Poetries by Atif Rashid
حسن کا نور تیرے حسن کو خدا نے ایسا نور دیا ہے
جس نے بھی دیکھا اس کو سروردیا ہے
تیری تعریف کیلئےالفاظ اتریں گے آسماں سے
ہمکو تو دیکھو خدا نے بنا مجبور دیا ہے
تجھے زمیں پہ بھیجنے کا مقصد آیا نہیں سمجھ میں
تجھ کو خدا نے بنا جب جنت کی حور دیا ہے
خدارا کچھ تو صدقہ خیرات کردیا کرو تم
اتنا خدا نے جو تم کو حسن حضور دیا ہے Atif Rashid
جس نے بھی دیکھا اس کو سروردیا ہے
تیری تعریف کیلئےالفاظ اتریں گے آسماں سے
ہمکو تو دیکھو خدا نے بنا مجبور دیا ہے
تجھے زمیں پہ بھیجنے کا مقصد آیا نہیں سمجھ میں
تجھ کو خدا نے بنا جب جنت کی حور دیا ہے
خدارا کچھ تو صدقہ خیرات کردیا کرو تم
اتنا خدا نے جو تم کو حسن حضور دیا ہے Atif Rashid
محبت محبت سے محبت کرتے ہیں ہم
محبت کیلئے جیتے مرتے ہیں ہم
جہاں محبت ملے سر جھکا دیتے ہیں
نفرت ملے جہاں محبت قائم کرتے ہیں ہم
اسی لئے ہو جاتیں ہیں بہت سی غلط فہمیاں
وہ سمجھتے ہیں شاید ڈرتے ہیں ہم
سرپہ باندھ کے کفن آتے ہیں میدان میں
جان ہتھیلی پہ رکھ کر لڑتے ہیں ہم
جب اپنی پہ آجائیں کچھ دیکھتے نہں
دوسرے کو پھر مار کہ مرتے ہیں ہم
اسی لئے محبت کے گن گاتے ہیں
اور صلح صفائی سے رہتے ہیں ہم Atif Rashid
محبت کیلئے جیتے مرتے ہیں ہم
جہاں محبت ملے سر جھکا دیتے ہیں
نفرت ملے جہاں محبت قائم کرتے ہیں ہم
اسی لئے ہو جاتیں ہیں بہت سی غلط فہمیاں
وہ سمجھتے ہیں شاید ڈرتے ہیں ہم
سرپہ باندھ کے کفن آتے ہیں میدان میں
جان ہتھیلی پہ رکھ کر لڑتے ہیں ہم
جب اپنی پہ آجائیں کچھ دیکھتے نہں
دوسرے کو پھر مار کہ مرتے ہیں ہم
اسی لئے محبت کے گن گاتے ہیں
اور صلح صفائی سے رہتے ہیں ہم Atif Rashid
ضروری تو نہیں ہم جس سے محبت کریں
وہ بھی کرے ہم سے پیار ضروری تو نہیں
ہم جس پر مریں
وہ بھی کرے ہم پہ جان نثار ضروری تو نہیں
ہم جس کے سنگ جینے مرنے کی کھائیں قسمیں
وہ بھی کرے ہمارے ساتھ عہد و قرار ضروری تو نہیں
ہم جس کے لئے چھوڑ دیں دنیا موت کو لگا کے گلے
وہ بھی چھوڑ دے ہمارے لیے سنسار ضروری تو نہیں
ہم جس سے کریں اپنی محبت کا اظہار ہو کر رو برو
وہ بھی کرے ہم سے محبت کا اظہار ضروری تو نہیں
دیکھ کر ان کو رہتا نہیں دل اب تو قابو میں ہمارے
ہمیں دیکھ کر بجیں ان بھی دل کے تار ضروری تو نہیں
وہ جھوٹ بھی بولیں تو ہم کریں یقین ان کا
ہم سچ بھی بولیں اور کریں وہ اعتبار ضروری تو نہیں Atif Rashid
وہ بھی کرے ہم سے پیار ضروری تو نہیں
ہم جس پر مریں
وہ بھی کرے ہم پہ جان نثار ضروری تو نہیں
