جمہوریت کی کشتی ڈانواں ڈول ہے، شہباز شریف

جمہوریت کی کشتی ڈانواں ڈول ہے، شہباز شریف اسلام آباد: (22 جولائی 2019) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت کی کشتی ڈانواں ڈول ہے۔ ناﺅ کو منجدھار سے نکالنے کیلئے میثالی اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ ماضی میں جائے بغیر جمہوریت کے تحفظ کیلئے سب ایک متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میثاق جمہوریت میں مزید جماعتوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے اجلاس کی صدارت سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مشترکہ طورپر کی۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف)، پختونخواہ میپ اور اے این پی کے سینیٹر کے علاوہ چھ اراکین اسمبلی بھی شریک ہوئے۔

سینیٹ کے بینکویٹ ہال میں ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر راجہ ظفر الحق، سینیٹر رانا مقبول، مشاہداللہ خان، پرویز ر شید، نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو، پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلام الدین شیخ اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس میں منگل کو ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یکم اگست کو چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے بلائے گئے ریگولر اجلاس کے بارے میں حکمت عملی طے کی جانے کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ جمہوریت کی کشتی ڈانواں ڈول ہے۔ ناﺅ کو منجدھار سے نکالنے کیلئے میثالی اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ ماضی میں جائے بغیر جمہوریت کے تحفظ کیلئے سب ایک متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا ظہرانے میں شرکت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بعد ازاں شہباز شریف نے سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے ارکان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ قائد اعظم ایک عظیم لیڈر تھے جن کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ اکہتر سال بعد بھی قوم اپنی منزل کی تلاش میں ہے۔ چین سمیت ایسے ممالک جنہوں نے پاکستان کے بعد آزادی حاصل کی آج وہ ممالک ہم سے کوسوں میل آگے جاچکے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ معافی کا درخواستگار ہوں لیکن اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں۔ ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم کچھ بہتری لائے تھے، میثاق جمہوریت ایک شاندار چارٹر تھا۔ میثاق جمہوریت پر اتنا عمل ہوا یہ مورخ لکھے گا۔ ابھی تاخیر نہیں ہوئی، معاملات کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ میثاق جمہوریت میں مزید جماعتوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سنگین مسئلہ عام آدمی کا زندہ رہنا ہے۔ عام آدمی پر اس وقت زندگی تنگ ہوچکی ہے۔ روٹی پندرہ روپے، نان بیس روپے تک پہنچ چکا ہے۔ فیکٹریاں بند، مزدور بے روزگار اور ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے۔ دوائیاں ناپید ہیں جبکہ قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور مریض چلا رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہماری معاشی ابتری اس دنیا کے سامنے ہے۔ موجودہ وزیراعظم آج بھی ورلڈکپ کے زعم میں غصے میں رہتے ہیں۔ وزیراعظم کا ایک ہی مقصد ہے کہ میں نے جیلوں کو سیاسی قیدیوں سے بھر دینا ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں 61 اراکین نے شرکت کی۔ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین سینٹ کی کل تعداد 65 ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے 30 میں سے 27 اراکین شریک ہوئے۔ پی پی پی کے تمام 21 اراکین شریک ہوئے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے پانچوں اراکین شریک ہوئے۔ جے یو آئی ف کے 3 اراکین شریک ہوئے، ان کے کل 4 اراکین ہیں۔ پی کے ایم اے پی کے 3 اراکین ہیں، سب شریک ہوئے۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ اے این پی کے ایک اور ایک آزاد رکن اجلاس میں شریک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ غیرحاضر چار اراکین سینیٹ میں چوہدری تنویر، عبدالقیوم ملک، مولانا عطاءالرحمان اور کامران مائیکل شامل ہیں۔ عبدالقیوم ملک اور چوہدری تنویر بیرون ملک ہیں۔ کامران مائیکل زیر حراست ہیں جس کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.