سرفراز احمد ذہنی طور پر بزدل اور خوف کا شکار کپتان ہیں

اسلام آباد/لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)16جون کی صبح ورلڈ کپ کا سب سے بڑا معرکہ ہونے والا تھا۔ سکہ اچھا لا گیا۔ قرعہ پاکستان کے حق میں نکلا۔ اس بڑے میچ میں ٹاس ہمیشہ اہم ہوتا ہے۔ ٹاس ہارنے والا کپتان آدھی ہمت بھی ہار جاتا ہے۔ لیکن ویرات کوہلی کی قسمت شاید ان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑی ہوئی تھی۔ ٹا س ہار کر بھی وہی ہوا جو وہ چاہتے تھے۔ انھوںنے برملا کہا کہ وہ ٹاس جیت کر بھی پہلے بیٹنگ ہی کرتے۔ یہی بات پاکستا ن اور آسٹریلیا کے درمیان میچ میں آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے بھی کہی تھی کہ ٹاس جیت جاتا تو پہلے بیٹنگ ہی کرتا۔ لیکن سرفراز احمد نے ان دونوں کپتانوں کی یہ مشکل خود ہی آسان کردی۔پہلے تو یہ دیکھا جانا چاہیے کہ فنچ اور کوہلی پہلے بیٹنگ میں ہی کیوں دلچسپی رکھتے تھے۔ پوری دنیا اس حقیقت کو بخوبی جان چکی ہے کہ پاکستانی ٹیم کو دبائو میں لانے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ پہلے بیٹنگ کرکے ایک بڑا ہدف مقرر کر دیا جائے۔کیونکہ پاکستانی ٹیم کی سنہری تاریخ گواہ ہے کہ ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم اپنا قدرتی کھیل پیش کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔پاکستانی بلے باز نفسیاتی مریضوں اور بزدلوں کی طرح حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی پر مجبور ہوجاتے ہیں اور انھیں آئوٹ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ شاید نوجوان لوگوں کو یہ بات سننے میں عجیب لگے لیکن جو لوگ کئی دہائیوں سے کرکٹ دیکھ رہےہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ بڑا ہدف تو درکنار پاکستانی ٹیم ایک متوسط یا اس سے بھی کم درجے کے ہدف کے تعاقب میں مشکلات میں گھر جاتی ہے۔ شاید آپ یقین نہیں کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ 1987میں پاکستانی ٹیم بھارت کی جانب سے دیے گئے 126رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھی صرف 87رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ غالباً آج بھی یہ کم ترین ہدف ہے جو حاصل نہیں کیا سکا تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وکٹ میں بالروں کےلئے ایسا کون سا خزانہ چھپا ہوا تھا جو صر ف سرفراز کو ہی دکھائی دے رہا تھا اور حریف کپتانو ں کو دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بالروں نے پہلے گیند بازی کرکے ایسے کون سے تیر مار لیے۔ آسٹریلیا نے پہلے کھیل کر 307رنز بنالیے تھے اور بھارت نے 336رنز بنالیے۔ 300پلس کے ان اہداف کا نتیجہ پاکستانی بیٹنگ لائن اپ پر دونوںمیچوں میں پڑنے والے دبائو کی صورت میں نکلا ۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم 45ویں اوور میں ڈھیر ہوگئی اور بھارت کے خلاف میچ میں اگر بارش نہ ہوتی تو اس بات کے قوی امکانات موجود تھے کہ قومی ٹیم پورے پچاس اوورز کھیلے بغیر آئوٹ ہوجاتی۔اب بھارت اور آسٹریلیا سے بھی پہلے کے ایک میچ کی طرف چلے جاتے ہیں جو انگلینڈ کے خلاف تھا۔پاکستان کی خوش قسمتی سے سرفراز ٹاس ہار گئے تھے اور انگلش کپتان کی قسمت پھوٹی تھی کہ وہ پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے بیٹھے۔ پاکستانی بلے بازوں نے بڑی دلیری کے ساتھ اور جارحانہ انداز اپناتے ہوئے بہترین بلے بازی کی اور 348رنز کا مجموعہ بنا ڈالا۔ بھلے ہی انگلش ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں جان لڑا دی لیکن انگلینڈ کو شکست ہوگئی۔ جیت جیت ہی ہوتی ہے۔