صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحقیقات میں تیزی کا امکان

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق کوششیں کل سے ایک مرتبہ پھر زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہیں جب دو ہفتے کی تعطیلات کے بعد کانگریس کا اجلاس منگل کے روز دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔

تاہم کانگریس کے کچھ ارکان ان تعطیلات کے دوران دارالحکومت واشنگٹن میں موجود رہے اور ایوان نمائندگان کی تین کمیٹیوں نے صدر کے مبینہ مواخذے سے متعلق اپنی تحقیقات جاری رکھیں۔ اس دوران انہوں نے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سمیت مختلف اداروں کے اہل کاروں کو شہادتوں کیلئے سمن جاری رکھے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کانگریس صدر ٹرمپ کی گزشتہ جولائی میں یوکرین کے نئے صدر ولادی میر زیلینسکی سے فون پر ہونے والی بات چیت کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں جس میں مبینہ طور پر صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر سے سابق نائب صدر جو بائیدن اور اُن کے بیٹے کے خلاف کاروباری بے ضابطگیوں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے کلیدی صدارتی امیدواروں میں سے ایک ہیں۔

تاہم جو بائیڈن یا اُن کے بیٹے کے خلاف امریکہ میں یا یوکرین میں کسی کاروباری بے ضابطگیوں کے بارے میں اب تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر سے بات کرتے ہوئے آئندہ صدارتی انتخاب میں اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے کردار پر بقول اس کے کیچڑ اچھالنے کیلئے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے یا نہیں۔

منگل کے روز امریکی کانگریس کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد تحقیقات میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ ہاؤس کی کمیٹیوں کو ثبوت حاصل کرنے کیلئے تیزی سے کام کرنا ہو گا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کیا صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی جائے یا نہیں۔

مواخذے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز ایک وسل بلوئر کی طرف سے صدر ٹرمپ کی یوکرینی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی خفیہ معلومات سامنے لانے سے ہوا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ان تحقیقات کیلئے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کریں گے۔ تاہم ان کی انتظامیہ کے کچھ ارکان تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔ تحقیقات کے سلسلے میں ہاؤس کی انٹیلی جینس، نگرانی، اصلاحات اور امور خارجہ کی کمیٹیوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے متعدد اہل کاروں کو بلا کر ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔

اس کے علاوہ ان کمیٹیوں نے یوکرین میں سابق امریکی سفیروں کرٹ وولکر اور میری یووانووچ سے بھی سوال جواب کیے ہیں۔ روسی امور کے بارے میں وائٹ ہاؤس کی مشیر فایونا ہل بھی ان کمیٹیوں کے روبرو پیش ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ توقع ہے کہ یورپی ممالک میں تعینات رہنے والے امریکہ کے متعدد دیگر سفارتی اہل کاروں سے بھی گفتگو کی جائے گی۔

ہاؤس انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ وسل بلوئر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کی خاطر اسے کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کیلئے نہیں بلایا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کی فون پر بات چیت کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا تھا اور ایڈم شیف کا کہنا تھا کہ اس کی موجودگی میں وسل بلوئر سے بات کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.