Poetries by Shama Chaudhry
زمیں کی آگ بجھ جائے کہیں غضب ہے تیرگی بھی جل اُٹھی ہے اب
نظر میں اک نی ہلچل اُٹھی ہے اب
زمیں کی آگ بجھ جائے کہیں تو اب
گھٹا پاگل کوئی پل پل اُٹھی ہے اب
شجر جھو مے فضا مہکی ہوا بہکی
بہار آئی عجب ہل چل اُٹھی ہے اب
چھپا سکتا نہیں ہے دل کی دھڑکن وہ
نظر اس کی بڑی بے کل اُٹھی ہے اب
اُسی کو ہم نے چاہا جستجو بھی کی
مگر وہ آرزو بھی چل اُٹھی ہے اب Shama Chaudhry
نظر میں اک نی ہلچل اُٹھی ہے اب
زمیں کی آگ بجھ جائے کہیں تو اب
گھٹا پاگل کوئی پل پل اُٹھی ہے اب
شجر جھو مے فضا مہکی ہوا بہکی
بہار آئی عجب ہل چل اُٹھی ہے اب
چھپا سکتا نہیں ہے دل کی دھڑکن وہ
نظر اس کی بڑی بے کل اُٹھی ہے اب
اُسی کو ہم نے چاہا جستجو بھی کی
مگر وہ آرزو بھی چل اُٹھی ہے اب Shama Chaudhry
بظاہر پھول لگتے ہیں ہماری جستجو میں آج تک اہلِ نظر بھی ہیں
کسی محشر نما سے معجزے کے منتظر بھی ہیں
ہماری چاہ میں بہکے ہوئے باہوش دیوانے
ادائے دلبری جوشِ جنوں سے بے خبر بھی ہیں
ذرا محتاط ہی رہنا اگر گزرو چمن سے تم
بظاہر پھول لگتے ہیں کئی ایسے شرر بھی ہیں
جہاں آکر زمانے کے سبھی ہم غم بھلا تے ہیں
مرے دل میں محبت کے کئی ایسے نگر بھی ہیں
سرِ راہِ وفا بہکے ہوا احساس یہ ہم کو
ہمیں منزل ہمیں رستہ ہمیں شمس و قمر بھی ہیں Shama Chaudhry
کسی محشر نما سے معجزے کے منتظر بھی ہیں
ہماری چاہ میں بہکے ہوئے باہوش دیوانے
ادائے دلبری جوشِ جنوں سے بے خبر بھی ہیں
ذرا محتاط ہی رہنا اگر گزرو چمن سے تم
بظاہر پھول لگتے ہیں کئی ایسے شرر بھی ہیں
جہاں آکر زمانے کے سبھی ہم غم بھلا تے ہیں
مرے دل میں محبت کے کئی ایسے نگر بھی ہیں
سرِ راہِ وفا بہکے ہوا احساس یہ ہم کو
ہمیں منزل ہمیں رستہ ہمیں شمس و قمر بھی ہیں Shama Chaudhry
آنکھ میں آنسو نہیں چشمِ دل پرنم ہے لیکن آنکھ میں آنسو نہیں
درد کے ملبوس میں کیوں زخم کی خوشبو نہیں
گن گناتے تھے کبھی تو شامِ غم کے سائے بھی
اب اس ویراں نگر میں پہلے سا جادو نہیں
جذبِ دل جوش ہے نہ بے بسی میں ہوش ہے
مٹ چکے ہیں نقشِ ماضی میں نہیں اب تو نہیں
گردش دوراں سے پوچھوں زندگانی کا نشاں
آشنا سب سے یہ ہوتی زندگانی کی خو نہیں
شمع ہر لفظِ سخن مشعل ہو جیسے فکر کی
یہ ترا جلوہِ دل ہے ہاں مگر یہ تو نہیں
Shama Chaudhry
درد کے ملبوس میں کیوں زخم کی خوشبو نہیں
گن گناتے تھے کبھی تو شامِ غم کے سائے بھی
اب اس ویراں نگر میں پہلے سا جادو نہیں
جذبِ دل جوش ہے نہ بے بسی میں ہوش ہے
