کاروباری مصروفیت کی وجہ سے موسیقی سے دور ہو گئی ہوں : گلوکارہ ریانا

نیویارک (این این آئی)شمالی امریکا کے خطے کیریبین کے ایک ملک بارباڈوس سے تعلق رکھنے والی معروف پاپ گلوکارہ ریانا نے گزشتہ تین سال سے کوئی نیا میوزک ایلبم ریلیز نہیں کیا اور وہ فی الحال کوئی نیا البم ریلیز کرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتیں۔ہولی وڈ رپورٹ کے مطابق گلوکارہ کے مداحوں نے اتنے عرصے سے کوئی البم یا نیا گانا سامنے نہ آنے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ آخر گلوکارہ کوئی نیا گانا ریلیز کیوں نہیں کررہی، جس کی وجہ اب فیشن کی دنیا میں مصروف ریانا نے ایک انٹرویو میں بھی بتادی۔ایک میگزین  کو دیے انٹرویو میں گلوکارہ نے موسیقی سے دور ہونے کی وجہ بتادی۔31 سالہ ریانا کے مطابق وہ اس وقت اپنے اور بہت سے کاروبار میں اس حد تک مصروف ہیں کہ انہیں نیند لینے کا وقت بھی نہیں مل پا رہا۔9 مرتبہ گریمی ایوارڈ جیتنے والی ریانا کا کہنا تھا کہ میں تین ماہ اسٹوڈیو میں گزارتی تھی تو ایک البم سامنے آتا تھا، لیکن اب میری زندگی کسی گول گھومنے والے جھولے کی طرح گزر رہی ہے، میں ایک دن فیشن کو دیتی ہوں، دوسرا دن زیر جامہ برینڈ کو، پھر میک اپ برینڈ کا دن اور پھر میوزک، یہ سارے برینڈز بالکل میرے بچوں کی طرح ہیں اور مجھے سب کا برابری سے خیال رکھنا ہے۔خیال رہے کہ ریانا صرف ایک کامیاب گلوکارہ ہی نہیں بلکہ پرفیوم، میک اپ، ملبوسات اور زیر جامہ برینڈز کی مالک بھی ہیں۔وہ پہلی سیاہ فام خاتون ہیں جو ڈیور برینڈ کی سفیر بھی مقرر ہوئیں۔جب گلوکارہ سے سوال کیا گیا کہ وہ اپنا نیا میوزک البم کب ریلیز کریں گی تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت جس البم پر کام کررہی ہوں وہ مجھے بے حد پسند ہے، لیکن ابھی اس کی ریلیز میں وقت لگے گا، میں اسے تب تک ریلیز نہیں کروں گی جب تک یہ پورا مکمل نہیں ہوجاتا۔البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ چاہے انہیں ان گانوں کی ویڈیوز شوٹ کرنے کا وقت نہ بھی ملے، وہ گانے مکمل ہوتے ہی البم مداحوں کے لیے ریلیز کردیں گی۔گلوکارہ نے اشارہ دیا کہ ان کا البم رواں سال کے آخر تک شاید سامنے آجائے، تاہم وہ اس سلسلے میں کوئی وعدہ نہیں کرنا چاہتی۔

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.