دو بلے بازوں کی سنچری کے باوجود انگلینڈ کی 14رنز سے شکست کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے بالروں نے انگلش بالروں سے بہتر گیندبازی کی۔اور ان سے کم ہی رنز کھائے۔اب 2017کی چیمپئینز ٹرافی کے فائنل کی طرف چلے جائیں جہاں ویرات کوہلی پاکستان کو پہلے بیٹنگ کروانے کی غلطی کربیٹھے۔ اس میچ میں پاکستانی بلے بازوں نے مردانگی اور بلند ہمتی سے بلے بازی کی اور 338رنز کا مجموعہ کر ڈالا تھا۔ اب یہاں سے شروع ہونے والا نکتہ بڑا دلچسپ ہے۔ پاکستان کے اس بڑے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم بالکل بوکھلا گئی تھی۔ ٹاپ آرڈر بری طرح ناکام ہو گیا تھا اور بھارت کو 180 رنز سے شکست ہوئی ۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج پاکستانی بلےبازوں کے ساتھ ہوااور بھارت نے89رنز سے کامیابی اپنے نام کی۔ چیمپئینز ٹرافی 2017کے گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 316رنز کا ہدف دیا تھا اور بھارت کو124رنز سے کامیابی ملی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں ٹیموں میں اصل مقابلہ اعصاب کا ہوتا ہے۔ جو بھی ٹیم مخالف ٹیم اعصابی طور پر پہلے برتری حاصل کرلے ۔ وہ یکطرفہ مقابلے کے بعد میچ جیت جاتی ہے۔آج اعصابی جنگ جیتنےکا موقع قدرت نے سرفراز احمد کو ٹاس جتوا کر دیا تھا۔لیکن ہائے ری کم بختی! نہ جانے کسی رٹو طوطےیا کولہو کے بیل کی طرح ان پر پہلے بائولنگ کرنے کا بھوت سوار کیوں رہنے لگا ہے۔ کس نے یہ احمقانہ بات ان کے دماغ میں ڈال دی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ سرفراز احمد کا ذہنی طور پر انتہائی کمزور ہونا، فیصلہ سازی کی قوت سے محروم ہونا، احساس کمتری یا خوف کا شکار ہو نا یا پھر حددرجے تک اعتماد کی کمی کا ہونا ہے۔وہ میچ کی شروعات بیٹ سے کرتے ہوئے ڈرنے لگتے ہیں۔کرکٹ میں باڈی لینگوئج ایک بہت بڑا فیکٹر ہے۔ ڈرکر یا ہچکچاہٹ کے ساتھ میدان میں آنے پر دوسری ٹیم آپ پر بڑی جلدی حاوی ہوجاتی ہے۔جارحیت کرکٹ کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ اور بھارتی قائد ویرات کوہلی اس گر کو خوب اچھی طرح سیکھ گئے ہیں۔اس لئے اس وقت وہ دنیائے کرکٹ میں نمبر ایک کھلاڑی ہونےکے ساتھ ساتھ نمبر ایک کپتان بھی ہیں۔ اعصابی کمزوری ہماری پوری ٹیم کا مسئلہ ہے۔ہمارے کھلاڑی میچ کے دوران خوش آمدی پن پر بھی اتر آتے ہیں اور حریف کھلاڑیوں کی بلاوجہ چاپلوسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ خوش اخلاقی ہر گز نہیں ہے بلکہ یہ بھی خود اعتمادی کی کمی کا ہی نتیجہ ہے۔شعیب ملک اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ خوش آمد میں آگے آگے اور کارکردگی میں صفر۔ خود اعتماد اور کامیاب کھلاڑیوں کو ان کھوکھلے سہاروں کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ وہ اپنی پوری توجہ اپنے کھیل پر مرکوز رکھتے ہیں اور میرے خیال سے یہی ان کا کام ہوناچاہیے۔خیربات ہورہی تھی پاکستانی ٹیم کی سٹرینتھ کی۔ تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی سٹرینتھ کم از کم ہدف کا تعاقب تو بالکل بھی نہیں ہے۔ اور موجودہ کمزور بائولنگ لائن اپ کے ساتھ تو ایسا کوئی گمان پالنا ہی نہیں چاہیے کہ آپ کسی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو کم سکور پر محدود رکھ سکیں ۔ البتہ یہ عین ممکن ہےکہ آپ کے بلے باز اتنا بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوجائیں کہ بائولر پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں اتریں اور مخالف ٹیم پر دبائو بڑھا کر وکٹیں گرا کر نہ صرف ٹیم کو جتوا سکیں بلکہ اپنا اعتماد اور فارم بھی بحال کرسکیں

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.