ریاض کی فارمولا ریس میں خاص کیا ہے؟  

ریاض کے قریب درعیہ کے تاریخی علاقے میں فارمولا ای گراں پری چیمپئن شپ سیزن 6 کی ریس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ ریس 22 اور 23 نومبر کو ہو گی۔
یہ دنیا کی سب سے بڑی آل الیکٹرک موٹرسپورٹ سیریز ہے جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ قابل تجدید طاقت اور برقی گاڑیوں کی ترقی میں بڑے پیمانے پر حصہ لے رہی ہے۔
سعودی خاتون ڈرائیور ریما جفالی درعیہ ای پریکس میں حصہ لے کر بین الاقوامی فارمولا کار ریس میں پہلی سعودی خاتون کی حیثیت سے تاریخ رقم کر رہی ہیں ۔
ریاض کے قریب درعیہ کے تاریخی علاقے میں فارمولا ای گراں پری چیمپئن شپ سیزن 6 کی ریس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ ریس 22 اور 23 نومبر کو ہو گی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی آل الیکٹرک موٹرسپورٹ سیریز ہے جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ قابل تجدید طاقت اور برقی گاڑیوں کی ترقی میں بڑے پیمانے پر حصہ لے رہی ہے۔ سعودی خاتون ڈرائیور ریما جفالی درعیہ ای پریکس میں حصہ لے کر بین الاقوامی فارمولا کار ریس میں پہلی سعودی خاتون کی حیثیت سے تاریخ رقم کر رہی ہیں ۔
سعودی وژن 2030 کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکٹرک کاروں کی یہ ریس تاریخی اقدامات کی انوکھی مثال ہے۔ اے بی بی ایف آئی اے فارمولا ای اور سعودی عرب کی جنرل سپورٹس اتھارٹی اور سعودی عرب موٹر کے مابین 10 سال کے معاہدے کا یہ دوسرا ایونٹ ہے۔
فیڈریشن (ایس اے ایم ایف) اور پروموٹر سی بی ایکس کے ذریعے اس کا دوبارہ انعقاد عمل میں آرہا ہے۔

رواں سال پہلی بار ہوگا جب ڈرائیوروں کو اٹیک موڈ کا استعمال کرتے وقت 10 کلو واٹ اضافی طاقت دستیاب ہوگی، جو 225 کلو واٹ سے بڑھ کر 235 کلو واٹ ہوجائے گی۔ اس ریس کا انعقاد ایک ٹریک پر کیا جا رہا ہے جس کی پیمائش 1.76 میل (2.83 کلومیٹر) ہے۔ اس میں 21 موڑ رکھے گئے ہیں، یہ ایسا ٹریک ہے جسے یونیسکو کے ثقافتی ورثہ کی حیثیت حاصل ہے۔
اس سلسلے میں سیاحوں کے لیے درعیہ کے قریب ضلع طریف میں بین الاقوامی اصولوں کے تحت ایسی جگہ بنائی گئی ہے۔ اس میں ہزاروں درخت مزید لگائے گئے ہیں، پکنک سپاٹ کے علاوہ پیدل راستے اور پگڈنڈیاں بھی بنائی گئی ہیں۔
اس پروگرام کے ذریعے دیگر کھیل، موسیقی، تفریح اور ثقافت کو ایک ساتھ جوڑدیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی تاریخ میں یہ دلچسپ اور خوبصورت موقع ہے، یہ ریس ریاض کے مضافات میں یونیسکو کی جانب سے ورثہ کا درجہ دیئے جانے والے مقام پر منعقد ہو رہی ہے۔
News Source: Urdu News

YOU MAY ALSO LIKE :