بلوچستان کی شاہراہیں غیرمحفوظ، ’سفر زندگی داؤ پر لگانے کے مترادف‘

image
پنجاب کے ضلع ملتان کے رہائشی عبداللہ کوئٹہ میں 10 سال سے قائم اپنی حجام کی دکان چھوڑ کر مستقل طور پر اپنے آبائی علاقے منتقل ہو گئے۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں روزگار ہونے کی وجہ سے انہیں ہر تیسرے چوتھے مہینے اپنے  بلوچستان اور پنجاب کے درمیان سفر کرنا پڑتا تھا لیکن بلوچستان کی شاہراہوں پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کے قتل کے واقعات نے انہیں شدید خوفزدہ کر دیا ہے۔

ان کے بقول ’ان حالات میں بلوچستان کی  سڑکوں پر سفر کرنا زندگی داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔‘

بلوچستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی، بے امنی ، ڈاکہ زنی اور آئے روز احتجاج کی وجہ سے شاہراہوں کی وجہ سے عوامی نقل و حرکت متاثر ہے۔ مسافر غیرمحفوظ ہیں جبکہ ٹرانسپورٹرز کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔

حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

ان حالات میں شاہراہوں پر سفر اب نہ صرف غیرمقامی بلکہ مقامی افراد کے لیے بھی امتحان بن گیا ہے۔ کوئٹہ کے رہائشی اظہر خان کے مطابق ان کا بیٹا بیمار ہے، کوئٹہ میں اچھے ڈاکٹر اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اس کا علاج کراچی میں کرانے پر مجبور ہیں۔

’مجھے ہر ماہ بیٹے کا چیک اپ کرانا لازمی ہوتا ہے لیکن گزشتہ ایک ماہ سے ہم کراچی  نہیں جا سکے۔ ہر بار کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے کبھی احتجاج کی وجہ سے سڑک بند ہوتی ہے تو کبھی مسلح لوگ آکر سڑکوں کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت سڑک کو بنداور ٹریفک کو روک لیتی ہے۔‘

اظہر کا کہنا ہے کہ  جب یہ سب مسائل نہ ہوں تو پھر ڈاکٹر کی اپوائنمنٹ یا دفتر سے چھٹی نہیں مل پاتی۔ ان کے بقول  صوبے میں رہنے والا ہر شخص جیسے ہی سفر کا ارادہ کرتا ہے تو ذہن میں وسوسوں اور اندیشوں کا سیلاب آجاتا ہے کیونکہ شاہراہوں پر روزانہ کچھ نہ کچھ ایسا ہورہا ہے جو اچھا نہیں۔

ناصر شاہوانی نے بتایا کہ ’پہلے کراچی روٹ پر روزانہ تقریباً 200 بسیں چلتی تھیں لیکن اب یہ تعداد 100 سے بھی کم ہو گئی ہے‘ (فائل فوٹو: عرب نیوز)

مسافروں کا یہ خوف بے جا نہیں کیونکہ بلوچستان کی شاہراہوں پر اب ہر قدم پر خطرات کے سایے منڈلاتے نظر آتے ہیں۔

جنوری 2024 سے لے کر اب تک بلوچستان کو سکھر سے ملانے والی این 65، پنجاب سے ملانے والی این 70، براستہ ڈیرہ اسماعیل خیبرپختونخوا اور پنجاب سے ملانے والی این 50، کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی این 25 شاہراہ اور کوئٹہ کو تفتان سے ملانے والی این 40 شاہراہ کی نصف درجن سے زائد بار عسکریت پسندوں کی جانب سے ناکہ بندی کرکے 50 سے زائد مسافروں کا قتل اور درجنوں گاڑیوں کو جلایا گیا۔

ان حملوں میں مارے گئے بیش تر کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا جنہیں شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد بسوں اور گاڑیوں سے اتار کر گولیاں ماری گئیں۔

اگست 2024 میں موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں بلوچستان کو پنجاب سے ملانے والی این 70 شاہراہ پر 23 مسافروں اور پچھلے ہفتے اسی شاہراہ پر بارکھان کے علاقے رڑکن کے مقام پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات مسافروں کو بس سے اتار کر قتل کیا گیا۔

