چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے بارش کی نذر ہونے والے میچز: شائقینِ کرکٹ ٹکٹوں کی رقم واپس کیسے لیں؟

راولپنڈی میں دو میچز بارش کی نذر ہونے کے بعد اس وقت بیشتر شائیقین یہی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ میچ نہ ہوں تو ٹکٹوں کے پیسے کیسے واپس ہوں؟ تو چلیں سمجھتے ہیں کہ ٹکٹوں کی ری فنڈ کی پالیسی ہے کیا اور کس کس صورت میں آپ میچ نہ ہونے کے جذباتی نقصان سے نہ سہی تو ٹکٹ ضائع ہونے کے مالی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔
کرکٹ بارش
Getty Images

کھایا پیا کچھ نہیں اور گلاس ٹوٹا بارہ آنے۔۔۔ ایسی ہی حالت آج پاکستان خاص طور پر راولپنڈی اسلام آباد میں کرکٹ کے شائقین کی ہے۔کیونکہ پہلے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ اور اب بنگلہ دیش اور پاکستان کا میچ بارش کے باعث منسوخ ہو گیا۔

کھیلوں سے لگاؤ رکھنے والے اور خاص طور پر برسوں بعد کسی بڑے ایونٹ میں اپنے پسندیدہ کھیل کا لطف لینے کی امید پر رقم خرچ کرنے والے یقیناً اس احساس سے اچھی طرح واقف ہوں گے کیونکہ جس بارش کا پاکستانیوں کو پورے موسمِ سرما انتظار رہا وہ برسی بھی تو چیمپیئن ٹرافی کے میچز کو بہا کر لے گئی۔

شائقین ٹکٹ تھامے بے بسی سے سُونے گراؤنڈ کو تک کر واپس لوٹ گئے اور تو اور ان کے ٹکٹوں کی رقم بھی ڈوب گئی۔

اب آپ کہیں گے میچ نہیں ہوا تو پیسے واپس ہونے چاہیں لیکن یہ اتنا آسان نہیں۔ اس کے لیے کچھ اصول و ضوابط ہیں۔

اگر آپ منتظمین کو ٹکٹ دکھا کر شائقین کی نشستوں پر جا بیٹھے ہیں اور میچ شروع ہو کر رکا تو بھی ٹکٹ ناقابلِ واپسی ہے۔ اگر آپ بیٹھے لیکن میچ نہیں ہوا تب بھی۔ حتیٰ کے آپ صرف سٹیڈیم میں داخل ہو گئے تب بھی۔

ایسا ہی کچھ ہوا عمر عزیز کے ساتھ ہوا جو اپنے دوست کے ساتھ چیمپیئنز ٹرافی کا میچ دیکھنے راولپنڈی سٹیڈیم تو گئے لیکن بارش نے انھیں مایوس لوٹا دیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہم آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کا میچ دیکھنا چاہ رہے تھے۔ میرے دوستوں نے سوچا تھا یہی ایک میچ ہے جو ہم نے دیکھنا تھا۔ اس دن صبح موسم کا حال دیکھ کر کافی مایوسی ہوئی تھی لیکن ہم ایک امید لے کر گراؤنڈ پہنچے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹکٹ ریلیز ہوتے ہی اُسی دن ہم نے 12 ہزار کے ٹکٹ لیے۔ ہم وی آئی پی گیلری میں بیٹھ کر بڑی ٹیموں کا میچ انجوائے کرنا چاہتے تھے۔‘

عمر عزیز کا کہنا تھا کہ انھیں اندازہ ہے کہ ٹکٹوں کے لیے ان کی رقم ڈوب گئی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا ’ہم نے انٹرنیٹ پر سرچ کیا لیکن کوئی ری فنڈ کی امید نظر نہیں آئی۔ اور ہم ٹکٹ سکین کروا کر نشستوں تک جا چکے تھے۔ لیکن یہ ہماری قسمت تھی۔ ہم نے ای میل کر تو دی ہے کہ ہم نے میچ نہیں دیکھا اور ری فنڈ کے لیے اپلائی کر دیا ہے۔‘

لیکن اب ان کی نگاہ آگلے کرکٹ ایونٹ پر ہے۔۔۔ وہ کہتے ہیں ’ہم پی ایس ایل کے لیے پرامید ہے ، بڑے کھلاڑی وہاں بھی آئیں گے۔ ہو سکتا ہے ہم انھیں وہاں کھیلتے ہوئے دیکھ پائیں گے۔‘

عمرعزیز نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے گذارش کی کہ ری فنڈ کی پالیسی کو مزید واضح کریں تاکہ عام لوگ بھی اسے سمجھ کر ری فنڈ حاصل کر سکیں۔

