Poetries by M.Asghar
ہمارا کیا ہے تمہاری پیار بھری ڈانٹوں سے دل بہلا لیں گے ہمارا کیا ہے
کھانےکو کچھ نہ ملا تو خیالی پلاؤ کھا لیں گے ہمارا کیا ہے
زندگی بھر دال کے سوا اور کچھ کھلایا نہیں تم نے
ہم آج چٹنی سے کام چلا لیں گے ہمارا کیا ہے
ہمارا تو آج چپل کباب کھانے کو جی چاہتا ہے
تمہیں کباب میں ہڈی بنا لیں گے ہمارا کیا ہے
میرے کانوں کے سوا تم نے کبھی کچھ نہیں کھایا
آج ہم تمہارا بیجا کھا لیں گے ہمارا کیا ہے
لگتا ہے آج کوے کی ہڈی کھائی ہے تم نے
ہم کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں گے ہمارا کیا ہے M.Asghar
کھانےکو کچھ نہ ملا تو خیالی پلاؤ کھا لیں گے ہمارا کیا ہے
زندگی بھر دال کے سوا اور کچھ کھلایا نہیں تم نے
ہم آج چٹنی سے کام چلا لیں گے ہمارا کیا ہے
ہمارا تو آج چپل کباب کھانے کو جی چاہتا ہے
تمہیں کباب میں ہڈی بنا لیں گے ہمارا کیا ہے
میرے کانوں کے سوا تم نے کبھی کچھ نہیں کھایا
آج ہم تمہارا بیجا کھا لیں گے ہمارا کیا ہے
لگتا ہے آج کوے کی ہڈی کھائی ہے تم نے
ہم کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں گے ہمارا کیا ہے M.Asghar
اردو پنجابی میرے خوابوں میں جب وہ پروہنے ہوتے ہیں
پھر میرے سپنے بڑے ڈراؤنے ہوتے ہیں
ہر کوئی کھیلتا ہے ہمارے دل سے ایسے
جیسے ہم ان کے لیے کھڈاؤنے ہوتے ہیں
ہم مسلمانوں کو ایک عید منانے نہیں دیتے
کچھ ایسے بھی پیٹ پرست ملوانے ہوتے ہیں
جو غازہ لگا کر بجلیاں گراتے ہیں دلوں پر
میک اپ بغیر وہی چہرے ڈراؤنے لگتے ہیں
دیر سے آئے تو خفا نہ ہونا اصغر سے
اسے کئی لوگوں کے دل پر چاؤنے ہوتے ہیں M.Asghar
پھر میرے سپنے بڑے ڈراؤنے ہوتے ہیں
ہر کوئی کھیلتا ہے ہمارے دل سے ایسے
جیسے ہم ان کے لیے کھڈاؤنے ہوتے ہیں
ہم مسلمانوں کو ایک عید منانے نہیں دیتے
کچھ ایسے بھی پیٹ پرست ملوانے ہوتے ہیں
جو غازہ لگا کر بجلیاں گراتے ہیں دلوں پر
میک اپ بغیر وہی چہرے ڈراؤنے لگتے ہیں
دیر سے آئے تو خفا نہ ہونا اصغر سے
اسے کئی لوگوں کے دل پر چاؤنے ہوتے ہیں M.Asghar
لوگوں کا مال مجھے جھوٹی تعریفوں سے مکھن لگانا آگیا ہے
جھوٹے لوگوںسے یاری نبھانا آ گیا ہے
میری پہلے بھی کافی بری عادتیں تھیں
اب مجھے لوگوں کا مال دبانا آ گیا ہے
گرنے والوں کو میں کبھی اٹھاتا نہ تھا
جو نظروں سے گرجائیں انہیں اٹھانا آ گیا ہے
جو میرے پیچھے پڑی رہتی تھی ہر پل
ایسی ہستیوں سے مجھے جان بچانا آ گیا ہے
کئی سالوں سے رومانی فلمیں دیکھتے
اب ہمیں بھی دل لگانا آ گیا ہے
جب سے کسی سے ہوئی ہیں آنکھیں چار
تب سے اصغر کو بھی آنسو بہانا آ گیا ہے M.Asghar
جھوٹے لوگوںسے یاری نبھانا آ گیا ہے
میری پہلے بھی کافی بری عادتیں تھیں
اب مجھے لوگوں کا مال دبانا آ گیا ہے
گرنے والوں کو میں کبھی اٹھاتا نہ تھا
