دفاعی صنعت میں خودانحصاری کیلئے پبلک پرائیوٹ شراکت داری ضروری ہے، آرمی چیف  جنرل قمرجاوید باجوہ 

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دفاعی صنعت میں خودانحصاری کے حصول کیلئے پبلک پرائیوٹ شراکت داری بہت ضروری ہے۔ دفاعی پیداوار کے شعبے میں خودانحصاری سے ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی آڈیٹوریم راولپنڈی میں دفاعی پیداوار اور سیکیورٹی خودانحصاری کے موضوع پر دو روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خصوصی شرکت کی۔سیمینار کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ دفاعی صنعت میں خودانحصاری کے حصول کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بہت ضروری ہے۔ دفاعی صنعت میں شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی اور سرکاری شعبوں کو ایک مربوط انداز میں دفاعی پیداوار کے شعبوں میں شراکت داری کرنی چاہیے۔آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ اس ماڈل کو  فروغ دینے سے پاکستان کی دفاعی صنعت ترقی کرے گی۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیمینار میں وفاقی وزرا زبیدہ جلال، فواد چوہدری، مشیر تجارت عبدالرزاق داود اور پبلک پرائیوٹ سیکٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دفاعی پیداوار کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال اور مشیر تجارت عبدالرزاق داود نے ملکی دفاعی صنعت میں خود انحصاری کے حصول کے حوالے سے سیمینار میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا اور دفاعی صنعت کو درپیش چیلنجز کا بھی مکمل احاطہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق دو روزہ سیمینار میں ملکی دفاعی صنعت کی ترقی کیلئے متعدد سفارشات بھی پیش کی گئیں جس کے مطابق اضافی دفاعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے، وزیراعظم کی سربراہی میں دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کیلئے ٹاسک فورس کے قیام، سافٹ ویئر انڈسٹری کی استعداد کار بڑھانے کیلئے ڈیجیٹل پارکس قائم کرنے اور جامعات میں دفاعی انڈسٹری کی خودانحصاری کیلئے تحقیقی کام کے فروغ کی سفارشات بھی شامل ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نے تمام شرکا کی تجاویز کا شکریہ ادا کیا اور دفاعی مصنوعات کی نمائش کا دورہ بھی کیا۔ سپہ سالار نجی اور سرکاری شعبوں کے اسٹالز پر گئے.


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.