کار کی پچھلی نشست پر حفاظتی بیلٹ باندھنا کتنا ضروری ہے؟

ویب ڈیسک — 

امریکہ میں ہر سال پچھلی نشست پر سیٹ بیلٹ باندھے بغیر بیٹھ کر سفر کرنے والے سیکڑوں افراد مختلف حادثات میں مارے جاتے ہیں۔

امریکہ میں "گورنرز ہائی وے سیفٹی ایسوسی ایشن" کی طرف سے جاری نئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 میں 803 افراد سڑک حادثات میں محض اس لیے مارے گئے کہ انہوں نے بیلٹ نہیں باندھا تھا۔

عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کار کی پچھلی نشست پر بیٹھ کر سفر کرنا ہے تو بیلٹ پہننے کی ضرورت نہیں اور بیلٹ باندھنا تو اگلی سیٹ پر بیٹھنے والوں کے لیے ضروری ہے۔

امریکہ میں کیے گئے ایک عوامی سروے کے مطابق صرف 57 فی صد افراد سفر کے دوران بیلٹ استعمال کرتے ہیں۔

امریکہ کی 31 ریاستوں میں اب بھی بالغ مسافروں کے لیے پچھلی نشست پر بیلٹ پہننے کا قانون موجود نہیں۔

ہائی وے سیفٹی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار برس کے دوران لوگوں میں بیلٹ باندھنے کے حوالے سے معمولی فرق آیا ہے اس لیے اس ضمن میں بہت کچھ کرنا ہوگا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی بہت ضروری ہے تاکہ بیلٹ استعمال کرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہوسکے۔ ریاستی قوانین بھی اس حوالے سے سخت کرنا ہوں گے جبکہ ان پر عمل درآمد بھی لازمی بنانا ہوگا۔

ہائی وے سیفٹی نارتھ کے ایک سابق عہدیدار ڈاکٹر جیمز لینڈ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق اگرچہ نئی گاڑیوں میں حفاظتی تدابیر کے طور پر اگلی نشستیں زیادہ محفوظ ہوگئی ہیں لیکن کار کی پچھلی نشست پر بیلٹ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے چار سالوں میں صرف ریاست الاباما اور مسیسیپی میں یہ قوانین نافذ العمل ہوئے جن کے سبب پچھلی نشست پر بیلٹ کے بغیر سفر نہیں کیا جاسکتا۔

رپورٹ میں مخصوص سفارشات پیش کی گئی ہیں جنہیں سفر کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ ان سفارشات کے مطابق ریاستوں کو مضبوط قوانین منظور کرنا ہوں گے جب کہ کرائے پر لی جانے والی گاڑیوں میں مسافروں کے لیے بیلٹ کے استعمال کو فعال بنانا اور اُنہیں فروغ دینا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو ایسا سسٹم بنانا ہوگا کہ جس سے پچھلی نشست پر بیٹھنے والے افراد کو بیلٹ باندھنے سے متعلق یاد دہانی کرائی جا سکے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.