جو نظروں سے گرجائیں انہیں اٹھانا آ گیا ہے
جو میرے پیچھے پڑی رہتی تھی ہر پل
ایسی ہستیوں سے مجھے جان بچانا آ گیا ہے
کئی سالوں سے رومانی فلمیں دیکھتے
اب ہمیں بھی دل لگانا آ گیا ہے
جب سے کسی سے ہوئی ہیں آنکھیں چار
تب سے اصغر کو بھی آنسو بہانا آ گیا ہے M.Asghar
کوئی دعا نہیں آتی اب تو لب پہ شمیم دعا نہیں آتی
دریچے کھلے رکھتا ہوں صبا نہیں آتی
سوچتا ہوں کہ مانگ لوں اسکو خدا سے
مگر کیا کروں مجھے کوئی دعا نہیں آتی
پہلے تو آجاتی تھی وہ بن بلائے
اب مجھے ملنے وہ بےوفا نہیں آتی
ہر شام جو پکارا کرتی تھی بام سے
اب کانوں میں اس کی ندا نہیں آتی
میں ریت کے محل بناتا رہتا ہوں اصغر
اب انہیں ڈھانے کو باد صبا نہیں آتی M.Asghar
دریچے کھلے رکھتا ہوں صبا نہیں آتی
سوچتا ہوں کہ مانگ لوں اسکو خدا سے
مگر کیا کروں مجھے کوئی دعا نہیں آتی
پہلے تو آجاتی تھی وہ بن بلائے
اب مجھے ملنے وہ بےوفا نہیں آتی
ہر شام جو پکارا کرتی تھی بام سے
اب کانوں میں اس کی ندا نہیں آتی
میں ریت کے محل بناتا رہتا ہوں اصغر
اب انہیں ڈھانے کو باد صبا نہیں آتی M.Asghar
میرا شوق کسی کو پینے کا شوق ہے کسی کو پلانے کا
ہمیں تو شوق ہے خیالی گھوڑے دوڑانے کا
وہ شخص کبھی خاموشی سے بیٹھ نہیں سکتا
جسے شوق ہو ریڈیو پہ غزلیں سنانے کا
نہ جانے کیوں انہیں اپنے دل میں جگہ دی
اب وہ نام نہیں لیتے یہاں سے جانے کا
میری روتی صورت دیکھ کر وہ کہنے لگی
جی چاہتا ہے گدگدی کر کے تجھے ہنسانے کا
کئی سال ریڈیو میزبانوں سے باتیں کرتے
میں بھی ہو گیا ہوں ماہر باتیں بنانے کا
آسماں کو چھو رہی ہیں مکانوں کی قیمتیں
اب ہمارا ارادہ ہے کسی دل میں گھر بنانے کا
بیکار آدمی سے کوئی دوستی نہیں کرتا اصغر
میرا بھی جی چاہتا ہے محنت کر کے کمانے کا M.Asghar
ہمیں تو شوق ہے خیالی گھوڑے دوڑانے کا
وہ شخص کبھی خاموشی سے بیٹھ نہیں سکتا
جسے شوق ہو ریڈیو پہ غزلیں سنانے کا
نہ جانے کیوں انہیں اپنے دل میں جگہ دی
اب وہ نام نہیں لیتے یہاں سے جانے کا
میری روتی صورت دیکھ کر وہ کہنے لگی
جی چاہتا ہے گدگدی کر کے تجھے ہنسانے کا
کئی سال ریڈیو میزبانوں سے باتیں کرتے
میں بھی ہو گیا ہوں ماہر باتیں بنانے کا
آسماں کو چھو رہی ہیں مکانوں کی قیمتیں
اب ہمارا ارادہ ہے کسی دل میں گھر بنانے کا
بیکار آدمی سے کوئی دوستی نہیں کرتا اصغر
میرا بھی جی چاہتا ہے محنت کر کے کمانے کا M.Asghar
پیغام اپنا پیغام سب تک پہنچاتا رہتا ہوں
اس طرح قلم کا زور آزماتا رہتا ہوں
معاشرے سے برائیوں کو مٹانے کی خاطر
ان کے خلاف آواز اٹھاتا رہتا ہوں
جو نفرت کے تیر آتے ہیں میری سمت
میں انہیں ہنس کے سہتا رہتا ہوں
تمہیں زمانے بھر کی خوشیاں مبارک جاناں
میں غموں کے سمندر میں بہتا رہتا ہوں
کئی لوگ کاٹتے رہتے ہیں میری جڑیں
