ابھینندن ورتمان کے لیے ویر چکر کا اعزاز، ’پاکستان نے مگ 21 کے آلات جام کر دیے تھے‘

انڈیا نے رواں برس فروری میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرائے جانے والے انڈین جنگی طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو فوجی اعزاز ’ویر چکر‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ ISPR handoutونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان

انڈیا نے اپنے یوم آزادی کے موقع پر رواں برس فروری میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرائے جانے والے انڈین جنگی طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو ملک کے فوجی اعزاز ’ویر چکر‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔

ویر چکر انڈیا کا تیسرا بڑا فوجی اعزاز ہے جو کہ میدانِ جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کرنے پر دیا جاتا ہے۔

رواں برس 27 فروری کو انڈین ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کے طیارے کو پاکستانی فضائیہ کے طیارے نے اس وقت مار گرایا تھا جب وہ لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوا تھا۔

طیارے کی تباہی کے بعد ابھینندن پاکستانی علاقے میں ہی اترے تھے جہاں انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا اور دو دن بعد انھیں انڈیا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان انڈیا کے خلاف F 16 طیارے استعمال کر سکتا ہے؟

ابھینندن کی ڈرامائی گرفتاری کی کہانی

پاکستانی اشتہار میں ابھینندن کے مذاق پر انڈین شائقین ناراض

ونگ کمانڈر ابھینندن کا طیارہ اس کارروائی کے دوران مار گرایا گیا تھا جسے پاکستان، انڈیا کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور حملے کے جواب میں کی گئی 'جوابی کارروائی' قرار دیتا ہے۔

اس وقت انڈین فضائیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے انڈین عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں ایک پاکستانی ایف 16 طیارہ بھی گرایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ابھینندن کو اس ’ایف 16 طیارے کو گرانے‘ پر ہیرو قرار دیتے ہوئے ویر چکر سے نوازا جا رہا ہے۔

پاکستان نے ایف 16 طیارے کی تباہی کے اس دعوے کو متعدد بار مسترد کیا ہے۔

اس کے بعد امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی کہا تھا کہ امریکہ کے محکمۂ دفاع کے اہلکاروں نےپاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی ہےاور وہ تعداد میں پورے ہیں۔

’ابھینندن کے طیارے کے آلات کو پاکستان نے جام کر دیا تھا‘

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پاکستانی جنگی طیارے کا پیچھا کرتے ہوئے، پاکستانی سرحد میں داخل ہونے والے ونگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کے مگ 21 طیارے میں جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی۔

اس معاملے سے متعلق اہلکاروں کے حوالے اس اخبار نے لکھا ہے کہ ابھینندن کے جنگی طیارے میں جدید جیمرز نہیں تھے اور ان کے طیارے کے رابطے کے آلات کو پاکستان نے جام کر دیا تھا۔

جدید آلات کی کمی کو ہی ابھینندن کے پاکستانی سرحد میں داخل ہو جانے کی وجہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ آلات جام ہو جانے کی وجہ سے وار روم سے آنے والی اطلاعات ابھینندن تک نہیں پہنچ سکیں اور وہ پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

’یہ ابھینندن نہیں کوئی اور ہے‘

’گنتی کی ہے، پاکستانی ایف 16 تعداد میں پورے ہیں‘

’مونچھیں ہوں تو ابھینندن جیسی ورنہ نہ ہوں۔۔۔‘

انڈین فضائی فوج کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی اینٹی جیمنگ ٹیکنالوجی کے بارے میں حکومت کو مطلع کیا جا چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

وِنگ کمانڈر ابھینندن ورتمان کو ملک کے فوجی اعزاز ’ویر چکر‘ سے نوازنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ ایئر مارشل شاہد لتیف نے ٹویٹ کیا ہے کہ انڈین حکومت نے یہ جانتے ہوئے کہ پی اے ایف شاہین نے ونگ کمانڈر ابھینندن کے طیارے کو تباہ کر دیا تھا، انھیں ویر چکر نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔

https://twitter.com/AMShahidLatif/status/1161602007213514752

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’دنیا قیامت تک مخمسے میں رہے گی کہ انڈیا کے ایک ناکام اہلکار کی عزت افزائش پر ہنسیں یا روئیں۔‘

https://twitter.com/AfaqKhanGurmani/status/1161594706310193152

آفاق بلوچ نے اپنے ٹویٹ میں ایک کاغذ کے طیارے کی جلتی ہوئی تصویر کے ساتھ انڈیا کے اس دعوے کا مزاق اڑایا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ مار گرایا۔

https://twitter.com/chandan_modi/status/1160110130886668288

چندن مودی نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ان کے بیٹے کو سکول میں ایک مقبول انڈین شخصیت پر ایک پیرا گراف لکھنے کے لیے کہا گیا اور اس نے ونگ کمانڈر ابھینندن کے بارے میں لکھا۔

https://twitter.com/Pak_Faujj/status/1161578985060519936

لون وولف نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لکھا گیا ہے کہ ابھینندن کو ان پاکستانی اہلکاروں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے انہیں ہیرو بننے کا موقع دیا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.