بس یہی بات یہاں حرف عنایت سے ملے
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

بس یہی بات یہاں حرف عنایت سے ملے
میں نے دریا کی نہیں دشت حفاظت سے ملے

ہم تو موجوں سے لڑے اور کنارے پہنچے
ہم نے کب ڈوبتی کشتی کی حمایت سے ملے

ورنہ کیا ہم کو غرض حال تمہارا پوچھیں
بات یہ کچھ بھی نہیں صرف محبت سے ملے

ابھی دالان میں اترے نہیں شب کے سائے
جانے والے نے سنا ہے کہ بغاوت سے ملے

لاکھ موجیں ہوں مخالف کہ ہوا ہو ناراض
پار اس بار بھی دریا کسی صورت سے ملے

میرے ہونٹوں پہ خموشی کے پڑے ہیں تالے
میری آنکھوں نے مری آج بھی چاہت سے ملے

اب اسے ڈھونڈنے نکلی ہیں کہ وشمہ یادیں
جس نے کاغذ کے لباسوں کی تجارت سے ملے

Rate it: Views: 8 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 06 Nov, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4448 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.