عوام کا ہتھیار

(Asma Tariq, Gujrat)
دنیا کے ہر کھیل میں ایک ہتھیار (ٹول) ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ کھیل کھیلا جاتا ہے اور سیاست وہ کھیل ہے جہاں وہ ہتھیار دوسرا انسان ہے جس کے ذریعے سارا کھیل کھیلا جاتا ہے اور جیتا جاتا ہے کوئی بھی سیاست دان اس انسانی ہتھیار کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے ۔ عام الفاظ میں اس ہتھیار کو عوام کہتے ہیں جو ان سیاست دانوں کی تقدیر پلٹ سکتی ہے۔ اس لیے پوری کوشش کی جاتی ہے کہ یہ عوام دماغ سے پیدل ہی رہے اور دماغ کو استعمال نہ کر پائے اس مقصد کےلیے ایسے حربے استعمال کیے جاتے جس سے عوام کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے اور انہیں اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔جو جتنا اس کام میں ماہر ہوتا ہے وہ اتنا کامیاب ۔ہمارے ہاں تو اس کی مثالیں آئے دن ملتی رہتی ہیں کہ کیسے ایک شخص اوپر بیٹھ کر ڈبی ہلاتا ہے اور عوام کی بڑی تعداد صم بکم کی تصویر بنے اس پر کرتب دکھاتی رہتی ہے ۔ سیاست کا یہ کھیل بندر کے کھیل سے زیادہ دلچسپ ہوتا ہے عوام کا بندر سیاست کے مداری کے کنڑول میں ہوتا ہے وہ اس سے اپنے من پسند کرتب دکھاتا ہے ۔

پچھلے دنوں سیاست اور فوج پر بڑی بحث چل رہی تھی اور ہماری قوم تو ہے ہی عقیدت مند ۔۔ جس سے عقیدت رکھتی ہے پھر جان کی پروا بھی بھول جاتی ہے مگر آج کے دور میں اتنی عقیدت بھی اچھی نہیں ہوتی ۔ سب بحث و مباحثے کو چھوڑ کر اگر دیکھا جائے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ ہمارا مسئلہ سیاست یا فوج نہیں سوچ ہے اور یہ سوچ ہمیں آنکھیں کھولنے نہیں دیتی ۔اس نے ہمیں تقریبا اندھا کر دیا ہے ہم عجیب پجاری لوگ ہیں جسے مانے گیں پھر اندھا دھند اس کی تقلید کریں گے چاہے وہ ہمیں مار ہی کیوں نہ دے۔ سیاست ہو مذہب ہو یا کوئی اور معاملہ ہو ہم ہر جگہ آنکھیں بند کر چلتے ہیں بس جو ہمارے ماننے والے نے کہہ دیا بس کہہ دیا اب ہمارے سوچنے کا کیا کام ۔ہمارے سیاست دان نے یہ کہا ہے اب تو یہ برحق ہو گیا۔ ہماری تو پچھلی سات نسلیں بھی ان کی پجاری تھیں اور آنے والی سات بھی انشاءاللہ رہیں گی ۔

ہم سمجھتے نہیں ہیں کہ ہر ایک جگہ اچھائی بھی ہوتی ہے اور برائی بھی یہ تو کوئی بات نہیں کہ آپ اچھائی گنواتے رہیں اور برائی پر آنکھیں بند کر لیں ۔ یہاں آپ کو اپنا دماغ استعمال کرنا ہوتا ہے اور سوچنا سمجھنا ہوتا ہے کسی کے کہنے پر کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے لاکھ بار سوچیں اور پھر فیصلہ کریں۔ اندھی تقلید اب بند ہونی چاہیے ،مانے سب کی مگر سوچ سمجھ کر ۔