راولپنڈی میں دو میچز بارش کی نذر ہونے کے بعد اس وقت بیشترکرکٹ شائقین یہی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ میچ نہ ہوں تو ٹکٹوں کے پیسے کیسے واپس ہوں؟ تو چلیں سمجھتے ہیں کہ ٹکٹوں کی ری فنڈ کی پالیسی ہے کیا اور کس کس صورت میں آپ میچ نہ ہونے کے جذباتی نقصان سے نہ سہی تو ٹکٹ ضائع ہونے کے مالی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔

کرکٹ بارش
Getty Images

ٹکٹ کی رقم کی واپسی کب کب ممکن ہے؟

آئی سی سی کی چیمئنز ٹرافی 2025 سے متعلق ویب سائٹ پر ٹکٹوں کے ری فنڈ سے متعلق قواعد و ضوابط کچھ یوں ہیں۔

میچ منسوخی کی صورت میں: اگر کوئی میچ ٹاس سے پہلے خراب موسمی حالات یا دیگر غیر متوقع حالات سمیت کسی بھی وجہ سے منسوخ ہوجاتا ہے تو ٹکٹ ہولڈرز ٹکٹ کی قیمت کی مکمل واپسی کے حقدار ہیں۔ تاہم اس کے لیے اصل ٹکٹ واپس کرنے ہوں گے۔لیکن اگر ٹکٹ داخلے کے لیے سکین ہو جاتا ہے تو کوئی ریفنڈ لاگو نہیں ہوگا، بھلے ہی میچ کا ٹاس نہ ہوا ہو۔

موسم سے متعلق ریفنڈ کی پالیسی: اگر ٹاس ہونے کے بعد میچ منسوخ کر دیا جاتا ہے، بے شک ایک بھی گیند نہ پھینکی جائے تو کوئی ریفنڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔ خراب موسم، کھیل کے حالات، قومی سوگ یا دیگر غیر یقینی حالات کی وجہ سے ٹاس کے بعد منسوخ یا منسوخ ہونے والے میچز کے ٹکٹس ریفنڈ کے اہل نہیں ہوں گے۔

میچوں کے ری شیڈول یا منتقلی کی صورت میں: اگر کسی میچ کو ری شیڈول کیا جاتا ہے اور ٹکٹ خریدار نئی تاریخ میں شرکت نہیں کرسکتا ہے تو وہ ٹکٹ کی رقم کی واپسی کے اہل ہیں۔ اگر مقام تبدیل ہوتا ہے اور ٹکٹ خریدار نئے مقام پر شرکت نہیں کرسکتا ہے تو وہ ٹکٹ کی رقم کی واپسی کے اہل ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی میچ ملتوی کر دیا جاتا ہے اور ٹکٹ خریدنے والا ری شیڈول تاریخ میں شرکت نہیں کرسکتا ہے تو وہ ٹکٹ کی رقم کی واپسی کے اہل ہیں۔

کرکٹ بارش
Getty Images

رقم واپس کیسے لی جا سکتی ہے ؟

اگر اوپر بتائے کسی بھی وجہ سے آپ اپنا ٹکٹ لوٹا کر رقمواپس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو رقم کی واپسی کی درخواست کرنے کے لیے ہیڈ آف ٹکٹنگ ای سی بی سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرنا ہوگا۔ واپسی کی درخواست کی وجہ کے ساتھ آرڈر نمبر اور سیٹ کی معلومات سمیت ٹکٹ کی تفصیلات فراہم کرنا ہوتی ہے۔

میچ منسوخ ہونے، ری شیڈول کرنے، منتقل کرنے یا ملتوی ہونے کے تیس (30) دنوں کے اندر ریفنڈ کی درخواستیں جمع کرانا ضروری ہیں۔ مخصوص مدت میں ایسا نےکرنے پر رقم کی واپسی کا دعویٰ کرنے کا حقباقی نہیں رہے گا۔

اسی عمل کا اطلاق ٹکٹوں کی آف لائن خریداری پر بھی ہوتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ خریداری کی تمام رسیدیں اور دستاویزات سنبھال کر رکھیں۔

کن صورتوں میں رقم واپس نہیں ملے گی:

  • اگر ٹاس کے بعد میچ منسوخ کر دیا گیا۔
  • خراب موسم، کھیل کے ناساز حالات، قومی سوگ کی صورت میں یا ٹاس کے بعد میچ منسوخہونے کی صورت میں۔
  • ٹکٹ کی دوبارہ فروخت یا کسی دوسرے شخص کو منتقل کرنے کی صورت میں
  • غیر مجاز تھرڈ پارٹی وینڈرز یا ری سیل پلیٹ فارمز کے ذریعے خریدے گئے ٹکٹ۔
  • ضوابط کی خلاف ورزی کی وجہ سے مقام سے بے دخلی کی صورت میں۔
  • مفت ٹکٹ یا پاسز
  • ٹکٹ گم ، چورییا مسخ ہونے کی صورت میں
  • ذاتی وجوہات یا منصوبوں کی تبدیلی کی وجہ سے
  • بیرونی عوامل جیسے پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی بندش، سکیورٹی چیکنگ و نگرانی وغیرہ کی وجہ سے سٹیڈیم میں داخلے میں تاخیر کی صورت میں
  • وہٹکٹ جو غیر مجاز ذرائع سے خریدے گئے
کرکٹ بارش
Getty Images