مٹ چکے ہیں نقشِ ماضی میں نہیں اب تو نہیں
گردش دوراں سے پوچھوں زندگانی کا نشاں
آشنا سب سے یہ ہوتی زندگانی کی خو نہیں
شمع ہر لفظِ سخن مشعل ہو جیسے فکر کی
یہ ترا جلوہِ دل ہے ہاں مگر یہ تو نہیں
Shama Chaudhry
آگ جب بجھنے لگی پھر سے ہوا دی ہم نے مشعلِ غم کو جلایا تو ضیا دی ہم نے
دل بجھا سا ہی رہا لُو تو بڑھا دی ہم نے
نہ غموں کو ہی کبھی ہم نے گنا پرکھا
ان خزانوں کو سدا دل میں جگہ دی ہم نے
یاد گر مٹنے لگی ہم نے صدا کو دی
آگ جب بجھنے لگی پھر سے ہوا دی ہم نے
مسکراہٹ کی بناوٹ میں چھپائے ہم نے غم
اس تبسم کو ستاروں کی قبا دی ہم نے
Shama Chaudhry
دل بجھا سا ہی رہا لُو تو بڑھا دی ہم نے
نہ غموں کو ہی کبھی ہم نے گنا پرکھا
ان خزانوں کو سدا دل میں جگہ دی ہم نے
یاد گر مٹنے لگی ہم نے صدا کو دی
آگ جب بجھنے لگی پھر سے ہوا دی ہم نے
مسکراہٹ کی بناوٹ میں چھپائے ہم نے غم
اس تبسم کو ستاروں کی قبا دی ہم نے
Shama Chaudhry
شمع ہم تو تھے جہاں سے ہی الگ ہم زمانے کے سدا نہ ہو سکے
پر زمانے سے جدا نہ ہو سکے
جو دلوں میں ہی فسانے رہ گئے
پھر زباں سے وہ ادا نہ ہو سکے
تھی عبادت تو فرشتوں کی طرح
وہ صنم ہر گز خدا نہ ہو سکے
ہم رہے ایسے نگاہوں میں تری
ہم محبت سے جدا نہ ہو سکے
شمع ہم تو تھے جہاں سے ہی الگ
ہم ستم کی ابتدا نہ ہو سکے Shama Chaudhry
پر زمانے سے جدا نہ ہو سکے
جو دلوں میں ہی فسانے رہ گئے
پھر زباں سے وہ ادا نہ ہو سکے
تھی عبادت تو فرشتوں کی طرح
وہ صنم ہر گز خدا نہ ہو سکے
ہم رہے ایسے نگاہوں میں تری
ہم محبت سے جدا نہ ہو سکے
شمع ہم تو تھے جہاں سے ہی الگ
ہم ستم کی ابتدا نہ ہو سکے Shama Chaudhry
نہ جانے اشک کیوں حسیں اک شام کے لمحے سجائے تھے کبھی اُس نے
عجب سے حشر کے منظر بنائے تھے کبھی اُس نے
وہ اس کا نرم سا لہجہ وہ کچھ دیدار کی شبنم
نظر کی آگ سے تن من جلائے تھے کبھی اُس نے
ابھی بھی یاد ہے اس کی نظر کا میکدہ مجھ کو
غضب کی پیاس تھی ساغر پلائے تھے کبھی اُس نے
گلابی رنگ تھا پلکوں کی جھالر سے جھلکتا سا
نہ جانے اشک کیوں مجھ سے چھپائے تھے کبھی اُس نے
یقیں کی شمع ایسے جلتی رہتی ہے میرے دل میں
چراغِ عشق جیسے جلائے تھے کبھی اُس نے
Shama Chaudhry
عجب سے حشر کے منظر بنائے تھے کبھی اُس نے
وہ اس کا نرم سا لہجہ وہ کچھ دیدار کی شبنم
نظر کی آگ سے تن من جلائے تھے کبھی اُس نے
ابھی بھی یاد ہے اس کی نظر کا میکدہ مجھ کو
غضب کی پیاس تھی ساغر پلائے تھے کبھی اُس نے
گلابی رنگ تھا پلکوں کی جھالر سے جھلکتا سا
