چار ہزار کلو میٹر کی سائیکل ریس، جرمن خاتون نے تاریخ رقم کر دی  

 

برلن: جرمن کی ایک کینسر ریسرچر خاتون نے 4 ہزار کلو میٹر کی سائیکل ریس میں مردوں کی بڑی تعداد سمیت 264 افراد کو شکست دیکر نئی تاریخ رقم کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کی 24 سالہ کینسر ریسرچر فیونا کولبنگر نے سائیکل ریس میں 200 مردوں اور مجموعی طور پر 264 افراد کو شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ فیونا کولبنگر یورپ میں ہونے والی ’ٹرانس کانٹی نینٹل سائیکل ریس‘ جیتنے والی پہلی خاتون بن گئیں۔
ٹرانس کانٹی نینٹل سائیکل ریس کے مطابق خاتون سائیکل سوار نے 10 دن تک جاری ریس میں سب کو پیچھے چھوڑ کر نئی تاریخ رقم کردی۔ ریس بلغاریہ سے شروع ہوئی اور یورپ کے سب سے بڑے ملک فرانس میں ختم ہوئی۔ اس ریس کے دوران سائیکل سوار خاتون آٹھ یورپی ممالک سے ہوتی ہوئی فرانس پہنچی۔
جن آٹھ ممالک سے یہ سائیکل سوار گزری ان میں ممالک میں بلغاریہ، آسٹریا، بوسنیا، کروشیا، اٹلی، کوسووو، سربیا، سلوینیا اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ ریس کا فاصلہ انہوں نے 10 دن 2 گھنٹے 48 منٹ میں طے کیا۔
ریس میں شامل ہونے والے افراد کو پہلے سے آخری ملک تک پہنچنے کےلیے مرضی کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، تاہم مرضی کے راستے اختیار کرنے کے باوجود ریس کے قواعد پر چلنا پڑتا ہے۔ ریس میں شامل بعض افراد شارٹ کٹ راستے بھی اختیار کرتے ہیں تاہم کچھ شارٹ کٹ اختیار کرنے کے چکر میں خود کو طویل راستے پر پاتے ہیں۔
ریس کا فاصلہ 4 ہزار کلو میٹر سے کم اور زیادہ بھی ہوسکتا ہے، تاہم مقابلہ جیتنے والی خاتون نے ریس کو 4 ہزار کلو میٹر پر ختم کیا۔
جہاں فیونا کولبنگر ریس کو جیتنے والی پہلی خاتون ہیں وہیں وہ اس ریس میں زیادہ کلو میٹر کا سفر کرنے والی بھی دوسری شخصیت ہیں۔ اس سے قبل اسی ریس کو 2016 میں جیتنے والے شخص نے سب سے زیادہ یعنی ساڑھے 4 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔ فیونا کولبنگر سمیت ریس میں 64 خواتین شامل تھیں جبکہ ریس میں 200 مرد بھی شامل تھے۔
ریس جیتنے کے بعد فیونا کولبنگر کا کہنا تھا کہ شروع میں مجھے اندازہ تو تھا کہ خواتین سے آگے نکل جائینگی تاہم یقین نہیں تھا کہ ریس کی فاتح بنوں گی۔ ریس کو 2013ء سے منعقد کیا جا رہا ہے اور پہلی بار اس ریس کو کسی خاتون نے جیتا ہے۔
ریس کو ابتدائی طور پر لندن سے استنبول تک منعقد کیا جاتا تھا یہ سلسلہ ابتدائی 2 سال تک جاری رہا، پھر اس روس کو بلغاریہ کے دارالحکومت سے ترکی تک منعقد کیا گیا اور یہ سلسلہ بھی 2016 تک رہا۔ ریس کو 2017 سے 2018 کے درمیان بلغاریہ سے شروع کر کے یونان تک ختم کیا گیا اور اب ریس کو بلغاریہ سے فرانس تک منعقد کیا گیا۔ شرکاء نے ایک سے دوسرے ملک تک پہنچنے کے لیے ایک دن کا سفر کیا۔
News source : daily jinnah

YOU MAY ALSO LIKE :