رواں ہفتے بولان کے علاقے پیر غائب، آب گم اور بی بی نانی کے مقام پر این 65 شاہراہ کی عسکریت پسندوں نے اس وقت ناکہ بندی کی جب  ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایک تبلیغی اجتماع سے واپس آ رہے تھے۔

بلوچستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی، بے امنی، ڈاکہ زنی اور آئے روز احتجاج کی وجہ سے شاہراہوں کی وجہ سے عوامی نقل و حرکت متاثر ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس دوران سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کی زد میں آ کر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے دو راہ گیر ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

عسکریت پسند پانچ گھنٹوں سے زائد تک سڑکوں پر موجود رہے۔ اس دوران وہاں سے گزرنے والے حکمراں جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی اورپارلیمانی سیکریٹری ٹرانسپورٹ لیاقت لہڑی کی گاڑی روک کر ان کے تین محافظوں سے اسلحہ چھین لیا تاہم انہیں جانے دے دیا۔

اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ حکومت کو امن وامان کے قیام میں ناکامی پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ان واقعات کے بعد بلوچستان میں شہری خاص کر رات کے اوقات میں شاہراہوں پر سفر کرنے سے خوفزدہ ہیں۔

آل بلوچستان بس ٹرانسپورٹ یونینز کے ترجمان ناصر شاہوانی کا کہنا ہے کہ ’حالات پہلے بھی اچھے نہیں تھے مگر بلوچستان میں نئی حکومت کے بعد امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہو چکی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ شاہراہیں غیرمحفوظ ہو چکی ہیں۔ روزانہ کبھی ڈاکو بسوں کو لوٹ رہے ہیں تو کبھی عسکریت پسند پہاڑوں سے سڑکوں پر آ کر گھنٹوں تک  گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہیں اور جس کو مرضی اتار کر قتل کر دیتے ہیں۔

ناصر شاہوانی کے مطابق پنجاب، سندھ اور باقی صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے تو بلوچستان کا رخ  کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ صوبے کے مقامی افراد بھی سفر کرنے سے کتراتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے کراچی روٹ پر روزانہ تقریباً 200 بسیں چلتی تھیں لیکن اب یہ تعداد 100 سے بھی کم ہو گئی ہے، اس میں بھی سواریاں پوری نہیں ہوتیں۔‘

محکمہ داخلہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق صوبے کی تمام اہم قومی شاہراہوں پر 27 جوائنٹ رسپانس سینٹرز قائم کیے گئے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

ڈیرہ غازی خان کے رہائشی سجاد حسین نے گزشتہ برس بلوچستان سے فارمیسی اسسٹنٹ کا کورس مکمل کیا لیکن بلوچستان میں پنجاب تعلق رکھنے والے مسافروں کے قتل کے واقعات کے بعد اب انہیں والدین بلوچستان جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔

سجاد حسین کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کہتے ہیں کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتے۔

حکومت نے مسافروں اور شاہراہوں کی سیکورٹی کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا لیکن ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔

اپریل 2024 میں نوشکی کے واقعے کے بعد حکومت نے پنجاب اور دیگر صوبوں کو جانے والی مسافر بسوں کو رات کے اوقات میں سفر نہ کرنے یا پھر سکیورٹی کے حصار میں قافلے کی صورت میں سفر کرنے، مالکان کو بسوں میں سکیورٹی گارڈ تعینات کرنے جیسے احکامات دیے تھے تاہم ان  عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی قومی شاہراہوں پر نئی چیک پوسٹیں بنانے کا عندیہ دیا تھا۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق صوبے کی تمام اہم قومی شاہراہوں پر 27 جوائنٹ رسپانس سینٹرز قائم کیے گئے جہاں پولیس اور لیویز کے ساتھ ساتھ ایف سی کو بھی تعینات کیا گیا۔

اسی طرح مکران میں کوسٹل ہائی وے پولیس بنائی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد کالعدم تنظیموں کی جانب سے شاہراہ کی بندش کی اطلاع پر فوری کارروائی کرنا تھا تاہم حالیہ واقعات نے ان سکیورٹی اقدامات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

بلوچستان حکومت نے اب ایک بار پھر شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

سیکریٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان حیات کاکڑ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ٹرانسپورٹ اور مسافروں کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔

