Poetries by Muhammad Sohail Abbas
گُم سُم ویران، اُداس، گُم سُم اور چُپ چاپ سی
میری بھی گزر رہی ہے بالکل ہی آپ سی Muhammad Sohail Abbas
میری بھی گزر رہی ہے بالکل ہی آپ سی Muhammad Sohail Abbas
مدِمقابل سُہیل پھر اِک معرکے کا سامنا ہے مجھ کو
اور مدِمُقابل بھی اِس بار میں ہی ہوں Muhammad Sohail Abbas
اور مدِمُقابل بھی اِس بار میں ہی ہوں Muhammad Sohail Abbas
اب بھی تو کہو اب بھی تو کہو
کبھی تو کہو
تیرے دیکھنے کو اپنی
آنکھیں یہ ترستی ہیں
تم بِن یونہی اکثر
چھَم چھَم سے برستی ہیں
تیری صورت دیکھ کر آنکھیں
پھولوں سی مہکتی ہیں
تُو نہ ہو تو پہروں
تیرا رستہ تکتی ہیں
تم بِن دل میرا
بے قرار سا رہتا ہے
خوشیوں میں بھی اب اکثر
سوگوار سا رہتا ہے
تم سے بہت کرنی
ہاں مجھ کو باتیں ہیں
تم بِن بے معنی
چاندنی راتیں ہیں
بہت دن ہوئے کوئی
سپنا بھی نہیں دیکھا
تم بِن کوئی میں نے
اپنا بھی نہیں دیکھا
تم بِن پھولوں میں
خوشبو بھی نہیں باقی
تم بِن جینے کی
جُستجو بھی نہیں باقی
یاد آؤ گے مجھے تم
ہر پل یونہی بیٹھے
کہیں گے مجھے یہ سب
پاگل یونہی بیٹھے
اب بھی تو کہو
کبھی تو کہو
وہ باتیں جو کرتے تھے
اِک بار سبھی تو کہو Muhammad Sohail Abbas
کبھی تو کہو
تیرے دیکھنے کو اپنی
آنکھیں یہ ترستی ہیں
تم بِن یونہی اکثر
چھَم چھَم سے برستی ہیں
تیری صورت دیکھ کر آنکھیں
پھولوں سی مہکتی ہیں
تُو نہ ہو تو پہروں
تیرا رستہ تکتی ہیں
تم بِن دل میرا
بے قرار سا رہتا ہے
خوشیوں میں بھی اب اکثر
سوگوار سا رہتا ہے
تم سے بہت کرنی
ہاں مجھ کو باتیں ہیں
تم بِن بے معنی
چاندنی راتیں ہیں
بہت دن ہوئے کوئی
سپنا بھی نہیں دیکھا
تم بِن کوئی میں نے
اپنا بھی نہیں دیکھا
تم بِن پھولوں میں
خوشبو بھی نہیں باقی
تم بِن جینے کی
جُستجو بھی نہیں باقی
یاد آؤ گے مجھے تم
ہر پل یونہی بیٹھے
کہیں گے مجھے یہ سب
پاگل یونہی بیٹھے
اب بھی تو کہو
کبھی تو کہو
وہ باتیں جو کرتے تھے
اِک بار سبھی تو کہو Muhammad Sohail Abbas
دور اتنا نہ ہم سے رہا کیجیے دور اتنا نہ ہم سے رہا کیجیے
کبھی تو ہمیں بھی ملا کیجیے
ہمیں بھی ہیں کرنی کچھ تم سے باتیں
کوئی شام ہمیں بھی عطا کیجیے
اُداسی کی چادر ہمیں سونپ کر
مسکرا کبھی تو دیا کیجیے
ہم بھی ہیں بندے تمہاری طرح کے
یوں اتنا نہ ہم سے ڈرا کیجیے
ہمارا ہے کیا حال کچھ بھی نہ پوچھیں
بس آپ خوش رہا کیجیے
ہو گیا ہے ہم کو مرضِ محبت
ہمارے لیے اب دعا کیجیے
محبت میں کام اِس کا کوئی نہیں
دور اِس سے اپنی انا کیجیے
نظرِ بد کہیں لگ نہ جائے تمہیں
نہ سج دھج کے باہر پھرا کیجیے Muhammad Sohail Abbas
کبھی تو ہمیں بھی ملا کیجیے
ہمیں بھی ہیں کرنی کچھ تم سے باتیں
کوئی شام ہمیں بھی عطا کیجیے
اُداسی کی چادر ہمیں سونپ کر
مسکرا کبھی تو دیا کیجیے
ہم بھی ہیں بندے تمہاری طرح کے
یوں اتنا نہ ہم سے ڈرا کیجیے
ہمارا ہے کیا حال کچھ بھی نہ پوچھیں
بس آپ خوش رہا کیجیے
ہو گیا ہے ہم کو مرضِ محبت
ہمارے لیے اب دعا کیجیے
