2022 تک کھلے دودھ کی فروخت بند کردی جائے گی، چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی

ساہیوال: وزیر اعظم عمران خان کے ویژن اور ہدایات کے مطابق 2022 میں کھلے دودھ کی فروخت بند کر دی جائے گی۔ یہ دعویٰ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے چئیرمین عمر تنویر بٹ نے اینگرو فوڈ پلانٹس کے دورے کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

مینڈکوں کی دیدہ دلیری: پنجاب پولیس کو قانون پڑھنے اور مشاورت کرنے پہ لگادیا

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ جس طرح پوری دنیا میں فوڈ اور ڈرگ اتھارٹـیز ایک ساتھ ہوتی ہیں بالکل اسی طرز پر پنجاب میں عمل درآمد کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکپتن میں فوڈ اتھارٹی کے اسٹاف پر فائرنگ کا جو واقعہ رونما ہوا ہے اس کے بعد سے دوبارہ کمانڈو سیکورٹی بحال کرنے جارہے ہیں۔

عمر تنویر بٹ نے کہا کہ لاہور میں مینڈک فوڈ والی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ڈائریکشن نے بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

کیا واقعی لاہور میں مینڈک کا گوشت کھلایا جا رہا ہے؟

گذشتہ ماہ لاہور میں ایک رکشے سے پانچ من مینڈکوں کی برآمدگی پر مختلف حلقوں کی جانب سے خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ شاید لاہور میں ان کا گوشت استعمال کیا جا نا تھا جس کی باقاعدہ تردید بھی سامنے آئی تھی۔ اس ضمن میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی کافی شور و غوغا ہوا تھا۔

چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے ایک ہزار افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کبھی بھی یہ شکایت نہیں ملی کہ ہمارے ادارے کے عملے نے کسی کے ساتھ بدتمیزی کی ہو اور یا یہ کسی سے پیسے لیے ہوں۔

ہم نیوز کے مطابق عمر تنویر بٹ نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کا کاروبار ختم کرنا فوڈ اتھارٹی کا مقصد ہرگز نہیں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ بار بار ایک ہی جرم کرنے والے کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

471 فوڈ بزنس آپریٹرز مختلف بیماریوں کا شکار ہیں،پنجاب فوڈ اتھارٹی

چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی عمر تنویر بٹ نے کہا کہ صارفین اپنی شکایات متعلقہ عملے تک پہنچانے کے لیے ٹول فری نمبر 08008059 پر درج کراسکتے ہیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.