دہشتگردوں کا مسجد پر حملہ، 16نمازی موقع پر شہید

لاہور(نیوز ڈیسک) انتہا پسندی دن بہ دن بڑھتی جا ہی ہے۔جس ملک میں بھی دیکھا جائے مسلمانوں کے خلاف ہی اقدامات کیے جا رہے ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ ان دہشت گردی کے واقعات میں اموات بھی مسلمانوں کی ہو رہی ہے اور دہشت گردی کا ٹھپہ بھی مسلمانوں پر ہی لگایا جا رہا ہے۔گزشتہ روز افریقہ کے ایک ملک میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جہاں درجن بھر سے زائد نماز موقعہ پر شہید ہو گئے۔مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو کے شمالی علاقے میں مسلح افراد نے مسجد پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 16 نمازی جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق برکینافاسو کے شہر سالموسی میں واقع جامع مسجد میں رات گئے حملہ کیا گیا جہاں 13 نمازی موقعہ پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے اور دیگر تین افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔قریبی قصبے کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ‘اس حملے کے بعد شہریوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے، فوج کی موجودگی کے باوجود تناؤ کا ماحول پایا جاتا ہے’۔مسجد پر حملے کے بعد ایک ہزار سے زائد افراد نے دارالحکومت اواگادوگو کی جانب امن مارچ کیا اور افریقہ میں غیر ملکی فوجی بیسز کی موجودگی اور دہشت گردی کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاج کے منتظمین میں شامل گیبن کوربیوگو کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی مداخلت کے لیے دہشت گردی ایک اچھا بہانہ مل گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی، امریکی، کینیڈین، جرمن اور دیگر فوجوں نے ہمارے خطے میں قدم جمارکھے ہیں اور کہتے ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں لیکن اس قدر موجودگی کے باوجود دہشت گر گروپ مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق افریقہ کا غریب ملک برکینا فاسو 2015 تک دہشت گردی کی خطرناک لہر کی لپیٹ میں تھا جس سے پڑوسی ممالک مالی اور نائیجر بھی متاثر ہوئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برکینا فاسو میں القاعدہ کے چند گروپ اور داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں نے شمال اور مشرقی علاقوں میں کارروائیوں کا آغاز کیا تھا جو بعد جنوبی اور مغربی علاقوں تک پھیل گیا تھا۔ مائنز اور خود کش حملوں سمیت دیگر انداز میں کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں کم ازکم 600 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.