دھوکے پہ دھوکہ اس طرح کھاتے چلے گئے

Poet: روبینہ ممتاز روبیBy: نعمان علی, Karachi

دھوکے پہ دھوکہ اس طرح کھاتے چلے گئے
ہم دشمنوں کو دوست بناتے چلے گئے

ہر زخم زندگی کو گلے سے لگا لیا
ہم زندگی سے یوں ہی نبھاتے چلے گئے

وہ نفرتوں کا بوجھ لیے گھومتے رہے
ہم چاہتوں کو ان پہ لٹاتے چلے گئے

جو خواب زندگی کی حقیقت نہ بن سکا
اس کے حسیں فریب میں آتے چلے گئے

روبیؔ چھپانا درد کو آساں نہ تھا مگر
ہم آڑ میں ہنسی کی چھپاتے چلے گئے

Rate it:
Views: 298
14 Jan, 2022