نہ جانے اشک کیوں مجھ سے چھپائے تھے کبھی اُس نے
یقیں کی شمع ایسے جلتی رہتی ہے میرے دل میں
چراغِ عشق جیسے جلائے تھے کبھی اُس نے
Shama Chaudhry
راکھ دل کی کریدی شرارے ملے راکھ دل کی کریدی شرارے ملے
تیرگی میں ہمیں تو ستارے ملے
شورش آرزو نے کیا در بہ در
غم کی بانہوں میں ہم کو سہارے ملے
اس قدر دیرپا تھیں وفائیں مری
سب دلوں میں نشاں بھی ہمارے ملے
خود ہمیں نے انھیں بھی ڈبو ہی دیا
گردشوں میں کبھی جب کنارے ملے
ہر وضاحت ادھوری رہی گو تری
ان کی بات میں بھی اشارے ملے
Shama Chaudhry
تیرگی میں ہمیں تو ستارے ملے
شورش آرزو نے کیا در بہ در
غم کی بانہوں میں ہم کو سہارے ملے
اس قدر دیرپا تھیں وفائیں مری
سب دلوں میں نشاں بھی ہمارے ملے
خود ہمیں نے انھیں بھی ڈبو ہی دیا
گردشوں میں کبھی جب کنارے ملے
ہر وضاحت ادھوری رہی گو تری
ان کی بات میں بھی اشارے ملے
Shama Chaudhry
پہلی نظر دل پر جو پہلا وار محبت کی تیری دنیا میری آنکھوں میں بستی ہے
تیری محفل تصور کو سدا آباد رکھتی ہے
دریچے دل کی بستی کے دستک نے کھولے ہیں
تیرے آنے سے کِشتِ دل گل و گزار رہتی ہے
کہاں فرصت ملی ہم کو تیری یادوں کی محفل سے
تمہارے پیار کی خوشبو ہمارے ساتھ رہتی ہے
سنا ہے کہ اثر اُس کا کبھی زائل نہیں ہوتا
وہ اک پہلی نظر دل پر جو پہلا وار کرتی ہے
اُسے اتنا ہی کہنا ہے کہیں مجھ کو ملے گر وہ
تیرے دل کی ہی دھڑکن اب میرے دل میں دھڑکتی ہے
Shama Chaudhry
تیری محفل تصور کو سدا آباد رکھتی ہے
دریچے دل کی بستی کے دستک نے کھولے ہیں
تیرے آنے سے کِشتِ دل گل و گزار رہتی ہے
کہاں فرصت ملی ہم کو تیری یادوں کی محفل سے
تمہارے پیار کی خوشبو ہمارے ساتھ رہتی ہے
سنا ہے کہ اثر اُس کا کبھی زائل نہیں ہوتا
وہ اک پہلی نظر دل پر جو پہلا وار کرتی ہے
اُسے اتنا ہی کہنا ہے کہیں مجھ کو ملے گر وہ
تیرے دل کی ہی دھڑکن اب میرے دل میں دھڑکتی ہے
Shama Chaudhry
سلگتی شام کی یہ آتشِ خیال و خواب سے مہکی ہوئی یہ شام تیرے نام
نظر کے نور سے لبریز کتنے جام تیرے نام
یہ یادوں کی ہوا بھڑکا گئی بجھتے ہوئے شعلے
سلگتی شام کی یہ آتشِ بے نام تیرے نام
فسانہ میں ہوں تیرا یاد ہے اتنا مجھے لیکن
میرا آغاز بھی تو ہے میرا انجام تیرے نام
میں منزل پہ نہ پہنچوں گر مجھے اس کا نہیں ہے غم
جنوںِ شوق میں ہر ڈگمگاتا گام تیرے نام
سکوتِ شب کی صورت گونجتی ہوں تیری محفل میں
ہواؤں پر سدا لکھتی رہی پیغام تیرے نام
اُمیدِ وصل کے گو مرحلے تاریک ہی گزرے
