’بول‘کی بولتی بند۔ آزادئ صحافت کے عالمی دن پر پیمراکا تحفہ

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

دنیا 3مئی کو’آزادئ صحافت کا عالمی دن‘ منارہی تھی ہمارے ملک میں عین اُسی دن پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (MEMRA)نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں لبیک پرائیویٹ کے ڈائریکٹر شعیب شیخ، عائشہ شیخ، وقاص عتیق اور ثروت بشیر کی سیکورٹی کلیرنس مسترد ہونے کی بنا پر کمپنی کے سیٹلائٹ لائسنسز ’بول نیوز اور بول انٹر ٹینمنٹ(پاک نیوز) منسوخ کرتے ہوئے انہیں اپنی نشریات بند کرنے کا حکم دیا گیا۔تین مئی کو پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے آزاد�ئ صحافت کے ترانے گائے، مجھ سمیت کالم نگاروں نے اس موضوع پر کالم لکھے، ٹی وی پر ٹاک شوز ہوئے جس میں آزاد صحافت کو ملک و قوم کے لیے سہان روح قرار دیا گیا ۔ اس کے فوائدسے آگاہ کیا گیا ، ادھر ہمارے بہ اختیار اداروں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ہم یہ نوٹس کس دن جاری کررہے ہیں۔ جو سرکلر جاری کیا گیا اس پر 3مئی کی تاریخ درج ہے ۔ اس دن تو عام تعطیل تھی لیکن پیمرا کے افسران کو نہیں معلوم ایسی کونسی اجلت نے آگھیرا تھا کہ انہوں نے چھٹی والے دن سرکاری آفس کو کھولا ، جب کے اس دن عام تعطیل تھی۔ اگر متعلقہ کمپنی کے لوگوں کی سیکوریٹی کلیرنس مسترد بھی ہوگئی تھی ، تب بھی پیمرا کے ذمہ داران کو عین اسی دن یہ احکامات جاری نہیں کرنے کی کیا جلدی تھی۔ بول ٹی وی کی نشریات شروع ہوئے چھ ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں ، کیا اس ادارے کے ذمہ داران بغیر کلیرنس کے اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے تھے یا پھر ان کے خلاف اچانک کوئی ایسا فعل سامنے آگیا جس کی وجہ سے پیمرا کے حکام نے ضروری جانا کہ بول کی بندش کے احکامات چھٹی ہونے کے باوجود دفتر کھول کرجاری کردیے جائیں۔ یہ منطق سمجھ سے بالا اور کسی انتقامی کاروائی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

پیمرا کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پیمرا اتھارٹی کا131 واں اجلاس منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں اتھارٹی کے ارکان نے پیمرا شکایت کونسل سندھ کی سفارش کی روشنی میں مذکورہ فیصلے کی منظوری دی ۔ اس اجلاس میں شریک اراکین میں ممبرسندھ سرفراز خان جتوئی، ممبر خیبر پختونخواہ شاہین حبیب خان، ممبر پنجاب نرگس ناصر، وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات سردار احمد نواز سکھیرا ، چیئ مین پی ٹی اے ڈاکٹر سید اسماعیل شاہ شامل تھے ۔ اجلاس کی صدارت پیمرا کے چیئ مین صحافی ابصار عالم نے کی۔’ شکایت کونسل سندھ ‘کونسی ہے، کہاں ہے اس نے بول کے بارے میں کیا شکایت کی، ایسی کونسی وجہ فوری سامنے آگئی کے پیمرا کو فوری اور سخت احکامات جاری کرنا پڑے۔یہی نہیں بلکہ پیمرا بول کو نوٹس جاری کر نے کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ اداروں کیبل آپریٹرز کو بھی فوری طور پر احکامات جاری کیے کہ بول کی نشریات فوری طور پر بند کردی جائیں۔یقیناًپیمرا کے احکامات کی روشنی میں بول ٹی وی کی نشریات رات 12 بجے کے بعد سے بند ہوجائیں گی لیکن یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ آپ نے موقع دیے بغیر ، ادارے کے خلاف جو شکایت تھیں انہیں بتائے بغیر نشریات کی بندش کر دی ،کیا قانون اس کی اجاذت دیتا ہے۔ یقیناًجیسا کہ پہلے بھی بول کے ساتھ یہ ہوچکا ، اس کے ایک پروگرام کی بندش ہوئی ، معاملہ عدالت میں گیا اور وہ پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پھر سے شروع کردیا گیا۔ بول ٹی وی اور شعیب شیخ کا ادارہ پہلے بھی گرفت میں آچکا ہے اور عدالت کے حکم پر ہی اسے جاری و ساری رہنے کی اجازت دی گئی۔اب بھی یقیناًایسا ہوگا ، معاملہ عدالت میں جائے گا ۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔ پیمرا کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس تو ضروری ہے لیکن کسی بھی اقدام کو حتمی شکل دینے سے قبل اس کے قانونی تقاضے اور اخلاقی ضروریات کو پورا کرنا ضروری ہونا چاہیے۔ پیمرا کے عمل سے ظاہر ہورہا ہے کہ معاملاا نصاف پر مبنی نہیں۔ پیمرا کی نظر میں تمام چینل برابر ہونے چاہیں ، اگر دو چینل آپس میں لڑتے ہیں، ایک دوسرے پر قانون اور اخلاق کی حدودمیں رہتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں، بھپتی کستے ہیں، جملے کسے جاتے ہیں ، ایک دوسرے کو نیلا پیلا کہتاہے تو دوسرے اسے سرخ وسفید کہہ رہا ہوتا ہے، اسی طرح تجزیہ نگار، کالم نگار، اینکرپرسنز ایک دوسرے کو کسی نام سے مخاطب کرتے ہیں تو اس میں پیمرا کا کوئی کردار نظر نہیں آتا البتہ کوئی بھی قانون اور اخلاقیات کی حدود کراس کرے تو پیمرا ضرور اس کے خلاف اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق کاروائی کرے۔بہ ظاہر یہ نیلے پیلے اور سرخ و سفید کی لڑائی معلوم ہوتی ہے۔جس میں پیمرا نے اپنی شمولیت کو ضروری سمجھتے ہوئے کاروائی کر ڈالی جو نہیں ہونی چاہیے تھی۔بول چینل سے اختلاف اپنی جگہ کم از کم اس میں کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین کے بارے میں تو سوچ لینا چاہیے کہ ان کا کیا بنے گا۔ بول کوئی ایسی خلاف اسلام، خلاف پاکستان یا غیر اخلاقی فعل کا مرتکب نہیں ہورہا تھا کہ اس کے خلاف اجلت میں کاروائی ضروری سمجھی گئی۔