ہم جس کے سنگ جینے مرنے کی کھائیں قسمیں
وہ بھی کرے ہمارے ساتھ عہد و قرار ضروری تو نہیں
ہم جس کے لئے چھوڑ دیں دنیا موت کو لگا کے گلے
وہ بھی چھوڑ دے ہمارے لیے سنسار ضروری تو نہیں
ہم جس سے کریں اپنی محبت کا اظہار ہو کر رو برو
وہ بھی کرے ہم سے محبت کا اظہار ضروری تو نہیں
دیکھ کر ان کو رہتا نہیں دل اب تو قابو میں ہمارے
ہمیں دیکھ کر بجیں ان بھی دل کے تار ضروری تو نہیں
وہ جھوٹ بھی بولیں تو ہم کریں یقین ان کا
ہم سچ بھی بولیں اور کریں وہ اعتبار ضروری تو نہیں Atif Rashid
عید کا تحفہ پورے اک سال بعد آتا ہے رمضان
سنگ اپنے کتنی خوشیاں لاتا ہے رمضان
کوئی فائدہ اٹھاتا نہیں اس رمضان سے
تو کسی کو بہت کچھ دے جاتا ہے رمضان
بھٹک جاتے ہیں جو لوگ راہ حق سے
بھٹکے ہوؤں کو رستہ دکھاتا ہے رمضان
نیکی کی راہ پہ ہم کو چلاتا ہے رمضان
برائی سے ہم کو بچاتا ہے رمضان
ہوتے ہیں افسردہ جب جاتا ہے رمضان
جاتے جاتے عید کا تحفہ دے جاتا ہے رمضان Atif Rashid
سنگ اپنے کتنی خوشیاں لاتا ہے رمضان
کوئی فائدہ اٹھاتا نہیں اس رمضان سے
تو کسی کو بہت کچھ دے جاتا ہے رمضان
بھٹک جاتے ہیں جو لوگ راہ حق سے
بھٹکے ہوؤں کو رستہ دکھاتا ہے رمضان
نیکی کی راہ پہ ہم کو چلاتا ہے رمضان
برائی سے ہم کو بچاتا ہے رمضان
ہوتے ہیں افسردہ جب جاتا ہے رمضان
جاتے جاتے عید کا تحفہ دے جاتا ہے رمضان Atif Rashid
جیو اور جینے دو دہشت گردی کر کے آخر کون سا ملک خوش ہے
گریبان میں جھانکے امریکہ سب سے بڑا دہشت گرد بش ہے
مر جائیں انگریز تو ان کی جانیں جان ہیں
ہمیں بھی ہوتی ہے تکلیف آخر ہم بھی انسان ہیں
اک دن امریکہ تو بھی منہ کی کھائے گا
آج اگر عروج ہے تو کل زوال آئے گا
ہو کر اک جان دنیا میں یہ ظاہر کریں
تمام ایشیائی ممالک تجھ کو نکال باہر کریں
تم اپنی حد نہ توڑو ہم اپنی حد میں رہتے ہیں
جیو اور جینے دو ہم تو بس اتنا کہتے ہیں Atif Rashid
گریبان میں جھانکے امریکہ سب سے بڑا دہشت گرد بش ہے
مر جائیں انگریز تو ان کی جانیں جان ہیں
ہمیں بھی ہوتی ہے تکلیف آخر ہم بھی انسان ہیں
اک دن امریکہ تو بھی منہ کی کھائے گا
آج اگر عروج ہے تو کل زوال آئے گا
ہو کر اک جان دنیا میں یہ ظاہر کریں
تمام ایشیائی ممالک تجھ کو نکال باہر کریں
تم اپنی حد نہ توڑو ہم اپنی حد میں رہتے ہیں
جیو اور جینے دو ہم تو بس اتنا کہتے ہیں Atif Rashid
خودکش بیٹا
مجھے کیا تھی ضرورت پھر آج رونے کی
کاش ضد نہ کی ہوتی میں نے کھلونے کی
میں کچھ نہں مانگتا تم سے میرے ابو