اپوزیشن کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور بجٹ بھی پیش ہوا اچھا یا برا یہ تو بعد کی بات۔ عوام ایسے ہی کڑ رہی ہے کوئی اپنے آقاؤں کے جانے پر دکھی تو کوئی اپنے آقاؤں کی فتح پر جشن منا رہا ۔ حالانکہ یہ سب سیاست اور سیاست کے سوا کچھ نہیں ،کیا پتا یہ گرفتاریاں حکومت کو کتنا نقصان پہنچائیں اور کیا پتا بجٹ کےلیے سب کچھ کیا گیا ہو ۔جو بھی ہے مگر ایک چیز طے ہونی چاہیے اور عوام بنی کا بکرا نہیں بننی چاہیے مگر یہی تو سیاست ہے ۔

یہ بہت اچھی بات ہے کہ کرپٹ لوگ پکڑے جارہے ہیں اور پکڑے جانے چاہیے مگر اس وقت بڑا مسئلہ وہ نہیں ہے اس وقت بڑا اور اصل مسئلہ معیشت ہے جس پر توجہ درکار ہے ۔ اسلیے اپنے سیاسی دائروں سے نکل کر ہم کو اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔ جشن منانے والو یہ گرفتاریاں نیب نے کی ہیں، عمران خان نے نہیں اسلیے حوصلہ کیجئے اور سمجھیئے کہ گرفتاریاں عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتی ، ان سے تو جو لوٹا مال ملنا ہے وہ ابھی بہت ٹائم لے گا پتا نہیں ملنا بھی ہے کہ نہیں ۔

مدعے کی بات یہ ہے کہ عوام میں نہ عمران خان کے چمچوں کو کچھ ملنا اور نہ اپوزیشن کے یہ سب تو سیاست کرتے رہیں گے اور سیاست ہوتی رہے گی اور عوام استعمال ہوتی رہے گی
جسے سمجھنا ہے کہ اب اسے کسی کے کہنے پر نہ سڑکوں پر نکلنا ہے ۔۔
نہ تفرقہ پھیلانا ہے ۔۔۔
نہ نفرت بھرے جذبات ۔۔۔۔
نہ کسی کو نیچا دکھانا ہے ۔۔۔
جو جس کو مانتے ہیں ، مانے سو بار مانے مگر اسے
جان کو روگ نہ بنائیں۔ جب ملک و قوم کی بہتری کی بات آئے تو خدا کےلیے سب نیوٹرل ہو جایا کریں بھول جایا کریں کہ کون کس پارٹی کا ہے اور کون کس کا ۔مل جایا کریں ایک ہو جایا کریں اور ان اوپر والے آقاؤں کی ہر بات میں آنا چھوڑ دیں ۔

اپنا دماغ استعمال کریں خود سوچیں اور سمجھیں جس دن آپ نے ان کی باتوں میں آنا چھوڑ دیا دیکھیے گا کیسے سب کے سب بدلتے بس عوام کے ہتھیار کو سنبھلنے کی ضرور ہے ۔ عام بندے کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ اپنا کام صحیح سے کرتا رہے یوں سڑکوں پر آنے اور ایک دوسرے کے خلاف رولا پانے سے کچھ ملا ہے نہ اور نہ ملنا ہے ۔ مل کر ساتھ چلنے میں ہی بہتری ہے ، عوام کے مل کر چلنے میں ہی اصل طاقت ہے ۔۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ نہ عمران خان آپ کا تایا زاد اور نہ زرداری اور حمزہ اور نہ کوئی اور پھر ان کی خاطر لڑنا مرنا کیوں۔ ہماری جانیں اتنی سستی ہیں کیا کہ ان پر یونہی قربان کر دی جائیں ۔اپنی سیاسی پسند ضرور رکھیں اس پر بات چیت بھی کریں

اپنے نظریات بھی پیش کریں سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بھی بنئیے مگر اسے جان کا عذاب نہ بنائیں ۔۔۔

 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 91 Print Article Print
About the Author: Asma Tariq

Read More Articles by Asma Tariq: 81 Articles with 21284 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: