یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

Poet: م الف ارشیؔ
By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachi

ہے یہاں کون مرا آ کے سنبھالے مجھ کو
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

اس کی ان چالوں سے ہرگز بھی نہ بچ پایا میں
پھنس چکا ہوں یہاں اب کوئی نکالے مجھ کو

چھوڑ باتیں یہ گلے شکوے بھی اب رہنے دے
آج بے ساختہ سینے سے لگالے مجھ کو

اب کے جو سویا تو شاید ہی کبھی اٹھ پاؤں
آخری بار یہ کہتا ہوں جگا لے مجھ کو

غم کی شدت سے مری آنکھیں بھی بھر آئی ہیں
دیکھ حالت یہ مری پاس بلالے مجھ کو

میں شجر ہوں گھنا دوں گا تجھے سایہ اک دن
دیکھ لالچ میں کوئی کاٹ نہ ڈالے مجھ کو

یوں پریشاں نہ ہو ہمراز بنالے مجھ کو
دل میں اپنے تو بس اک بار بسالے مجھ کو

اب تو دشمن بھی مرے دوست بنے پھرتے ہیں
کوئی اپنا ہی کہیں مار نہ ڈالے مجھ کو

میں نے بس اپنی ہی باتوں کی دلیلیں دی ہیں
اور وہ دیتا ہے لوگوں کے حوالے مجھ کو

میں جو بکھرا ہوں تو بس یوں ہی پڑا رہنے دو
اب نہیں کوئی نئے سانچے میں ڈھالے مجھ کو

میری آنکھوں سے ٹپکتا ہے لہو بھی اکثر
اب تو ملتے ہیں کئی زخم نرالے مجھ کو

آخرش لوگوں کو ترس آہی گیا ہے مجھ پر
اب بچاتے ہیں وہی مارنے والے مجھ کو

اب ندامت سے جھکا رہتا ہے سر ارشیؔ کا
میرے اللہ تو گناہوں سے بچالے مجھ کو

Rate it:
26 Jun, 2019

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Muhammad Arshad Qureshi
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
Visit 189 Other Poetries by Muhammad Arshad Qureshi »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City