مون سون کی تباہی: کیا جنوبی ایشیا کے سیلابوں کے پیچھے ’سیاسی ریلے‘ ہیں؟

ہر سال نیپال اور انڈیا کے درمیان مون سون کے موسم میں تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں اور یہ کس قدر نقصان دہ ہے۔ Getty Imagesمون سون کے موسم میں آنے والے سیلاب سے ہر سال شمالی انڈیا اور نیپال کے کئی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں

جب بات پانی کے ذخائر کی ہوتی ہے تو انڈیا اور نیپال کے درمیان تعلقات اتنے آسان نہیں نظر آتے۔

لیکن حالیہ برسوں میں ان تعلقات میں مزید کشیدگی اس وقت آتی ہے جب مون سون کا موسم آتا ہے جو کہ جون سے ستمبر کے درمیان ہے۔

سیلابی ریلے ہمسایوں میں تناؤ بڑھا دیتے ہیں اور سرحد کے دونوں طرف کے رہائشی غصے میں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔

اس سال سیلاب نے علاقے میں کافی تباہی مچائی ہے۔ نیپال اور بنگلہ دیش میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ شمالی اور شمال مشرقی انڈیا میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

بنگلہ دیش، نیپال اور انڈیا میں سیلاب،لاکھوں افراد متاثر

انڈیا، نیپال اور بنگلہ دیش میں سیلاب، 250 افراد ہلاک

انڈیا اور نیپال کی ایک دوسرے کے ساتھ 1800 کلو میٹر لمبی کھلی سرحد ہے۔

6000 سے زیادہ دریا اور ندیاں نیپال سے شمالی انڈیا کی طرف بہتی ہیں اور خشک موسم میں دریائے گنگا میں بہنے والے پانی کا وہ تقریباً 70 فیصد حصہ ہیں۔

سو جب دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تو آنے والے سیلابوں کی وجہ سے نیپال اور انڈیا کے میدانی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں۔

اس تباہی کی وجہ سے گذشتہ کچھ برسوں سے نیپال کے سرحدی علاقوں میں لوگوں میں واضح غصہ دیکھا گیا ہے۔

نیپال اس کا ذمہ دار سرحد سے ملحق انڈیا کے علاقوں میں بنائے گئے بند نما ڈھانچوں کو ٹھہراتا ہے جو بقول اس کے سیلاب کے پانی کو جنوب کی طرف انڈیا میں جانے سے روکتے ہیں۔

دو سال قبل مشرقی نیپال میں کی گئی ایک تحقیق میں بی بی سی نے انڈیا کی سرحد کے اندر ایسے ڈھانچے دیکھے تھے۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں 2016 میں سرحد کے دونوں طرف کے مقامی لوگوں کا اس وقت آپس میں جھگڑا ہوا جب نیپال نے اس طرح کے بند بنانے سے انڈیا کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

نیپالی حکام کے مطابق اس طرح کے لگ بھگ دس ڈھانچے بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے نیپال کا ہزاروں ایکٹر رقبہ زیرِ آب آ جاتا ہے۔

BBCنیپالی حکام کہتے ہیں کہ اس طرح کے بند نما ڈھانچوں نے نیپال میں سیلاب کی صورتِ حال کو مزید ابتر کر دیا ہے

انڈیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سڑکیں ہیں لیکن نیپال کے ماہرین کے بقول یہ پشتے ہیں جو انڈیا کے سرحدی دیہات کو سیلاب سے بچاتے ہیں۔

جنوبی نیپال کے روتاہت ڈسٹرکٹ کا صدر دفتر گوڑ گذشتہ تین ہفتوں سے زیرِ آب تھا اور حکام کو خدشہ تھا کہ اس مرتبہ پھر دونوں طرف کے رہائشیوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے۔

سپرینٹینڈنٹ آف دی آرمڈ پولیس کرشنا دھکال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کافی زیادہ تناؤ کے بعد انڈیا کے پشتوں کے نیچے سے دو دروازے کھول دیے گئے اور اس سے ہمیں کافی فائدہ ہوا۔‘

انڈیا کے حکام نے بار بار رجوع کرنے پر بھی کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

دونوں ممالک کئی برسوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے ملاقاتیں کرتے ہیں لیکن ابھی تک کچھ زیادہ فرق نہیں پڑا۔

گذشتہ مئی میں نیپالی اور انڈین واٹر مینجمنٹ کے اہلکاروں نے ’سرحد کے ساتھ سڑکوں اور دوسرے ڈھانچوں کی تعمیر کو تسلیم کیا لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ اس پر سفارتی ذرائع کے ذریعے بات ہونی چاہیئے۔‘

نیپالی مذاکرات کاروں اور سفارتکاروں پر ملک میں کافی تنقید ہو رہی ہے اور الزام لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے اپنے انڈین ہم منصبوں کے سامنے اپنا موقف مناسب طریقے سے پیش نہیں کیا۔