محبت میں کام اِس کا کوئی نہیں
دور اِس سے اپنی انا کیجیے
نظرِ بد کہیں لگ نہ جائے تمہیں
نہ سج دھج کے باہر پھرا کیجیے Muhammad Sohail Abbas
صدیاں جدائی کی گھڑیاں جب آتیں ہیں
زندگی کی بچی ہوئی چند ساعتیں پھر کئی صدیاں بن جاتیں ہیں Muhammad Sohail Abbas
زندگی کی بچی ہوئی چند ساعتیں پھر کئی صدیاں بن جاتیں ہیں Muhammad Sohail Abbas
خود کو رلانا چاہ رہے ہیں خود کو رُلانا چاہ رہے ہیں
اُس سے بچھڑ جانا چاہ رہے ہیں
دشت کو چھوڑ کر اب تو
ہم بھی گھر بنانا چاہ رہے ہیں
سادگی نہیں تو اور کیا کہیے
رتجگا دے کر سُلانا چاہ رہے ہیں
ہر چیز کا مِل جانا ضروری نہیں ہوتا
دل کو یہ بات سمجھانا چاہ رہے ہیں
یاد آنے سے ہی دل دھڑک سا جاتا ہے
ورنہ تو اُسے ہم بھلانا چاہ رہے ہیں
عجب بے چینی و بے قراری ہے
خود سے جو آنکھ مِلانا چاہ رہے ہیں
ایک ہی تو شخص مانگا ہے اے خدا
ہم کونسا تجھ سے زمانہ چاہ رہے ہیں
آنسو نکل آتے ہیں آنکھوں سے سُہیل
ورنہ تو ہم مسکرانا چاہ رہے ہیں Muhammad Sohail Abbas
اُس سے بچھڑ جانا چاہ رہے ہیں
دشت کو چھوڑ کر اب تو
ہم بھی گھر بنانا چاہ رہے ہیں
سادگی نہیں تو اور کیا کہیے
رتجگا دے کر سُلانا چاہ رہے ہیں
ہر چیز کا مِل جانا ضروری نہیں ہوتا
دل کو یہ بات سمجھانا چاہ رہے ہیں
یاد آنے سے ہی دل دھڑک سا جاتا ہے
ورنہ تو اُسے ہم بھلانا چاہ رہے ہیں
عجب بے چینی و بے قراری ہے
خود سے جو آنکھ مِلانا چاہ رہے ہیں
ایک ہی تو شخص مانگا ہے اے خدا
ہم کونسا تجھ سے زمانہ چاہ رہے ہیں
آنسو نکل آتے ہیں آنکھوں سے سُہیل
ورنہ تو ہم مسکرانا چاہ رہے ہیں Muhammad Sohail Abbas
دیکھا نہیں جاتے ہوئے فقط اِسی ڈر سے دیکھا نہیں جاتے ہوئے فقط اِسی ڈر سے
کہیں میری آنکھ پھر نہ مسلسل بَرسے
تم تھے تو یہی شہر عجب شہر تھا لیکن
اب وحشت ہوتی ہے مجھے اپنے ہی گھر سے
اب جیسے چاہو مجھ سے آنکھیں پھیر لو لیکن
یاد آئیں گے جب جائیں گے تمہارے نگر سے
تم بہت مصروف تھے اس لیے ہم نے
جو بات تم سے کہنی تھی کہہ لی ہے قمر سے
ہمارا کام ہے سُہیل فقط بونا اور بونا
ہمیں کوئی غرض نہیں کسی بھی ثمر سے Muhammad Sohail Abbas
کہیں میری آنکھ پھر نہ مسلسل بَرسے
تم تھے تو یہی شہر عجب شہر تھا لیکن
اب وحشت ہوتی ہے مجھے اپنے ہی گھر سے
اب جیسے چاہو مجھ سے آنکھیں پھیر لو لیکن
یاد آئیں گے جب جائیں گے تمہارے نگر سے
تم بہت مصروف تھے اس لیے ہم نے
جو بات تم سے کہنی تھی کہہ لی ہے قمر سے
ہمارا کام ہے سُہیل فقط بونا اور بونا
ہمیں کوئی غرض نہیں کسی بھی ثمر سے Muhammad Sohail Abbas
پھر کیوں یہ دل اداس ہے سنجیدگی بھی ہے ، بچپنا بھی ہے
ہر کوئی یہاں اپنا بھی ہے
کچھ یادیں بہت پرانی سی
کچھ آنکھ میں نیا سپنا بھی ہے
جب سب کچھ میرے پاس ہے
پھر کیوں یہ دل اُداس ہے
چندا بھی ہے تارے بھی ہیں
بہت دلکش نظارے بھی ہیں
جو کبھی نہ ہم کو گِرنے دیں
پاس اپنے وہ سہارے بھی ہیں
جب اِس کا بھی احساس ہے
پھر کیوں یہ دل اُداس ہے
جب غم بہت ہی آئیں گے