جلائی شمع ہم نے ہجر میں ہر شام تیرے نام Shama Chaudhry
نظر کے نور سے لبریز کتنے جام تیرے نام
یہ یادوں کی ہوا بھڑکا گئی بجھتے ہوئے شعلے
سلگتی شام کی یہ آتشِ بے نام تیرے نام
فسانہ میں ہوں تیرا یاد ہے اتنا مجھے لیکن
میرا آغاز بھی تو ہے میرا انجام تیرے نام
میں منزل پہ نہ پہنچوں گر مجھے اس کا نہیں ہے غم
جنوںِ شوق میں ہر ڈگمگاتا گام تیرے نام
سکوتِ شب کی صورت گونجتی ہوں تیری محفل میں
ہواؤں پر سدا لکھتی رہی پیغام تیرے نام
اُمیدِ وصل کے گو مرحلے تاریک ہی گزرے
جلائی شمع ہم نے ہجر میں ہر شام تیرے نام Shama Chaudhry
دل کی دوا دے کے مجھے میری وفائیں اے خدا تو لا زوال کر دے
دنیائے حسن و عشق کو بے مثال کر دے
سن اے مسیحا میرے میرا مرض بڑھ نہ جائے
دل کی دوا دے کے مجھے دھڑکن بحال کر دے
اے چاند میرے دل کی محفل میں اتر آنا
ویراں کدے میں آکے پھر جشنِ و صال کر دے
چھانے لگے موسم سہانا جب تمھاری یاد کا
ہر تلخحی دوراں کو بھی نقشِ جمال کر دے
پرچم کبھی نہ سر نگوں کرنا محبتوں کا
تو بھی جیتے جی کوئی ایسا کمال کر دے Shama Chaudhry
دنیائے حسن و عشق کو بے مثال کر دے
سن اے مسیحا میرے میرا مرض بڑھ نہ جائے
دل کی دوا دے کے مجھے دھڑکن بحال کر دے
اے چاند میرے دل کی محفل میں اتر آنا
ویراں کدے میں آکے پھر جشنِ و صال کر دے
چھانے لگے موسم سہانا جب تمھاری یاد کا
ہر تلخحی دوراں کو بھی نقشِ جمال کر دے
پرچم کبھی نہ سر نگوں کرنا محبتوں کا
تو بھی جیتے جی کوئی ایسا کمال کر دے Shama Chaudhry
محبت میں شکایت ہے محبت میں شکایت ہے شکایت میں محبت ہے
نہیں جو رنگ لاتی یہ ایسی عبادت ہے
بڑی دلکش اداؤں سے ہمیں برباد کرتے ہیں
اسی معصوم عادت میں بڑی اعلی سیاست ہے
حکومت گو محبت کی دل کے جہاں پر ہے
ہزاروں آرزوؤں کی مگر پھر بھی بغاوت ہے
غموں کی دھوپ میں کملا گئیں گل پوش یادیں بھی
ملا داغِ خزاں ہم کو بہاروں کی شرارت ہے
تغافل جان کر ان کا سمجھ آگیا ہم کو
متاعِ غم لٹاتے ہیں یہی اُن کی سخاوت ہے Shama Chaudhry
نہیں جو رنگ لاتی یہ ایسی عبادت ہے
بڑی دلکش اداؤں سے ہمیں برباد کرتے ہیں
اسی معصوم عادت میں بڑی اعلی سیاست ہے
حکومت گو محبت کی دل کے جہاں پر ہے
ہزاروں آرزوؤں کی مگر پھر بھی بغاوت ہے
غموں کی دھوپ میں کملا گئیں گل پوش یادیں بھی
ملا داغِ خزاں ہم کو بہاروں کی شرارت ہے
تغافل جان کر ان کا سمجھ آگیا ہم کو
متاعِ غم لٹاتے ہیں یہی اُن کی سخاوت ہے Shama Chaudhry
ترے دل میں اثرتی جا رہی ہوں ترے دل میں اثرتی جا رہی ہوں