BBC

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انڈیا کے لوگ سیلاب سے متاثر نہیں ہو رہے۔ پیر کو انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کی حکومت نے کہا ہے کہ صرف یہاں 19 لاکھ افراد سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں۔

جب بھی کوسی اور گنڈاکی جیسے اہم دریاؤں میں، جو کہ گنگا کی شاخیں ہیں، سیلاب آتا ہے تو بہار میں سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے اور اس کا ذمہ دار اکثر نیپال کو ٹھہرایا جاتا ہے کہ اس نے سیلاب روکنے والے دروازے کھول دیے ہیں جس کی وجہ آبادیوں کو نقصان پہنچا۔

اگرچہ یہ نیپال کے اندر بنے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں دونوں دریاؤں پر پشتوں کا انتظام انڈیا کی حکومت ہی سنبھالتی ہے۔

AFP/Getty Imagesدریائے کوسی پر بیراج کا انتظام انڈیا کے پاس ہے

یہ ان دونوں ممالک کے درمیان 1954 اور 1959 میں ہونے والے کوسی اور گنداک معاہدوں کے مطابق ہے۔

یہ بیراج انڈیا نے سیلاب روکنے، آبپاشی اور پانی سے بجلی بنانے کے لیے بنائے تھے۔ لیکن نیپال میں یہ بڑے متنازع ہیں کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے مقامی آبادی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔

دوسری طرف انڈیا کی حکومت اسے سرحدوں کے پار پانی کے تعاون اور مینجمنٹ کی ایک اچھی مثال سمجھتی ہے۔

صرف کوسی بیراج کے 36 فلڈ گیٹ ہیں۔ انڈیا پر یہ بھی تنقید کی جاتی ہے کہ وہ مون سون کی وجہ سے سیلابی پانی کے دریا میں خطرناک حد کو پہنچنے کے بعد بھی تمام فلڈ گیٹ نہیں کھولتا جس کی وجہ سے مقامی نیپالی آبادیوں کو خطرہ رہتا ہے۔

دریائے کوسی میں جسے ’بہار کا دکھ‘ بھی کہا جاتا ہے، ماضی میں کئی سیلاب آئے ہیں اور انھوں نے بہت تباہی بھی مچائی۔ جب 2008 میں اس کے بند ٹوٹ گئے تھے تو نیپال اور انڈیا میں ہزاروں لوگ ہلاک اور تقریباً 30 لاکھ متاثر ہوئے تھے۔

کیونکہ بیراج تقریباً 70 سال پرانا ہے اور اس طرح کے خدشات بھی ہیں کہ بڑے سیلاب سے اسے بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، انڈیا نے بیراج کے شمال میں ایک ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ بھی نیپال میں ہی بنایا جائے گا۔

Getty Imagesگذشتہ سال نیپال کا دارالحکومت کھٹمنڈو بھی پانی سے بھر گیا تھا

نیپال کے اکثر دریا چورے کے پہاڑی سلسلے سے ہو کر گذرتے جس کا ماحول بہت نازک ہے اور اسے پہلے ہی خطرہ ہے۔

یہ پہاڑیاں کبھی نیپال اور سرحد کے پار انڈیا میں دریاؤں کے بہاؤ کو قابو میں رکھتی تھیں اور ان کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتی تھیں۔ لیکن درختوں کی بہت زیادہ کٹائی اور کان کنی نے ان پہاڑیوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

حالیہ تعمیراتی ترقی کی وجہ سے علاقے کے دریاؤں کی تہوں میں سے ریت اور چھوٹے بڑے پتھر بڑی بیدردی سے نکالے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اتر پردیش اور بہار کی دوسری صنعتوں نے بھی علاقے کے قدرتی وسائل کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

Getty Imagesسیلابوں کو روکنے والے قدرتی ذرائع کے آہستہ آہستہ ختم ہونے سے اب زیادہ تباہی پھیل رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر سیلاب روکنے والے عوامل کے ختم ہونے سے مون سون کے سیلاب اب قابو میں نہیں رہے۔

کچھ سال پہلے ایک اعلیٰ سطح کی ماحول بچاؤ مہم چلائی گئی تھی لیکن وہ آگے نہ بڑھ سکی اور اب قدرتی وسائل کی لوٹ مار ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔

علاقے کا ماحول نہ صرف نیپال کے میدانوں کے لیے اہم ہے، جنھیں ملک کی خوراک کی ٹوکری کہا جاتا ہے، بلکہ یہ اتر پردیش اور بہار کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انڈیا نیپال پر تنقید کرتا ہے کہ وہ درختوں کی کٹائی اور کان کنی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اب جب ماحولیاتی تغیر نے مون سون کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے ماہرین کو یہ ڈر ہے کہ دونوں ہمسائیوں کے درمیان یہ مسئلہ کہیں اور پیچیدہ نہ ہو جائے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.