اِس گلشن نے بھی پھول کھلائے تھے کبھی

Poet: Sobiya Anmol
By: Sobiya Anmol, Lahore

اِس گلشن نے بھی پھول کھلائے تھے کبھی
وہ ہماری بھی باہوں میں آئے تھے کبھی

بدنامیاں ہماری جی بھر کے کی انہوں نے
جنہوں نے راز بھی ہمارے چھپائے تھے کبھی

اب پاس سے بھی نہیں گزرتے ہیں وہ
ہم اُن کے ٗ وہ ہمارے سائے تھے کبھی

اب نفرت ہی نفرت ہے ہمارے لیے
جنہوں نے محبت کے ڈھیر لگائے تھے کبھی

میرے باغیچے کی فضا بھی تازہ تھی کبھی
میرے آنگن میں تارے جھلملائے تھے کبھی

اب بے زبان ہیں ہم ٗ تو کیا ہوا
محبت بھرے گیت گنگنائے تھے کبھی

آج غیروں کا ہے سب کچھ ٗ تو کیا ہوا
ہماری خاطر بھی تحفے لائے تھے کبھی

اب اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
سوچتی رہتی ہوں ٗ مسکرائے تھے کبھی

اب وہ پتھر ہو گیا ہے زمانے کے ساتھ
دو آنسو ہم نے بھی اُسے رُلائے تھے کبھی

Rate it:
11 Nov, 2018

More Sad Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: sobiya Anmol
what can I say,people can tell about me... View More
Visit 128 Other Poetries by sobiya Anmol »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City