بلوچستان حکومت نے اب ایک بار پھر شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس سلسلے میں محکمہ داخلہ، سکیورٹی اداروں اور ٹرانسپورٹرز  کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ٹرانسپورٹ زیادہ سے زیادہ دن میں چلیں تاہم اس سلسلے میں ٹرانسپورٹرز کے کچھ تحفظات ہیں۔

بلوچستان میں سب سے بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک حاجی دولت لہڑی کا کہنا ہے کہ پنجاب اور بلوچستان کے درمیان روزانہ تقریباً 300 بسیں چلتی ہیں۔ حکومت کا اصرار ہے کہ ژوب سے براستہ ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ سے براستہ لورالائی، بارکھان اور ڈیرہ غازی خان پنجاب جانے والی بسوں کو صبح سات بجے سے دن 12 بجے کے درمیان کوئٹہ سے نکالا جائے اور پنجاب سے بھی ایسے اوقات میں بسیں چلائی جائیں کہ وہ دن کے اوقات میں بلوچستان میں داخل ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت صبح سے رات نو 10 بجے تک ہر بڑی کمپنی تقریباً ہر ایک گھنٹے میں ایک بس نکالتی ہے۔ ساری بسیں ایک ہی وقت میں نہیں چلائی جا سکتیں۔ یہ قابل عمل مطالبہ نہیں۔‘

دولت لہڑی کے مطابق بلوچستان میں کوئی سڑک دو رویہ نہیں۔ ساری سنگل سڑکیں ہیں جن پر دن کے وقت ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، موٹر سائیکلیں اور گدھا گاڑیوں کی بھرمار ہوتی ہیں۔ ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹے میں بھی طے نہیں ہوتا۔ اس طرح حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جائےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ رات کے اوقات بسوں کو قافلوں کی شکل میں سکیورٹی حصار میں بھیجیں یا پھر راستوں میں ایسی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں جس کا مقصد صرف امن وامان کا قیام ہو۔‘

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی ویز پر سکیورٹی کو بہتر بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن آدھے پاکستان پر مشتمل رقبے میں سکیورٹی کی فراہمی میں چیلنجز کا سامنا ہے۔  پورے صوبے میں موٹر وے پولیس کا وجود آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ نیشنل ہائی ویز پر ہمیں موٹر وے پولیس کی ضرورت ہے اس سلسلے میں صوبائی حکومت وزیراعظم سے مطالبہ کرچکی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی ویز پر سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک باقاعدہ پلان بنایا جا رہا ہے جس پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگے گا۔ بلوچستان حکومت نے صوبے میں قومی شاہراہوں پر تعینات سکیورٹی فورسز کو وسائل کی فراہمی کے لیے بھی وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے۔ ان وسائل کی فراہمی کے نتیجے میں بہتری آئے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عسکریت پسندوں کی صلاحیت میں اضافہ ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

ترجمان صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ’ٹرانسپورٹرز حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس نے بلوچستان حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ ضلعے میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے بلوچستان سے آنے والی بسوں کو رات کے وقت سفر کی اجازت نہ دی جائے۔ ہم نے اس سلسلے میں ٹرانسپورٹرز کو لکھ کر دیا لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عسکریت پسندوں اور ان کی تنظیموں کی صلاحیت اور افرادی قوت میں اضافہ ہے۔

صوبے میں نہ صرف عام مسافروں بلکہ چھٹیوں پر آبائی علاقوں کو جانے والے یا وہاں سے واپس آتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے قافلوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ 

جنوری میں تربت میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بس پر حملے اور فروری میں قلات میں سکیورٹی اہلکاروں کو کراچی لے جانے والی وین پر حملے میں پچیس سے زائد اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ 

ان حملوں کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی آمد و رفت کے دوران حفاظتی اقدامات اور تدابیر کو بڑھایا گیا ہے۔

بلوچستان میں عسکریت پسندی کے ساتھ ساتھ ڈاکوؤں کی لوٹ مار اور آئے روز احتجاج کی وجہ سے شاہراہوں کی بندش نے بھی مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ٹرانسپورٹ یونین کے ترجمان ناصر شاہوانی کا کہنا ہے کہ ’روزانہ بسوں کو لوٹا جا رہا ہےجس کے خلاف رواں مہینے کے شروع میں ٹرانسپورٹرز نے پانچ دن تک ہڑتال بھی کی، اس کے باوجود حکومت ڈاکوؤں کو قابو نہیں کر سکی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’احتجاج کی وجہ سے روزانہ شاہراہوں کی بندش بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ کوئٹہ کراچی شاہراہ پچھلے ایک ماہ میں 10 سے زائد بار بند ہوئی ہے اور کئی بار تو مسلسل تین سے چار دن تک بند رہی اور اس وقت بھی گزشتہ دو دنوں سے یہ شاہراہ بند ہے۔‘

