روسی ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری نہیں روکیں گے: اردوان

واشنگٹن — 

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ یہ مطالبہ کرنے میں امریکہ حق بجانب نہیں ہے کہ ترکی کو روسی ایس 400 دفاعی میزائل کی خریداری ختم کر دینی چاہیے۔ ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق، انھوں نے اس طرح کی تجویز کو خود مختاری کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی ملاقات کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردوان پر زور دیا تھا کہ ایس 400 دفاعی نظاموں کو خیرباد کہا جائے، جو جولائی میں ترکی پہنچنا شروع ہوئے، باوجود ان دھمکیوں کے کہ امریکہ ترکی پر تعزیرات عائد کرے گا۔

ملاقات کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ آیا ترکی ایس 400 میزائل کو نصب نہ کرنے پر غور کرے گا، اردوان نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ترکی روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انھوں نے اس بات کا پھر سے اعادہ کیا کہ وہ امریکی پیٹریاٹ میزائل خریدنا چاہتے ہیں۔

نشریاتی اداروں سے وابستہ صحافیوں نے ان کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم نے کہا ہے کہ یہ تجویز کہ پیٹریاٹ خریدنے سے پہلے ہمیں ایس 400 نظاموں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہو گا، خود مختاری کے حق سے تجاوز ہے، جسے ہم درست نہیں سمجھتے‘‘۔

اردوان نے کہا کہ ’’یہ جوڑ کے رکھنے والے بندھن کا معاملہ ہے: ہم نے روس کے ساتھ حکمت عملی کی حامل چند کوششیں کی ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ترک اسٹریم‘ قدرتی گیس پائپ لائن، جو روس سے شروع ہوتی ہے اور ترکی سے ہوتی ہوئی جاتی ہے، اس سے یورپ کو گیس فراہم ہو گی۔

ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’’پیٹریاٹس کے لیے اب میں ایس 400 کو ختم نہیں کر سکتا۔ اگر آپ پیٹریاٹ دینا چاہتے ہیں تو ضرور دیں‘‘۔

دونوں صدور کے مابین اچھے تعلقات کی بنا پر ایس 400 کے معاملے پر اب تک ترکی امریکہ کی جانب سے لگنے والی تعزیرات سے بچتا رہا ہے۔ لیکن، امریکہ نے ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے پر پابندی لگائی ہے اور ترکی کو اس کثیر ملکی پروگرام سے الگ کر دیا ہے جو لڑاکا طیارے بناتا ہے۔

اردوان نے کہا کہ ایف 35 کے معاملے پر انھوں نے ٹرمپ کے انداز کو بہت مثبت پایا۔

برعکس اس بات کے کہ ٹرمپ نے اردوان کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا، بدھ کے روز ہونے والے ایک اجلاس میں ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے پانچ سینیٹروں نے اردوان کی جانب سے روسی اسلحہ خریدنے کے محرکات پر سوال اٹھائے۔

کانگریس کے ایک ذریعے نے اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتایا کہ ’’سینیٹروں نے اردوان پر یہ بات واضح کر دی کہ وہ ترکی کے اتحادی رہنا چاہتے ہیں، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ترکی روسی میزائل نظام بھی خریدے اور ساتھ ہی اس بات کی توقع رکھے کہ اس کے نتائج برآمد نہیں ہوں گے‘‘۔

اس اجلاس کا مقصد ترکی کی جانب سے روسی اسلحہ خریدنے کے معاملے کو زیر غور لانا تھا۔ لیکن، یہ اجلاس طول پکڑ کر ایک گھنٹے سے زیادہ لمبا ہو گیا جس میں شام پر بھی بحث کی گئی۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ ٹرمپ نے سینیٹروں کے سوالات تفصیلی طور پر سنے، اور اجلاس کے آغاز پر چند کلمات ادا کیے۔

اردوان نے آئی پیڈ پر ایک وڈیو دکھائی جس میں کرد ملیشیا کی مبینہ مخاصمانہ کارروائیاں دکھائی گئی تھیں۔ اردوان نے کہا کہ وڈیو فوٹیج ملاحظہ کرتے ہوئے، ٹرمپ کافی ’’متاثر‘‘ نظر آئے۔

نو اکتوبر کو کرد ملیشیا کو باہر نکالنے کے لیے ترکی کی جانب سے شام کے خلاف کی گئی فوجی مداخلت پر امریکی کانگریس برہمی کے اظہار میں متحد نظر آئی۔ داعش کے خلاف لڑائی میں کرد ملیشیا امریکہ کا ایک اہم ساتھی رہی ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.