کدورتوں میں خود کو ، جکڑ کے نہیں دیکھا

Poet: اخلاق احمد خان
By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachi

کدورتوں میں خود کو ، جکڑ کے نہیں دیکھا
چلے جو جانبِ منزل تو ، مٗڑ کے نہیں دیکھا

عَالمِ سٗخن میں اپنا الگ ہی جہاں ہے
ہم نے کسی کی سوچ سے جٗڑ کے نہیں دیکھا

پَر ہی تولے تھے کہ سہم گئی دنیاں
ابھی تو ہم نے ، اٗڑ کے نہیں دیکھا

کسی کو خوش دیکھ خوش ہی ہوئے ہم
کامیابی پر کسی کو ، سَڑ کے نہیں دیکھا

ہوا کی دٗھن پر جو پَتے رقص کرتے ہیں
انہوں نے ابھی شاخ سے ، جھڑ کے نہیں دیکھا

گردشِ ایام نے صدا کس کو جِلا بخشی
کیا غنچوں نے بہار سے ، بچھڑ کے نہیں دیکھا

دعوی ہے کہ اس میں تبدیلی کا جِن ہے
وہ چراغ جو ہم نے ابتک ، رگڑ کے نہیں دیکھا

جنونِ عشقِ مصطفی ص تھما ہے نہ تھمے گا
کیا تم نے دیوانوں کو ، پکڑ کے نہیں دیکھا

بندوقیں تاننے والے بھی اپنے ہی تو تھے
سو ہم نے پلٹ کر ، اکڑ کے نہیں دیکھا

اخلاق مٹانے سے حق بھلا کب مٹ سکا ہے
کیا باطل نے ہم سے پہلے ، لڑ کے نہیں دیکھا

Rate it:
25 Dec, 2018

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Akhlaq Ahmed Khan
Visit 83 Other Poetries by Akhlaq Ahmed Khan »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City