چیز سے گھن آتی تھی
وہ ضرورت جو بنی، پھر وہ کراہت سے ملے

آئنہ جھوٹ یہ کہتا ہے کہ وشمہ وہ نہیں
عکس میں اُس کی ذرا سی بھی شباہت سے ملے

Rate it: Views: 6 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 06 Nov, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4456 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.