اسرائیل کا پیگاسز سے ایپل،گوگل،فیس بک کا ڈیٹا چوری کرنیکاانکشاف

اسرائیلی کمپنی کی جانب سے اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ اس کے پاس ایسے سوفٹ ویئر اور ٹولز موجود ہیں جس سے وہ فیس بک، ایپل اور گوگل سمیت دیگر سماجی رابطے کی سائٹس سے صارفین کا ڈیٹا اور تصاویر حاصل کرسکتا ہے۔ فنانشیل ٹائمز کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل دنیا بھر کی بڑی سماجی روابط کی ویب سائٹس سے صارفین کا ڈیٹا جمع کر سکتا ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر موجود مکمل تاریخ، ڈیلیٹ کردہ پیغامات اور تصاویر وغیرہ تک بھی ان کی رسائی ہے۔ واٹس ایپ ڈیٹا ہیک ہونے کے بعد اسرائیلی خفیہ کمپنی این ایس او کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ یا موبائلز میں موجود صارفین کے ڈیٹا تک اس کی رسائی کوئی مشکل کام نہیں۔ این ایس او گروپ کے مطابق ان کے پاس موجود ٹیکنالوجی خفیہ طریقے سے ایپل، گوگل، فیس بک، ایمازون اور مائیکروسافٹ کے سرورز سے کسی بھی شخص کا ڈیٹا چرا کرسکتی ہے۔ جب کہ دوسری جانب این ایس او کے ترجمان ترجمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این ایس او کی سروسز اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بنیادی غلط فہمی پائی جاتی ہے این ایس او کی مصنوعات آج کے شائع شدہ آرٹیکل میں دیے گئے انفرا اسٹرکچر، سروسز کسی قسم کی کلیکشن کرنے کی صلاحیت اور کلاؤڈ ایپلکیشن تک رسائی فراہم نہیں کرتیں۔ این ایس او کپمنی کا اپنی صفائی میں مزید کہنا تھا کہ وہ پیگاسز سسٹم آپریٹ نہیں کرتے، جب کہ صرف حکومتی صارفین کو لائسنس جاری کرتے ہیں، جس کا مقصد سنگین جرائم یا دہشت گردی کو روکنا یا اس کی تفتیش کرنا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا چرانے کیلئے جس سوفٹ ویئر اور ٹولز کو استعمال کیا جاتا ہے وہ فون کے ذریعے کلاؤڈ میں محفوظ معلومات حاصل کرتے ہیں۔ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار اور سینـٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ٹیکنالوجسٹ جوزف ہال کا کہنا تھا کہ یہ سافٹ ویئر عموماً قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔ جوزف ہال خود بھی این ایس او کے پیگاس سافٹ ویئر سے وابستہ ہیں۔ یہں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ این ایس او اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے نزدیک واقع ساحلی اور جدید ٹیکنالوجی کے مرکزی شہر ہرزیلیا میں قائم ہے۔

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.