میں ہرے شجر کی صورت لہراتا رہتا ہوں
ہمیں اپنے پاک پروردگار سے ڈرنا چاہیے اصغر
میں یہ بات ہر کسی سے کہتا رہتا ہوں M.Asghar
اس طرح قلم کا زور آزماتا رہتا ہوں
معاشرے سے برائیوں کو مٹانے کی خاطر
ان کے خلاف آواز اٹھاتا رہتا ہوں
جو نفرت کے تیر آتے ہیں میری سمت
میں انہیں ہنس کے سہتا رہتا ہوں
تمہیں زمانے بھر کی خوشیاں مبارک جاناں
میں غموں کے سمندر میں بہتا رہتا ہوں
کئی لوگ کاٹتے رہتے ہیں میری جڑیں
میں ہرے شجر کی صورت لہراتا رہتا ہوں
ہمیں اپنے پاک پروردگار سے ڈرنا چاہیے اصغر
میں یہ بات ہر کسی سے کہتا رہتا ہوں M.Asghar
گردش میں ستارے میں نے کہا تیری یاد میں دل بے قرار ہے
اس نے کہا ہمیں تیری باتوں پہ نہ اعتبار ہے
میں نے کہا تیری محبت میری دعاؤں کا صلہ ہے
اس نے کہا تیری محبت میں ہمیں تو غم ہی ملا ہے
میں نے کہا مجھے تیری محبت پہ بڑا مان ہے
اس نے کہا میری ہر نظم کا تو ہی عنوان ہے
میں نے کہا ہم آپ جیسے دوستوں سے ڈرتے ہیں
اس نے کہا تیری یاد آئے تو ہم لاحول پڑھتے ہیں
میں نے کہا آپ تو خوابوں میں میرے پاس ہوتے ہیں
اس نے کہا ہم تو آیت الکرسی پڑھ کے سوتے ہیں
میں نے کہا نہ جانے کیوں گردش میں میرے ستارے ہیں
اس نے کہا اس لیے کہ جناب شادی ہو کے بنتے کنوارے ہیں M.Asghar
اس نے کہا ہمیں تیری باتوں پہ نہ اعتبار ہے
میں نے کہا تیری محبت میری دعاؤں کا صلہ ہے
اس نے کہا تیری محبت میں ہمیں تو غم ہی ملا ہے
میں نے کہا مجھے تیری محبت پہ بڑا مان ہے
اس نے کہا میری ہر نظم کا تو ہی عنوان ہے
میں نے کہا ہم آپ جیسے دوستوں سے ڈرتے ہیں
اس نے کہا تیری یاد آئے تو ہم لاحول پڑھتے ہیں
میں نے کہا آپ تو خوابوں میں میرے پاس ہوتے ہیں
اس نے کہا ہم تو آیت الکرسی پڑھ کے سوتے ہیں
میں نے کہا نہ جانے کیوں گردش میں میرے ستارے ہیں
اس نے کہا اس لیے کہ جناب شادی ہو کے بنتے کنوارے ہیں M.Asghar
یہ دوری مٹا لیں اس نے کہا سنا ہے راتوں کو مجھے یاد کر کے روتے ہو
میں نے کہا سنا ہے میری یاد میں تم بھی کم سوتے ہو
اس نے کہا ان دنوں کس سے راہ و رسم ہے
میں نے کہا کسی سے بھی نہیں تمہاری قسم ہے
اس نے کہا میرے بن اب تم کیسے جیتے ہو
میں نے کہا جیسے تم جدائی کا زہر پیتے ہو
اس نے کہا اب تیرا وقت کیسے کٹتا ہے
میں نے کہا تیری یاد سے جگر پھٹتا ہے
اس نے کہا کیا اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہو
میں نےکہا کیا تم اسی طرح مجھ پہ مرتے ہو
اس نے کہا میری جان اصغر کیوں نہ یہ دوری مٹا لیں
میں نے کہا آؤ ایک بار پھر ہم تمہیں گلے سے لگا لیں M.Asghar
میں نے کہا سنا ہے میری یاد میں تم بھی کم سوتے ہو
اس نے کہا ان دنوں کس سے راہ و رسم ہے
میں نے کہا کسی سے بھی نہیں تمہاری قسم ہے
اس نے کہا میرے بن اب تم کیسے جیتے ہو