ٹکٹ کون خرید سکتا ہے اور کیسے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟

آئی سی سی کے ساتھ ساتھ پی سی بی کی جانب سے بھی چیمپیئن ٹرافی 2025 کے ٹکٹوں کی خرید و فروخت اور استعمال کے لیے رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں۔

جن کے مطابق ٹکٹ خریدنے والوں کی عمر اٹھارہ (18) سال یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے اور خریداری کے وقت اپنا پاسپورٹ نمبر یا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) نمبر فراہم کرنا ضروری ہے۔

ٹکٹ صرف سرکاری ٹکٹنگ ایجنٹوں یا مجاز ایجنٹوں کے ذریعہ یا آئی بی سی کے ذریعہ یا اس کی طرف سے تحریری طور پر مجاز کسی دوسرے فروخت یا منتقلی کے طریقہ کار کے ذریعے خریدے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی فرد، تنظیم یا کسی تیسرے فریق کی طرف سے فروخت کردہ کوئی بھی ٹکٹ درست نہیں ہو گا جس کا نام ایسی فہرستوں میں نہیں ہے۔

کسی بھی ٹکٹ کی فروخت یا اجرا حتمی اور ناقابل واپسی ہے سوائے ان حالات کے جو ٹکٹ ریفنڈ پالیسی میں بیان کیے گئے ہیں۔

کسی بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران کوئی بھی میزبان کرکٹ بورڈ کسی بھی ایسے ٹکٹ کو تبدیل کرنے یا قبول نہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جو گم شدہ، چوری، گھر بھول جانے والے، خراب یا جعلی، یا کوئی بھی ٹکٹ جو پڑھنے کے قابلنہ رہا ہو یا نامکمل ہو۔

ایک ہی شناختی کارڈ / پاسپورٹ استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص فی میچ زیادہ سے زیادہ چار ٹکٹ خرید سکتا ہے۔

چونکہ یہ تمام ٹکٹ خریدار کے نام پر جاری ہوتے ہیں اس لیے ٹکٹوں کی منتقلی ممکن نہیں ہے۔ ایک ٹکٹ خریدار صرف اپنے ذاتی استعمال اوراپنے مہمان کے لیے ٹکٹ خرید سکتا ہے۔ ہر ٹکٹ خریدار کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے کم از کم ایک ٹکٹ اپنے پاس رکھنا ضروری ہے اور بقیہ ٹکٹ اپنے مہمانوں کو منتقل کرسکتا ہے۔ لیکن یہ مہمان ٹکٹ خریدار کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔

ٹکٹ کسی ایسے شخص کو پیش کش یا منتقل نہیں کیا جا سکتا جس سے ٹکٹ کے بدلے میں کوئی سامان یا خدمات خریدنے پر رضامندی حاصل کی گئی ہو۔

ٹکٹ خریدار کسی دوسرے شخص کے لیے ایجنٹ کے طور پر کوئی ٹکٹ نہیں خرید سکتا ہے اور نہ ہی ٹکٹ خریدار اور نہ ہی کوئی مہمان کسی بھی طریقے سے ٹکٹ کی فروخت کی پیش کش یا نیلامی کر سکتا ہے۔

کرکٹ بارش
Getty Images

ٹکٹ خریداروں کے لیے بہترین طریقہ کار

اگرآپ بھی چیمپئنز ٹرافی یا کسی اور ٹورنامنٹ کے میچز دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کچھ باتوں کا خیال رکھ کر نہ صرف آپ وقت پر میچ انجوائے کر سکتے ہیں بلکہ میچز منسوخ ہونے کی صورت میں ری فنڈ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

کوشش کریں کہ ہمیشہ مستند ذرائع سے ٹکٹ خریدیں اور ہمیشہ مجاز چینلز کے ذریعے ٹکٹ خریدیں تاکہ رقم کی واپسی کی قانونی حیثیت اور اہلیت کو یقینی بنایا جاسکے۔

ٹکٹوں خریداری کا ثبوت اپنے پاس سنبھال کر رکھیں جن میں رسیدیں اور تصدیقی ای میلز شامل ہیں کیونکہ واپسی کے دعوؤں کے لیے ان کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

میچوں کےبارے میں خبر رکھیں اور ریفنڈ کے طریقہ کار کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے لیے باقاعدگی سے سرکاری سائٹس اور ذرائع پر نظر رکھیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.