محبت تو محبت تھی محبت میں نہیں تھا میں

Poet: Aamir Veesar
By: Aamir Ali Veesar, Khairpur

محبت تو محبت تھی محبت میں نہیں تھا میں
محبت تو اسے بھی تھی، شاید اس میں نہیں تھا میں

محبت تو محبت تھی، پر اب بھی محبت ہے
پھر مجھ سے نہیں تھی وہ، جو اب بھی محبت ہے

محبت میں رہا نا میں، وہ اب بھی محبت ہے
محبت نے مجھے مارا ، ہاں وہ قاتل محبت ہے

محبت کی گلہ ہے یہ، کہ وہ کیوں محبت ہے؟
وہ جو ہو گئی ہے نا، وہ ہی تو محبت ہے

محبت تو نہیں مجھ کو، پھر کیوں اس کو محبت ہے؟
وہ جو میرا بھی نہیں ہے، اس سے کیوں محبت ہے ؟

محبت سے نہیں واقف، تو پھر یہ کیا محبت ہے؟
میں جو کرتا ہوں تم سے، واقعی یہ محبت ہے؟

محبت سے ہیں دل قائم، دلوں میں بھی محبت ہے
محبت جنون ہے میرا، یہ عشق میرا محبت ہے

محبت کا ہے کیا نام، اس کا نام محبت ہے
کیا جنون عشق کا دوسرا نام محبت ہے

محبت کبھی نا کرنا تم، کیوں کہ زہر یہ محبت ہے
جو پی کہ بھی نا مروگے تم، وہ ہی تو محبت ہے

محبت سے یہ "ویسر" ہے، ہاں یہ "عامر" محبت ہے
مجھے سچی محبت ہے، یہ تم سے ہی محبت ہے

Rate it:
29 Mar, 2019

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Aamir Ali Veesar
Visit 3 Other Poetries by Aamir Ali Veesar »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City