میں نے کہا جیسے تم جدائی کا زہر پیتے ہو
اس نے کہا اب تیرا وقت کیسے کٹتا ہے
میں نے کہا تیری یاد سے جگر پھٹتا ہے
اس نے کہا کیا اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہو
میں نےکہا کیا تم اسی طرح مجھ پہ مرتے ہو
اس نے کہا میری جان اصغر کیوں نہ یہ دوری مٹا لیں
میں نے کہا آؤ ایک بار پھر ہم تمہیں گلے سے لگا لیں M.Asghar
زندگی میں بہت غم جن کی باتوں میں پیچ و خم بوتے ہیں
ان کی زندگی میں بہت غم ہوتے ہیں
جو مسکرا کے ہر کسی سے ملتے ہیں
تنہائی میں ان کے دیدے نم ہوتے ہیں
اس دنیا میں ہمیشہ ایک کمی رہی ہے
کہ یہاں اچھے لوگ بہت کم ہوتے ہیں
جو صبر کا دامن نہیں چھوڑتے کبھی
ان پہ الله کے بہت کرم ہوتے ہیں
جو دل کے صاف و شفاف ہوتے ہیں
ان کے مزاج اصغر کی طرح گرم ہوتے ہیں M.Asghar
ان کی زندگی میں بہت غم ہوتے ہیں
جو مسکرا کے ہر کسی سے ملتے ہیں
تنہائی میں ان کے دیدے نم ہوتے ہیں
اس دنیا میں ہمیشہ ایک کمی رہی ہے
کہ یہاں اچھے لوگ بہت کم ہوتے ہیں
جو صبر کا دامن نہیں چھوڑتے کبھی
ان پہ الله کے بہت کرم ہوتے ہیں
جو دل کے صاف و شفاف ہوتے ہیں
ان کے مزاج اصغر کی طرح گرم ہوتے ہیں M.Asghar
قول و فعل جس کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے
ایسا بندہ جھوٹے لوگوں کا استاد ہوتا ہے
ایسے لوگ جس کسی سے دوستی کر لیں
اس کا گھر پھر کبھی نہ آباد ہوتا ہے
نہ جانے کیا کشش ہے ہماری باتوں میں
جہاں چلے جائیں وہیں فساد ہوتا ہے
وہ ملنے کا وعدہ کر کے بھول جاتے ہیں
انہیں کیا وقت تو ہمارا برباد ہوتا ہے
جو اسیر ہو کسی کی محبت کا اصغر
ایسا قیدی بڑی مشکل سے آزاد ہوتا ہے M.Asghar
ایسا بندہ جھوٹے لوگوں کا استاد ہوتا ہے
ایسے لوگ جس کسی سے دوستی کر لیں
اس کا گھر پھر کبھی نہ آباد ہوتا ہے
نہ جانے کیا کشش ہے ہماری باتوں میں
جہاں چلے جائیں وہیں فساد ہوتا ہے
وہ ملنے کا وعدہ کر کے بھول جاتے ہیں
انہیں کیا وقت تو ہمارا برباد ہوتا ہے
جو اسیر ہو کسی کی محبت کا اصغر
ایسا قیدی بڑی مشکل سے آزاد ہوتا ہے M.Asghar
ریڈ و میزبان سے ایک دوست کا شکوہ جو دوست تھے دنیا کو میرے شعر سنانے والے
آج وہی ہیں میری آواز کو دبانے والے
تیری دوستی سے بہت کچھ سیکھا ہم نے
اب ہم نہیں تیری میٹھی باتوں میں آنے والے
جب کسی سے بھی تیرے مراسم نہ تھے
ہم لوگ تھے تیری سونی محفلوں کو سجانے والے
تم اس سچ کو کبھی جھٹلا نہیں سکتے
ہم ہی ہیں تجھے بلندیوں پہ پہنچانے والے
اب فون کر کے مناتے رہو تمام عمر
تیری محفل میں پلٹ کے نہیں آنے والے
اب تجھے اصغر جیسے لوگوں سے کیا غرض
تجھے مل گئے ہیں بہت نئے چاہنے والے M.Asghar
آج وہی ہیں میری آواز کو دبانے والے
تیری دوستی سے بہت کچھ سیکھا ہم نے
اب ہم نہیں تیری میٹھی باتوں میں آنے والے
جب کسی سے بھی تیرے مراسم نہ تھے