دل و جاں سے بھی گزری جا رہی ہوں
چھپالی ہے تری چاہت جو میں نے
عیاں نظروں سے کرتی جا رہی ہوں
پہن کر پیار کے رشتے تمہارے
ترے گہنوں سے سنوری جارہی ہوں
تری نظروں کی کرنیں چھو رہی ہیں
میں کندں بن کے چمکتی جارہی ہوں
تمہارے ہجر میں جلتا رہا دل
میں حالِ دل سناتی جا رہی ہوں
Shama Chaudhry
دل و جاں سے بھی گزری جا رہی ہوں
چھپالی ہے تری چاہت جو میں نے
عیاں نظروں سے کرتی جا رہی ہوں
پہن کر پیار کے رشتے تمہارے
ترے گہنوں سے سنوری جارہی ہوں
تری نظروں کی کرنیں چھو رہی ہیں
میں کندں بن کے چمکتی جارہی ہوں
تمہارے ہجر میں جلتا رہا دل
میں حالِ دل سناتی جا رہی ہوں
Shama Chaudhry
تیری آنکھوں میں تیری آنکھوں میں اک تحریر سی تھی
محبت کی عجب تفسیر سی تھی
گذری شام جو پہلو میں تیرے
سہانی شام وہ جاگیر سی تھی
بڑی پُر کیف تھی شب کی سیاہی
خموشی کی عجب تصوییر سی تھی
میرے بارے میں پوچھے کوئی تم سے
تو کہنا بس وہ کوئی ہیر سی تھی
بچھڑنے کا چلا تھا ذکر جب بھی
وہی تو بات اک دلگیر سی تھی Shama Chaudhry
محبت کی عجب تفسیر سی تھی
گذری شام جو پہلو میں تیرے
سہانی شام وہ جاگیر سی تھی
بڑی پُر کیف تھی شب کی سیاہی
خموشی کی عجب تصوییر سی تھی
میرے بارے میں پوچھے کوئی تم سے
تو کہنا بس وہ کوئی ہیر سی تھی
بچھڑنے کا چلا تھا ذکر جب بھی
وہی تو بات اک دلگیر سی تھی Shama Chaudhry
شمع ایسے جلتی رہتی ہے حسیں اک شام کے لمحے سجائے تھے کبھی اُس نے
عجب سے حشر کے منظر بنائے تھے کبھی اُس نے
وہ اُس کا نرم سا لہجہ وہ کچھ دیدار کی شبنم
نظر کی آگ سے تن من جلائے تھے کبھی اُس نے
ابھی بھی یاد ہے اُس نظر کا میکدہ مجھ کو
غضب کی پیاس تھی ساغر پلائے تھے کبھی اُس نے
گلابی رنگ تھا پلکوں کی جھالر سے جھلکتا سا
نہ جانے اشک کیوں مجھ سےچھپائےتھے کبھی اُس نے
یقیں کی شمع ایسے جلتی رہتی ہے مرے دل میں
چراغِ عشق جیسے جلائے تھے کبھی اُس نے Shama Chaudhry
عجب سے حشر کے منظر بنائے تھے کبھی اُس نے
وہ اُس کا نرم سا لہجہ وہ کچھ دیدار کی شبنم
نظر کی آگ سے تن من جلائے تھے کبھی اُس نے
ابھی بھی یاد ہے اُس نظر کا میکدہ مجھ کو
غضب کی پیاس تھی ساغر پلائے تھے کبھی اُس نے
گلابی رنگ تھا پلکوں کی جھالر سے جھلکتا سا
نہ جانے اشک کیوں مجھ سےچھپائےتھے کبھی اُس نے
یقیں کی شمع ایسے جلتی رہتی ہے مرے دل میں
چراغِ عشق جیسے جلائے تھے کبھی اُس نے Shama Chaudhry
شمع کے احساس کے شعلوں میں بن کے سایہ ساتھ تیرے اس طرح چلتی رہی
