اپنے عکس کو خود سے ، جُدا کر کے

Poet: اخلاق احمد خان
By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachi

اپنے عکس کو خود سے ، جُدا کر کے
چل سکا کون یہ ، فیصلہ کر کے

میرے مُخالِفوں سے ہی تھا عروج میرا
میں تھم گیا ہوں ان سے ، کنارہ کر کے

بات بات پر بنٹ جانے کی عادت نے
ہمیں رکھ دیا جہاں میں ، پسپا کر کے

یہ منبروں سے اتحاد شکن تقریریں
کیا ملتا ہے تمہیں امت کو ، رسوا کر کے

اِن فرقوں کا موجد بھی فرنگی ہے
جاٶ دیکھ لو تاریخ کا ، پیچھا کر کے

بات سیدھی تھی مگر دل میں اترتی کیسے
ہم نے رکھا ہی نہیں دل کو ، سیدھا کر کے

لوگ جب سے اک دوجے کے دِلوں میں گھس بیٹھے
بیٹھتے دیکھا نہ اُنہیں پھر اک ، حلقہ کر کے

اپنے یقین کو سینے میں سینچٸیے اپنے
کیوں پھیلاتے ہو فِتنے ، چرچا کر کے

غمِ أقاﷺ سے گر تجھے کچھ نسبت ہوتی
کرتا دعا تو راتوں کو ، سجدہ کر کے

جزبہِ عشقِ حقیقی سے اب تک ” اخلاق “
تم نے دیکھا ہی نہیں خود کو ، أشنا کر کے

Rate it:
03 Sep, 2019

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Akhlaq Ahmed Khan
Visit 93 Other Poetries by Akhlaq Ahmed Khan »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City