اعتبار

Poet:
By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi

آنکھوں کو نہ اپنی یوں تو اشکبار کر
باتوں پہ میرے یار ذرا اعتبار کر

رہتا نہیں کبھی بھی یہاں وقت ایک سا
آئیں گے اچھے دن بھی ذرا انتظار کر

وہ کتنی نعمتوں سے تجھے ہے نوازتا
اس بات پر خدا کا شکر بار بار کر

ہر بات کا گلہ نہ تو قسمت پہ ڈال دے
اپنے وجود میں بھی تو پیدا نکھار کر

مالک عطا ہو مجھ کو بھی دیدارِ مصطفیٰﷺ
سجدوں میں جا کے یہ دعا تو بے شمار کر

اٹھتے نہیں ہیں بوجھ گناہوں کے اب خدا
کشتی پھنسی بنھور میں اب تو ہی پار کر

آئیں گے اچھے دن بھی ذرا انتظار کر
میری وفا پہ بھی ذرا تو اعتبار کر

پہلے ہی خوب تو نے تماشے کیے یہاں
پھر سے تماشا کوئی نہ اب سرِ بازا کر

سن تو رہا ہے کب سے تو لوگوں کی بات کو
اپنی بھی بات اب تو کوئی میرے یار کر

وہ اور تھے جو وقت کے سانچے میں ڈھل گئے
یوں مجھ کو نہ تو کبھی ان میں شمار کر

اس کی طرح تو بھی اسے دل سے نکال دے
اس کے لیے تو دل کو نہ یوں بے قرار کر

وہ جھوٹا اک پیار تھا سو ختم ہو گیا
اس بات کو نہ اب یوں تو سر پر سوار کر

اب لوٹ کر کبھی میں یاں ہر گز نہ آؤں گا
جتنی بھی اب تو چاہے یہ آہ و پکار کر
 

Rate it:
10 Dec, 2018

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Muhammad Arshad Qureshi
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
Visit 180 Other Poetries by Muhammad Arshad Qureshi »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City