انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ’کمانڈوز‘ کے روپ میں سیاحوں کو لوٹنے والے بہروپیے گرفتار

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے ایسے چار نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو پولیس کمانڈوز کے بھیس میں نقلی بندوقیں دِکھا کر سیاحوں کو لوٹ رہے تھے۔
پولیس کمانڈوز
Getty Images
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے ایسے چار نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو پولیس کمانڈوز کے بھیس میںنقلی بندوقیں دِکھا کر سیاحوں کو لوٹ رہے تھے

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے ایسے چار نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو پولیس کمانڈوز کے بھیس میںنقلی بندوقیں دِکھا کر سیاحوں کو لوٹ رہے تھے۔

ہریانہ کے رہنے والے ایک سیاح چنچل سنگھ گذشتہ ہفتے سرینگر کی مغربی شاہراہ پر شالٹینگ نامی علاقے میں رات کو اپنی گاڑی میں جا رہے تھے کہ کالی وردی میں ملبوس بندوقیں تھامے چند نوجوانوں نے انھیں رُکنے کا اشارہ کیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں چنچل سنگھ نے بتایا کہ مجھے لگا کہ یہ معمول کی چیکنک ہو رہی ہے۔

’میں نے گاڑی روکی تو مجھے بندوق دکھا کر لوٹ لیا گیا۔ میرے پیسے، اے ٹی ایم کارڈ چھین لیے گئے۔‘

واقعے کے بعد چنچل سنگھ نے شالٹینگ پولیس تھانے میں رپورٹ لکھوائی جس کے بعد پولیس نے ہائی وے پر لوگوں کو لوٹنے والے نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کردی۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس کی چار الگ الگ ٹیمیں چار روز تک ہائی وے پر ان نوجوانوں کا کھوج لگاتی رہیں اور بالآخر پولیس کمانڈوز کے بھیس میں عام شہریوں کو لوٹنے والے ان چار نوجوانوں کے گینگ کا سراغ مل گیا گور انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو نوجوانوں کا تعلق ضلع بڈگام اور دیگر دو کا تعلق سرینگر سے ہے۔

پولیس کے مطابق ان ملزمان کی تحویل سے ایک کار، متعدد موبائل فون، اے ٹی ایم کارڈز،نقدی، کمانڈوز کی سیاہ وردیاں اور دو نقلی بندوقیں برآمد ہوئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان گاڑیوں کی نمبرپلیٹ دیکھ کر یہ اندازہ لگاتے تھے کہ یہ کشمیر سے باہر کی گاڑی ہے اور پھر سیاحوں اور دوسرے غیرمقامی مسافروں کو لوٹتے تھے۔

پولیس کے مطابق چاروں عادی مجرم ہیں اور کشمیر کے مختلف پولیس تھانوں میں ان کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔

جعل سازی کی بڑھتی وارداتیں

گذشتہ دس سال کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ ان جرائم میں قتل، چوری اور ڈکیتی سے زیادہ ایسے جرائم ہیں جن میں لوگ ڈاکٹروں یا پولیس افسروں کے بھیس میں لوگوں کو لوٹتے ہیں۔

گذشتہ برس اپریل میں بھی ایک ایسے ہی جعلساز کا معاملہ سامنے آیا تھا جب ایک نامعلوم شخص جموں کشمیر کے اُس وقت کے پولیس سربراہ آر آر سِوین کی پروفائل فوٹو لگا کر لوگوں اور پولیس کے جونیئر افسروں کو فون کرتا تھا اور تبادلوں یا ترقی کا وعدہ کر کے ان سے نقدی وصول کررہا تھا۔ اس بارے میں ابھی بھی تحقیقات جاری ہے۔

رواں برس بھی فروری کے اوائل میں بارہمولہ پولیس نے راجوری کے رہنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا جو خود کو کارڈیالوجسٹ کہتا تھا۔

دو سال قبل بھی انڈیا میں پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا تھا جو خود کو وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کا اعلیٰ اہلکار ظاہر کرتا رہا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق کرن پاٹیل نامی اس شخص کو مارچ 2023 میں اس وقت پولیس نے گرفتار کیا تھا جب کشمیر کے دورے پر تھا۔

انھیں دھوکہ دہی، کسی دوسرے شخص کا روپ دھارنے اور جعل سازی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کی مدعیت میں درج کردہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کرن پاٹیل خود کو اعلیٰ افسر ظاہر کر کے مالی اور دیگر فوائد حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اپنے ’دوروں‘ کے دوران کرن پاٹیل کو مختلف مقامات پر نہ صرف بہترین سکیورٹی فراہم کی گئی بلکہ وہ بلٹ پروف گاڑی میں گھومتے رہے اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتے رہے۔

اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کی گئیں جو ابھی بھی جاری ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.