ان ایپلیکشنز کو اپنے موبائل سے نکال دیں

گوگل نے حال ہی میں پلے اسٹور سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی وجہ سے بہت سی ایپلیکیشنز (ایپس) ہٹا دی ہیں مگر آپ کے موبائل میں وہ اب تک موجود ہیں۔ان ایپس نے ناصرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ یہ صارفین کی پرائیوٹ معلومات افشا کرنے کی بھی مرتکب ہوئی ہیں۔گوگل کی جانب سے ان ایپلیکشنز کو پلے اسٹور سے خارج کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ا?پ کے موبائل کو بھی ان سے نجات مل گئی ہے۔ یہ کام آپ کے اپنے ذمے ہے جسے کرنے کا وقت ا?ن پہنچا ہے۔یہ ایپس گوگل کو چکمہ دے کر گوگل پہ اپنا اندراج کرا لیتی ہیں، ان کے بارے میں گوگل کا موقف ہے کہ ’گوگل پلے پر نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر سختی سے ممنوع ہیں۔صرف ایسے سافٹ ویئر جو پالیسی سے مطابقت رکھتے ہوں گوگل پلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ان میں والدین اپنے بچوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے یا بڑے ادارے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے بروئے کار لائے جانے والے سافٹ ویئر شامل ہیں۔صرف مذکورہ بالا سافٹ ویئر جو کہ پالیسی سے مکمل مطابقت رکھتے ہوں گوگل پلے پہ اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔گوگل کو ان ایپلیکشنز سے متعلق خبردار کرنے کا سہرا سیکیورٹی کمپنی ایواسٹ کو جاتا ہے۔ اور یہی وہ ایپس ہیں جنہیں ا?پ کو فوری طور پر اپنے موبائل سے ڈیلیٹ کر دینا چاہیے۔

ان ایپس کے نام درج ذیل ہیں:

ایمپلائی ورک اسپائے

فون کال ٹریکنگ

فون سیل ٹریکر

ایس ایم ایس ٹریکر

اسپانے ٹریکر

ٹریک ایمپلائز چیک ورک فون ا?ن لائن اسپائے فریاگر آپ ان ایپلیکیشنز کو اپنے موبائل میں نہیں دیکھ پا رہے لیکن محسوس کر رہے ہیں کہ آپ کی نقل و حرکت یا حرکات و سکنات کی نگرانی کی جا رہی ہے تو اپنے موبائل کو فیکٹری ری سیٹ کر کے اس الجھن سے نجات حاصل کریں۔ان ایپلیکشنز کو اپنے موبائل سے نکال دیں


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.