صحافت(پرنٹ و الیکڑانک میڈیا) کے پیشے کو کسی بھی ملک کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے اس پیشے کی اہمیت اور قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں جب سے میڈیا آزاد ہوا ہے اس شعبے کی اہمیت زیادہ ہوگئی ہے۔ خاص طور پر پرنٹ میڈیا سب پر حاوی نظر آتا ہے۔ میڈیا کی آزادی سے ایک جانب تو بے شمار فوائد ہوئے تو دوسری جانب آزاد میڈیا کے منفی اثرات بھی بے شمار سامنے آئے ہیں۔ برقی میڈیا(الیکٹرانک میڈیا)پاکستان میں آزاد کیا ہو ا، فہاشی، عریانیت، بے حیائی کا کھلے عام دور دورہ ہوگیا۔ جس چینل کا جی چاہتا ہے ڈراموں، اشتہاروں کے نام سے فحش،عریاں اور بے حیا قسم کے سین شامل کرکے کھلے عام دکھاتا ہے۔ نہیں معلوم اس عریانیت اور فہاشی سے کونسی خدمت وہ کرنا چاہتے ہیں۔ برقی میڈیا کی ا س بے مہار آزادی نے گھر گھر داخل ہوکر مشرقی روایات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ حکومت چین کی بانسری بجارہی ہے۔پیمرا کی توجہ اس جانب نہیں جاتی کہ ٹی وی چینلز کیا کررہے ہیں، کیا دکھارہے ہیں انہیں اس کی پروا نہیں۔ اس پرکئی قلم کاروں نے لکھا، حکام بالا کی توجہ اس جانب دلائی، اخبارات نے فہاشی پر مبنی ڈراموں کی تصویریں بھی شائع کیں لیکن حکومتی مشینری بشمول پیمرا کی آنکھوں پر بے حسی کی پٹی بندھی ہے کہ انہیں کچھ نظر ہی نہیں آرہا۔ کیا ہماری مشرقی روایات یہیں ہیں جوہم ٹی وی اسکرین پر ڈراموں میں اور اشتہاروں میں دکھ رہے ہیں۔ٹاک شو ز میں جس قسم کی گفتگو ہمارے اکثر سیاست داں کرتے ہیں وہ انہیں ذیب دیتی ہے۔ کیا ہمارا مذہب ہمیں یہی درس دیتا ہے، ایک دوسرے پر کھلم کھلا تنقید تو دور کی بات ایسے ایسے جملے اور فقرے استعمال کیے جارہے ہیں کہ جنہیں سن کر تکلیف ہوتی ہے۔خواتین کا احترام تو دور کی بات انتہائی بیہودہ گفتگو ،گالم گلوچ تک کی نوبت آچکی ہے۔ کیا کررہا ہے پیمرا، ابصار عالم صاحب کو یہ نظر نہیں آرہا ، ٹی وی پر گالم گلوچ کرنے والوں یا خواتین کے بارے میں نازیبہ الفاظ استعمال کرنے پر کبھی کسی کے خلاف کوئی ایکشن ہوا۔پاناما لیکس کا فیصلہ، ڈان لیکس کی رپورٹ اور اس پر عمل درآمد، عسکری اداروں کے تحفظات کا شور ابھی جاری ہی تھا کہ پیمرا نے ایک نیا شوشا چھوڑ کر لوگوں کو اس جانب متوجہ کردیا ہے کہیں یہ سوچی سمجھی ڈان لیکس کی طرح پلانٹڈ اسٹوری تو نہیں۔ اگرایسا ہے تو بہت غلط اور برا ہے۔ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرہ کار اور حدود میں رہتے ہوئے ، قانون اور اخلاقیات پر عمل پیرا رہنا چاہیے ۔ صحافت سے جڑے لوگوں کو ، اداروں کو اس بات کا زیادہ خیال اور احساس ہونا چاہیے۔ چیئ مین پیمرا بھی ایک صحافی تھے، ہیں اور جوں ہی حکومت تبدیل ہوئی وہ پھر سے صحافی ہوکر رہ جائیں گے یہ ضروری بھی نہیں لمحہ موجود میں کسی بھی وقت انہوں نے حکومت کی مرضی کے خلاف کوئی عمل کردیا تو انہیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بڑے میاں صاحب قربانی دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ ان کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کو سامنے رکھیں۔ وہ قربت والوں کو قربان کردیتے ہیں بیروکریٹ کی تو حیثیت ہی کیا ہے(5مئی2017)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 752 Articles with 639464 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
04 May, 2017 Views: 480

Comments

آپ کی رائے