سب ساتھی ہمیں چھوڑ جائیں گے
کیا ہم ان جھیل جھمیلوں کو
خودسے یوں سہہ پائیں گے
جب صرف یہ اِک قیاس ہے
پھر کیوں یہ دل اُداس ہے Muhammad Sohail Abbas
ہر کوئی یہاں اپنا بھی ہے
کچھ یادیں بہت پرانی سی
کچھ آنکھ میں نیا سپنا بھی ہے
جب سب کچھ میرے پاس ہے
پھر کیوں یہ دل اُداس ہے
چندا بھی ہے تارے بھی ہیں
بہت دلکش نظارے بھی ہیں
جو کبھی نہ ہم کو گِرنے دیں
پاس اپنے وہ سہارے بھی ہیں
جب اِس کا بھی احساس ہے
پھر کیوں یہ دل اُداس ہے
جب غم بہت ہی آئیں گے
سب ساتھی ہمیں چھوڑ جائیں گے
کیا ہم ان جھیل جھمیلوں کو
خودسے یوں سہہ پائیں گے
جب صرف یہ اِک قیاس ہے
پھر کیوں یہ دل اُداس ہے Muhammad Sohail Abbas
کبھی،اکیلے،کہیں،اچانک کبھی،اکیلے،کہیں،اچانک
بیتی باتیں یاد آتیں ہیں
چاند ہوا اور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
یاد آتا ہے بہت دنوں کے بعد اپنا ملنا
یوں ہوتا تھا جیسے ہو دو پھولوں کا کھلنا
جو ہوتی تھی کبھی سُہانی
سب ملاقاتیں یاد آتیں ہیں
چاند،ہوا اور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
یاد آتا ہے وہ زمانہ
جب غم کے بادل آتے تھے
اِک دوجے کو دیکھ کر
سب ہی بھول جاتے تھے
جو ہونٹوں پر آ جاتیں تھیں
وہ مسکراہٹیں یاد آتیں ہیں
چاند ،ہوا اور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
یاد آتا ہے آنکھوں کا
وہ رستہ تکتے رہنا
کسی کے آنے کا سُن کر
وہ پہروں سجتے رہنا
جن پر دل دھڑک جاتا تھا
وہ آہٹیں یاد آتیں ہیں
چاند ،ہوا ااور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
کبھی ،اکیلے،کہیں، اچانک
بیتی باتیں یاد آتیں ہیں Muhammad Sohail Abbas
بیتی باتیں یاد آتیں ہیں
چاند ہوا اور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
یاد آتا ہے بہت دنوں کے بعد اپنا ملنا
یوں ہوتا تھا جیسے ہو دو پھولوں کا کھلنا
جو ہوتی تھی کبھی سُہانی
سب ملاقاتیں یاد آتیں ہیں
چاند،ہوا اور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
یاد آتا ہے وہ زمانہ
جب غم کے بادل آتے تھے
اِک دوجے کو دیکھ کر
سب ہی بھول جاتے تھے
جو ہونٹوں پر آ جاتیں تھیں
وہ مسکراہٹیں یاد آتیں ہیں
چاند ،ہوا اور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
یاد آتا ہے آنکھوں کا
وہ رستہ تکتے رہنا
کسی کے آنے کا سُن کر
وہ پہروں سجتے رہنا
جن پر دل دھڑک جاتا تھا
وہ آہٹیں یاد آتیں ہیں
چاند ،ہوا ااور اپنا آنگن
گزری راتیں یاد آتیں ہیں
کبھی ،اکیلے،کہیں، اچانک
بیتی باتیں یاد آتیں ہیں Muhammad Sohail Abbas
دعاؤں کی ضرورت بچوں کو جیسے ماؤں کی ضرورت ہے
ایسے ہی مجھ عاصی کو دعاؤں کی ضرورت ہے Muhammad Sohail Abbas
ایسے ہی مجھ عاصی کو دعاؤں کی ضرورت ہے Muhammad Sohail Abbas
جا بے وفا ہو جا جا بے وفا ہو جا
تُو بھی زمانہ ہو جا
تب سے تو بہتر ہے
اب سے جدا ہو جا Muhammad Sohail Abbas
تُو بھی زمانہ ہو جا
تب سے تو بہتر ہے
اب سے جدا ہو جا Muhammad Sohail Abbas