پاکستان کا بھارتی کمانڈر کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ کرلیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی کمانڈر کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دی جائے گی۔ ترجمان دفتر جارجہ کے مطابق کلبھوشن کوعالمی عدالت انصاف کے فیصلےسے آگاہ کردیا گیا،پاکستان ایک ذمہ دارملک ہےتاہم قونصلر رسائی کیلئے طریقہ کارطے کیا جا رہا ہے۔ کلبھوشن کو پاکستانی قوانین کے مطابق قونصلررسائی دی جائےگی، کلبھوشن کوویاناکنونشن کی شق 36ون بی کے تحت قونصلر رسائی دی گئی۔ خیال رہے گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کلبھوشن کی بریت اور رہائی کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی رہائی اور بھارت واپسی کی بھارتی درخواست بھی مسترد کردی جبکہ کلبھوشن کی پاکستان کی فوجی عدالت سے سزا ختم کرنے کی بھارتی درخواست بھی رد کردی گئی۔ عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور اسے دی جانے والی سزا پر نظر ثانی کرے۔ جج کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ہائیکورٹ جادیو کیس پر نظر ثانی کر سکتی ہے، ہمارےخیال میں پاکستان کی سپریم کورٹ بھی نظر ثانی کا حق رکھتی ہے۔ کلبھوشن کب گرفتار ہوا؟بھارتی نیوی کے حاضر افسر کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ سال 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے پاکستان ملٹری کورٹ کی طرف سے سزائے موت دی گئی۔ کلبھوشن یادیو، مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ پر پاکستان میں داخل ہوا، وہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس ملازم تھا، جس نے پاکستان میں کئی دہشت گرد کارروائیوں کا بھی اعتراف کیا تھا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017ء کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کی توثیق کی۔ کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی تھی جب کہ مئی 2017ء کو بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا اور کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔ عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی درخواست پر گزشتہ برس کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے دلائل دیئے گئے۔ بھارت نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے کمانڈر جاسوس کلبھوشن کی بریت، رہائی اور واپسی کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان کے وکیل بیرسٹر خاور قریشی نے تحریری اور زبانی دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئی سی جے کو بھارت کو کوئی ریلیف نہیں دینا چاہیے۔

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.