بلوچستان میں کوئی بھی قومی شاہراہ دو رویہ نہیں اس لیے حادثات کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

ناصر شاہوانی کے مطابق ’ہم بس نکالنے سے پہلے کئی بار چیک کرتے ہیں لیکن جب ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچتے ہیں تو سڑک بند ہوتی ہے۔ جب  ہم متبادل سڑکیں اختیار کرتے ہیں تو وہ راستہ لمبا پڑتا ہے اور لوگ زیادہ کرایہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ بعض اوقات بیک وقت کئی کئی شاہراہیں بند رہتی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ٹرانسپورٹرزنے کروڑوں روپے کی بسیں قسطوں پر لی ہیں۔ اس صورتحال میں ہم قسط تو دور عملے کی تنخواہ بھی پوری نہیں کر پارہے۔‘

پشین کے رہائشی احسان اللہ آغا نے بتایا کہ کراچی سے کوئٹہ آتے ہوئے مستونگ میں سڑک بند ہونے کی وجہ سے انہوں نے 20 کلومیٹر سے زائد کا سفر پیدل کیا اور پھر ایک ٹیکسی کر کے کوئٹہ تک پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ’مسافروں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے۔ انہوں نے بھی کئی گھنٹے بارش میں ہمارے ساتھ پیدل سفر کیا۔‘

ترجمان صوبائی حکومت شاہد رند کا کہنا ہے کہ حکومت نے شاہراہوں پر احتجاج پر دفعہ 144 نافذ کرکے پابندی لگائی ہے مگر اس کے باوجود لوگ آ کر سڑکیں بند کر دیتے ہیں۔ احتجاج میں خواتین و بچے شامل ہوتے ہیں، اگر حکومت طاقت کا استعمال کرکے انہیں ہٹائے اور راستہ کھولے تو پھر سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔

بلوچستان میں شہری رات کے اوقات میں شاہراہوں پر سفر کرنے سے خوفزدہ ہیں (فائل فوٹو: بی وائے سی)

بلوچستان میں سکیورٹی کی غیرمستحکم صورتحال، شاہراہوں کی بندش اور دوسری وجوہات کی بناء پر  لوگ اب  ٹرین اور ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

طلب بڑھنے کی وجہ سے کوئٹہ سے اسلام آباد اور کراچی کی پروازوں کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

کوئٹہ کے رہائشی فرید احمد نے بتایا کہ گزشتہ دنوں خضدار میں ایک خاتون کےا غوا کے خلاف تین دنوں تک سڑک بند رہنے کی وجہ سے انہیں عام دنوں میں 15 ہزار روپے میں ملنے والا ہوائی جہاز کا ٹکٹ 60 ہزار روپے میں خریدنا پڑا کیونکہ  ایک لازمی کاروباری میٹنگ کے لیے کراچی جانا تھا۔

بلوچستان میں کوئی بھی قومی شاہراہ دو رویہ نہیں اس لیے حادثات کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

میڈیکل ایمرجنسی اینڈ رسپانس سینٹر کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے جون 2024 تک صوبے کی 6 شاہراہوں پر 10 ہزار سے زائد حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 13 ہزار613 افراد زخمی اور 218 افراد کی اموات ہوئیں۔ ان میں سے تقریباً نصف حادثات اور اموات کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ہوئیں۔

احسان آغا کہتے ہیں کہ ’سفر مجبوری ہے لوگ علاج، روزگار، کاروبار یا پیاروں سے ملنے کی غرض سے ایک سے دوسرے شہر یا صوبے جاتے ہیں لیکن عسکریت پسند حملوں، ڈاکوؤں کی لوٹ مار، احتجاج کی وجہ سے آئے روز اہم سڑکوں کی بندش اور حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح نے مسافروں کے لیے بلوچستان کی سڑکوں پر سفر کو حقیقت میں انگریزی والا ’سفر‘ بنا دیا ہے۔‘

 


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.