اٹھ جاؤ تمہیں عادت نہیں دیر تک سونے کی
بیوی
میں کرتی ہوں وعدہ تم سے میرے سرتاج
کبھی فرمائش نہ کروں گی تم سے چاندی سونے کی
آجاؤ یہ وقت ہے تمہارے آنے کا
کوئی تو خبر دے ان کو شام ہونے کی
ماں
رو رو کر کہتا ہے دل ماں کا
سکت نہیں ہے مجھ میں کچھ کھونے کی
اس عمر میں کیا ضرورت تھی یارب
میری کشتی کو کنارے پہ ڈبونے کی Atif Rashid
مجھے کیا تھی ضرورت پھر آج رونے کی
کاش ضد نہ کی ہوتی میں نے کھلونے کی
میں کچھ نہں مانگتا تم سے میرے ابو
اٹھ جاؤ تمہیں عادت نہیں دیر تک سونے کی
بیوی
میں کرتی ہوں وعدہ تم سے میرے سرتاج
کبھی فرمائش نہ کروں گی تم سے چاندی سونے کی
آجاؤ یہ وقت ہے تمہارے آنے کا
کوئی تو خبر دے ان کو شام ہونے کی
ماں
رو رو کر کہتا ہے دل ماں کا
سکت نہیں ہے مجھ میں کچھ کھونے کی
اس عمر میں کیا ضرورت تھی یارب
میری کشتی کو کنارے پہ ڈبونے کی Atif Rashid
میرے ساتھ نہیں کی چنگی لوگوں کو دیا حسن اتنا میرے ساتھ نہیں کی چنگی
دیے ہوتے چار بال مجھ کو کرتا میں بھی کنگی
کوئی کہتا ہے ٹکلو تو کوئی تبلا بجاتا ہے
دیکھوں جو آئینہ تو وہ بھی دیکھ کر مسکراتا ہے
دیکھ کر خود کو کبھی کبھی دل بہت روتا ہے
اندازہ ہوتا نہیں منہ کہاں سے شروع ہوتا ہے
بہت سوچنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے
مہنگائی کے دور میں یارب شیمپو سے جان چھڑائی ہے Atif Rashid
دیے ہوتے چار بال مجھ کو کرتا میں بھی کنگی
کوئی کہتا ہے ٹکلو تو کوئی تبلا بجاتا ہے
دیکھوں جو آئینہ تو وہ بھی دیکھ کر مسکراتا ہے
دیکھ کر خود کو کبھی کبھی دل بہت روتا ہے
اندازہ ہوتا نہیں منہ کہاں سے شروع ہوتا ہے
بہت سوچنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے
مہنگائی کے دور میں یارب شیمپو سے جان چھڑائی ہے Atif Rashid
درد میں مسکرا لیتے ہیں دنیا کے سامنے غم کو چھپا لیتے ہیں ہم
درد میں بھی اکثر مسکرا لیتے ہیں ہم
ہمیں دیتے ہیں چوٹ جو لوگ دل پہ
ان کو بھی گلے سے لگا لیتے ہیں ہم
دیر سے ہی سہی کبھی تو ہوگی پوری آرزو
یہی سوچ کر خواب آنکھوں میں بسا لیتے ہیں ہم
ٹوٹ جائے بازو تو آتا گلے میں ہی ہے
اسی وجہ سے رشتے اپنے نبھا لیتے ہیں ہمد Atif Rashid
درد میں بھی اکثر مسکرا لیتے ہیں ہم
ہمیں دیتے ہیں چوٹ جو لوگ دل پہ
ان کو بھی گلے سے لگا لیتے ہیں ہم
دیر سے ہی سہی کبھی تو ہوگی پوری آرزو
یہی سوچ کر خواب آنکھوں میں بسا لیتے ہیں ہم
ٹوٹ جائے بازو تو آتا گلے میں ہی ہے
اسی وجہ سے رشتے اپنے نبھا لیتے ہیں ہمد Atif Rashid