میرے سارے سوال باقی ہیں

Poet: ارشد ارشیؔ
By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi

سب بدلتے نصاب دیکھے ہیں
ہم نے ایسے سراب دیکھے ہیں

پھول سوکھے ہیں جو کتابوں میں
میں نے ان کے عذاب دیکھے ہیں

جن کی تعبیر کچھ نہیں ہوتی
میں نے ایسے ہی خواب دیکھے ہیں

لوگ سچے ہیں جو بھی دنیا میں
ہم نے زیرِ عتاب دیکھے ہیں

جب برستی ہے کھل کے کالی گھٹا
ہم نے صحرا سراب دیکھے ہیں

تم نے پایا ہے جس کو دنیا میں
ہم نے بس اس کے خاب دیکھے ہیں

تم محبت کی مالا جپتے ہو
ہم نے اس کے حساب دیکھے ہیں

عشق کے سارے باب دیکھے ہیں
جی ہاں بالکل جناب دیکھے ہیں

تم کو دیکھا تو یوں لگا مجھ کو
جیسے تازہ گلاب دیکھے ہیں

تو نے اک جھوٹا خاب دیکھا ہے
ہم نے تو بے حساب دیکھے ہیں

تم کیا جانو میری قربانی
ہجرتوں کے عذاب دیکھے ہیں

جانے کب آئیں گے مرے اچھًے
وقت سارے خراب دیکھے ہیں

ہم نے محفل میں بیٹھ کر سارے
چہرے وہ بے نقاب دیکھے ہیں

میرے سارے سوال باقی ہیں
تیرے سارے جواب دیکھے ہیں

Rate it:
10 Oct, 2018

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Muhammad Arshad Qureshi
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
Visit 189 Other Poetries by Muhammad Arshad Qureshi »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City