یوں کب تک آخر مجھے ستاؤ گے

Poet: Sobiya Anmol
By: Sobiya Anmol, Lahore

یوں کب تک آخر مجھے ستاؤ گے
اِک نہ اِک دن تو پچھتاؤ گے

خون اُگلو گے تم بھی آنکھوں سے
میری ہی طرح خود کو رُلاؤ گے

جیسے پھرتی ہوں تمہارے پیچھے
پیچھے پیچھے تم بھی میرے آؤ گے

آؤ گے انصاف کے میدان میں تم بھی
تقدیر سے بچ کر کہاں جاؤ گے

جیسے پشیمان مَیں محبت کر کے تم سے
منہ اُٹھاتے میرے آگے شرماؤ گے

ہمیں تو سمجھا لیتے تھے تم اپنی
بے درد زمانے کو کیسے سمجھاؤ گے

ہم ہی تھے جو نادان تھے
زمانے کو کیسے اُلجھاؤ گے

میرے ماضی پر تم ہنسا کرتے ہو
پھر جو بیتے گا ٗ کیسے بُھلاؤ گے

ہمارے سوا کون ہے یہاں تمہارا
میرے بعد کس کو اپناؤ گے

کون سنے گا دنیا میں صرف تمہاری
کس کو ہر وقت اپنی سناؤ گے

Rate it:
08 Nov, 2018

More Sad Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: sobiya Anmol
what can I say,people can tell about me... View More
Visit 128 Other Poetries by sobiya Anmol »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City