رُخصتِ نظر سے ہجر کا ، عزاب لکھ کر چلا گیا

Poet: اخلاق احمد خان
By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachi

رُخصتِ نظر سے ہجر کا ، عزاب لکھ کر چلا گیا
کہا کچھ نہیں اس نے ، جواب لکھ کر چلا گیا

وہ جو کہتا تھا میری ہر اک سانس تمہاری ہے
جاتے جاتے ہر لفظ کا ، حساب لکھ کر چلا گیا

جسے ہر بھنور میں تھامے رکھا میں نے
وہی تقدیر میں ، گرداب لکھ کر چلا گیا

تصویرِ جزبات کے رنگ سمجھ نہ سکا تو
دل ہے تیرا ، خراب لکھ کر چلا گیا

رہنماء وطن کے سب ہی اردو سے عاری تھے
سُو انگریزی دان انکا ، خطاب لکھ کر چلا گیا

سببِ رخصتِ حیاء جو مُلّا سے پوچھا تو
دبے لفظوں میں ترکِ ، حجاب لکھ کر چلا گیا

پڑھ پڑھ کتابیں ذوقِ تحقیق اجاگر نہیں ہوتا
یہ کون قوم کا ، نصاب لکھ کر چلا گیا

جواں کو کیا نسبت تیرے ذوقِ تخیل سے
جانے کیوں اقبال ، کتاب لکھ کر چلا گیا

تدبّر و تفکّر بھی امام کا ہی شیوہ تھا
کون محض ممبر و ، محراب لکھ کر چلا گیا

اخلاق یوں تو ظلم میں حجاج کی نزیر نہیں ہے
مگر وہی قرآن میں ، اعراب لکھ کر چلا گیا

Rate it:
21 Feb, 2019

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Akhlaq Ahmed Khan
Visit 83 Other Poetries by Akhlaq Ahmed Khan »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City