سوچتا ہوں

Poet: Sahir Ludhyanvi
By: uzma ahmad, Lahore

سوچتا ہوں کےمحبت سے کنارا کر لَوں
دل کو بیگانہء ترغیبِ تمنا کر لوں

سوچتا ہوں کہ محبتہے جنونِ رسوا
چند بے کار سے بیہودہ خیالوں کا ہجوم
ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس
ایک بیگانے کو اپنانے کی سعیِ موہوم

سوچتا ہوں کہ محبت ہے سرور و مستی
اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے
سوچتا ہوں کے محبت سے ہے تابندہ حیات
اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے

سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں
اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں

سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش
چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی
دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی
درگاہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی

سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں
ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اِک کارِ زبوں

سوچتا ہوں کہ محبت نہ بچے گی زندہ
پیش از وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش
یہی بہتر ہے کہ بیگانہء اَلفت ہو کر
اپنے سینے میں کروں جذبہء نفرت کی تلاش

سوچتا ہوں کہ محبت سے کنارا کر لوں
خود کو بیگانہء ترغیبِ تمنا کر لوں

Rate it:
13 Dec, 2012

More Sahir Ludhianvi Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: uzma ahmad
Visit 291 Other Poetries by uzma ahmad »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

The poet is right he should act on it but i think its too late for him to get away from all of this... anyways i like this poetry of Sahir Ludhianvi

By: Aslam, khi on Sep, 08 2015

Superb Gazal i liked it very much specially last lines are very effective and live. this gazal is very near to my life. sahi keh rahy hain shair sochta hon k muhabat se kinara kar lon .... well done Sahir Ludhyanvi (respect)

By: Kamran, karachi on Jan, 21 2014

ترقی پسند تحریک کے حوالے سے ساحر اور فیض بہت بڑے شاعر ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے یادگار نظمیں اور غزلیں کہی ہیں۔۔۔۔ ساحر کی یہ نظم اس کی مشہور ترین نظموں میں شامل ہے۔ شدت جزبات اور انداز بیاں کی سادگی جو ساحر کے کلام کا خاصہ ہے یہاں بھی پوری طرح سے موجود ہے۔ ایک وقت تھا کہ کالج کے لان میں بیٹھ کر ہم دوست ساحر کو پڑھا کرتے تھے اور سچ پوچھیے تو کبھی پڑھتے پڑھتے ہماری آنکھیں نم ہو جایا کرتی تھیں۔۔ آج بھی یہی حال ہے ۔۔۔آپ نے میرے ماضی کے کئی دریچے وا کر دئیے اور کتنے گزرے ہوئے کتنے حسیں لمحات ی یادیں اس نظم کے زریعے تازہ کر دیں۔۔۔ آپ کے زوق کی داد دیتا ہوں بہت عمدہ انتخاب ہے ۔ہمیشہ خوش رہیے

By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistan on Dec, 14 2012

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City