جس طرح تیری ہی منزل ہم سفر بنتی رہی
کسی طرح ہم خود محبت میں دل و جاں ہار گئے
ورقِ جاں پہ خوں سے یہ داستاں لکھتی رہی
رو برو جب تک رہا ہے پھول چہرہ ترا
فکر و فن کے زاویوں میں رنگ سے بھرتی رہی
یاد بن بن کر رگ و پے میں سرایت کر گئی
موجِ خوشبو کی طرح جو بھی صدا آتی رہی
کیوں نہ ہراک دل میں مَیں مشعل جلادوں پیار کی
شمع کے احساس کے شعلوں میں جو جلتی رہی Shama Chaudhry
جس طرح تیری ہی منزل ہم سفر بنتی رہی
کسی طرح ہم خود محبت میں دل و جاں ہار گئے
ورقِ جاں پہ خوں سے یہ داستاں لکھتی رہی
رو برو جب تک رہا ہے پھول چہرہ ترا
فکر و فن کے زاویوں میں رنگ سے بھرتی رہی
یاد بن بن کر رگ و پے میں سرایت کر گئی
موجِ خوشبو کی طرح جو بھی صدا آتی رہی
کیوں نہ ہراک دل میں مَیں مشعل جلادوں پیار کی
شمع کے احساس کے شعلوں میں جو جلتی رہی Shama Chaudhry
آسان سی مشکل ہوں میں روحِ رواں ہوں پیار کی میں جسم و جاں نہیں
نقشِ وفا اَنمٹ ہوں میں بے نشاں نہیں
سایہ سا تیرے ساتھ ہوں دل میں مچلتی لو ہوں
ہر سُو تُو مجھکو دیکھ لے میں کہاں نہیں
نہ آزمائش ہوں کڑی نہ راہ ہوں کٹھن
آسان سی مشکل ہوں میں کوئی امتحاں نہیں
خاموشیوں کے لب پہ ہوں مدہوش سا نغمہ
سوز و سرورِ ساز ہوں میں بے زباں نہیں
فصلِ جنوں کی رت ہوں میں دیوانگی بھی ہوں
بحرِ محبت میں کوئی موجِ نہاں نہیں Shama Chaudhry
نقشِ وفا اَنمٹ ہوں میں بے نشاں نہیں
سایہ سا تیرے ساتھ ہوں دل میں مچلتی لو ہوں
ہر سُو تُو مجھکو دیکھ لے میں کہاں نہیں
نہ آزمائش ہوں کڑی نہ راہ ہوں کٹھن
آسان سی مشکل ہوں میں کوئی امتحاں نہیں
خاموشیوں کے لب پہ ہوں مدہوش سا نغمہ
سوز و سرورِ ساز ہوں میں بے زباں نہیں
فصلِ جنوں کی رت ہوں میں دیوانگی بھی ہوں
بحرِ محبت میں کوئی موجِ نہاں نہیں Shama Chaudhry
شمع ہم کو راس آئے جشنِ ماضی جو وہ تجدیدِ الفت کر گئے
دل کی دنیا میں وہ برپا قیامت کر گئے
لوٹ کر گزرا ہوا جیسے زمانہ آ گیا
ہر پرانی بات کو زندہ حکایت کر گئے
منزلوں کو بھول کر ہم راستوں کو چھوڑ کر
دشتِ جاں سے تیرے دل تک طے مسافت کر گئے
چودھویں کی رات تھی اور تک رہا تھا چاند بھی
کس قدر وہ پیار سے عہدِ محبت کر گئے
شمع ہم کو راس آئے حادثات عشق یوں
ہوش نہ ہم کو رہا آغازِ افت کر گئے Shama Chaudhry
دل کی دنیا میں وہ برپا قیامت کر گئے
لوٹ کر گزرا ہوا جیسے زمانہ آ گیا
ہر پرانی بات کو زندہ حکایت کر گئے
منزلوں کو بھول کر ہم راستوں کو چھوڑ کر
دشتِ جاں سے تیرے دل تک طے مسافت کر گئے
