لیاقت علی خان کو امریکا نے قتل کرایا

لاہور …دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل میں امریکہ کے ملوث ہونے کے بارے میں مجھ تک معلومات واٹس ایپ کے ذریعے پہنچی‘ ہم ان ذرائع تک نہیں پہنچ سکے جہاں سے یہ آئی ہیں۔

ان معلومات کو افشا کرنے والے نے بتایا کہ امریکہ ایک خاص عرصہ کے بعد مختلف دستاویزات سامنے لے آتا ہے‘ اس طرح کی ایک دستاویز کے مطابق لیاقت علی خان کے قتل کا ذمہ دار امریکہ ہے‘ یہ بات فی الوقت سنی سنائی ہی سمجھی جاسکتی ہے، کیونکہ اس حوالے سے ہمارے پاس مکمل ثبوت نہیں ہیں۔

لیاقت علی خان نے امریکہ کا دورہ کیا تو وہاں صدر ٹرومین تھے جنہوں نے ان سے ملاقات میں کہا کہ آپ کے ایران سے بڑے اچھے تعلقات ہیں‘ آپ انہیں کہیں کہ تیل کے ٹھیکے امرکی فرموں کو دے دیں‘ اس بات کو لیاقت علی خان نے رد کردیا کہ ایران سے ہمارے تعلقات ہیں لیکن ہم بلاوجہ اس پر دبائو کیوں ڈالیں کہ ٹھیکے فلاں کو دیدو۔

اس جواب پر صدر ٹرومین نے انہیں دھمکی بھی دی کہ آپ کو تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔لیاقت علی خان نے کوئی بھیا مریکی دبائو لینے سے انکار کردیا اور پاکستان کی حدود میں موجود تمام امریکی طیاروں کو نکل جانے کا حکم دے دیا۔

امریکہ کے صدر نے اس بات کو اپنی بے عزتی سمجھا اور انہیں مروانے کے لئے پاکستان سے قاتل تلاش کرنا چاہے‘ تاہم یہ بات بڑے اہم ہے کہ اسے پاکستان سے اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کے لئے کوئی نہ مل سکا‘ پھر افغانستان کا رخ کیا گیا جو پہلے ہی پاکستان کا مخالف تھا اور اُسے نئی ریاست ہی تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔

یہ بھی پڑھیں : سید اکبر نامی افغان کو چنا گیا جس کے ساتھ مزید 2 بندے رکھے گئے کہ جب وہ اپنا ٹارگٹ پورا کرلے تو اُسے بھی وہیں ختم کردیں تاکہ ثبوت ہی ختم ہوجائے‘ ان دونوں کو بھی پولیس نے وہاں موجود افراد نے مار ڈالا تھا‘ اس واقعہ میں یعنی 2 طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ سید اکبر کو پولیس افسروں نے گولی ماری‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان 2 قاتلوں نے اُسے قتل کیا‘ اگر امریکہ نے کوئی خفیہ دستاویزات اوپن کی ہیں اور یہ کہانی سامنے آئی ہے کہ امریکی سی آئی اے تو ایسے کام ہمیشہ سے کرتی آئی ہے‘ یہ اس کے لئے نئی بات نہیں ہے۔

پاکستان کو آئندہ اپنے مفادات کا خیال رکھنا ہوگا‘ سابق وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکی طیاروں کو پاکستانی حدود سے نکلنے کا حکم دیا تھا کہ یہ ایئر فورس یا دیگر اداروں کے ریکارڈ میں موجود ہوگا اگر تحقیق کی جائے تو اس بارے میں حقائق سامنے آجائیں گے۔

یہ کیس بڑا الجھاہوا ہے‘ ایک افسر جو انکوائری رپورٹ لے کر جارہے تھے‘ ان کا طیارہ کریش کرگیا‘ ایک پولیس افسر جو کیس کی دستاویزات لے کر جارہے تھے ان کا طیارہ بھی حادثہ کا شکار ہوگیا‘ اس کیس کی انکوائری سے منسلک افراد اسی طرح غیر قدرتی موت کا شکار ہوئے جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے‘ ان سوالات کے جواب تلاش کئے جاسکتے ہیں اگر مکمل تحقیق کی جائے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.