چودھویں کی رات تھی اور تک رہا تھا چاند بھی
کس قدر وہ پیار سے عہدِ محبت کر گئے
شمع ہم کو راس آئے حادثات عشق یوں
ہوش نہ ہم کو رہا آغازِ افت کر گئے Shama Chaudhry
رقصاں ہوں ہواؤں میں ہتھیلی پر دِیا ہے محوِ رقصاں ہوں ہواؤں میں
مجھے پروان چڑھنا ہے قیامت کی فضاؤں میں
چمکتے چاند نے مجھ کو بتاہیں راز باتیں
بہت ٹوٹے ہوئے تارے ملے ہیں کہکشاؤں میں
شکستہ حال ہوں لیکن تیری نظرِ عنایت سے
مہک اٹھتی ہوں مثلِ گل محبت کی اداؤں میں
کبھی تم سے جدا ہو کر سکونِ دل نہیں پایا
عجب تسکین سی ہم کو ملی لیکن سزاؤں میں
بنانا ہے تمہیں گر آشیاں کیوں سوچتے ہو
کئی طوفان ہیں مچلے ہوئے ظالم گھٹاؤں میں
Shama Chaudhry
مجھے پروان چڑھنا ہے قیامت کی فضاؤں میں
چمکتے چاند نے مجھ کو بتاہیں راز باتیں
بہت ٹوٹے ہوئے تارے ملے ہیں کہکشاؤں میں
شکستہ حال ہوں لیکن تیری نظرِ عنایت سے
مہک اٹھتی ہوں مثلِ گل محبت کی اداؤں میں
کبھی تم سے جدا ہو کر سکونِ دل نہیں پایا
عجب تسکین سی ہم کو ملی لیکن سزاؤں میں
بنانا ہے تمہیں گر آشیاں کیوں سوچتے ہو
کئی طوفان ہیں مچلے ہوئے ظالم گھٹاؤں میں
Shama Chaudhry
شرابی رت کو صنم شرابی رت کو صنم یوں نہ آج تڑپاؤ
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ
سرور کیفِ جہاں ہے تیری نگاہوں میں
بہک نہ جائیں صنم آکے تیری بانہوں میں
مچلنے دو میرے دل کو نہ تم قریب آو
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ
تمہارے جلوہء گل فام کی قسم جاناں
لبوں کے رس سے بھرے جام کی قسم جاناں
ہمارے دل کو ذرا دیر آج بہلاؤ
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ
بہارِ دل پہ عجب بے خودی سی چھائی ہے
گھٹا بھی جھوم کے دیکھو زمیں پہ آئی ہے
دھڑکتے دل کے حسیں ساز پہ ذرا گاؤ
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ Shama Chaudhry
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ
سرور کیفِ جہاں ہے تیری نگاہوں میں
بہک نہ جائیں صنم آکے تیری بانہوں میں
مچلنے دو میرے دل کو نہ تم قریب آو
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ
تمہارے جلوہء گل فام کی قسم جاناں
لبوں کے رس سے بھرے جام کی قسم جاناں
ہمارے دل کو ذرا دیر آج بہلاؤ
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ
بہارِ دل پہ عجب بے خودی سی چھائی ہے
گھٹا بھی جھوم کے دیکھو زمیں پہ آئی ہے
دھڑکتے دل کے حسیں ساز پہ ذرا گاؤ
اٹھا کے پلکیں ذرا مے کا نور برساؤ Shama Chaudhry