ہم لوگ تھے تیری سونی محفلوں کو سجانے والے
تم اس سچ کو کبھی جھٹلا نہیں سکتے
ہم ہی ہیں تجھے بلندیوں پہ پہنچانے والے
اب فون کر کے مناتے رہو تمام عمر
تیری محفل میں پلٹ کے نہیں آنے والے
اب تجھے اصغر جیسے لوگوں سے کیا غرض
تجھے مل گئے ہیں بہت نئے چاہنے والے M.Asghar
محبت میں جو بدنام نہیں ہوتے محبت میں جو لوگ بدنام نہیں ہوتے
ان کے چرچے سرعام نہیں ہوتے
دنیا میںجو اپنی مدد آپ کرتے ہیں
زندگی میںوہ کبھی ناکام نہیں ہوتے
ہر کسی کی غیبت کرنے والوں کے
ایسے لوگوں کے سیدھے کام نہیں ہوتے
جن شادیوں میں ماں کی رضا شامل نہ ہو
کبھی اچھے ان کے انجام نہیں ہوتے
جو خود کو اوروں سے بہتر جانے اصغر
کسی کے لب پہ ان کہ نام نہیں ہوتے M.Asghar
ان کے چرچے سرعام نہیں ہوتے
دنیا میںجو اپنی مدد آپ کرتے ہیں
زندگی میںوہ کبھی ناکام نہیں ہوتے
ہر کسی کی غیبت کرنے والوں کے
ایسے لوگوں کے سیدھے کام نہیں ہوتے
جن شادیوں میں ماں کی رضا شامل نہ ہو
کبھی اچھے ان کے انجام نہیں ہوتے
جو خود کو اوروں سے بہتر جانے اصغر
کسی کے لب پہ ان کہ نام نہیں ہوتے M.Asghar
مرد کا قول سر پہ جو پٹیاں لگا کے آئے ہو
لگتا ہے کہیں سے مار کھا کے آئے ہو
تمہارے بالوں سے ظاہر یہ ہوتا ہے
جیسے منوں مٹی میں نہا کے آئے ہو
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے
منہ نہیں دھویا یا آنسو بہا کے آئے ہو
دنیا والوں سے چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں
مرد ہو اپنا قول نبھا کے آئے ہو
اے دوست اصغر تمہیں سدا یاد رکھے گا
جو عشق میں ہڈیاں تڑوا کے آئے ہو M.Asghar
لگتا ہے کہیں سے مار کھا کے آئے ہو
تمہارے بالوں سے ظاہر یہ ہوتا ہے
جیسے منوں مٹی میں نہا کے آئے ہو
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے
منہ نہیں دھویا یا آنسو بہا کے آئے ہو
دنیا والوں سے چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں
مرد ہو اپنا قول نبھا کے آئے ہو
اے دوست اصغر تمہیں سدا یاد رکھے گا
جو عشق میں ہڈیاں تڑوا کے آئے ہو M.Asghar
کام کی باتیں پہلے پہل جو محبت کا خمار ہوتا ہے
بعد میں وہ کام دیوانگی میں شمار ہوتا ہے
جو ایک بار محبت کے رنگ میں رنگ جائے
پھر اسے دشمن سے بھی پیار ہوتا ہے
سنا ہے جس کی یاداشت کمزور ہوتی ہے
وہ کسی کالج کا پروفیسر شمار ہوتا ہے
بڑے بزرگوں کا کوئی حال نہیں پوچھتا
حسینوں کی مدد کو ہر کوئی تیار ہوتا ہے
جو اشتہاری پیروں کے چنگل میں پھنس جائیں اصغر
پھر ان کا بیڑہ کبھی نہ پار ہوتا ہے M.Asghar
بعد میں وہ کام دیوانگی میں شمار ہوتا ہے
جو ایک بار محبت کے رنگ میں رنگ جائے
پھر اسے دشمن سے بھی پیار ہوتا ہے
سنا ہے جس کی یاداشت کمزور ہوتی ہے
وہ کسی کالج کا پروفیسر شمار ہوتا ہے
بڑے بزرگوں کا کوئی حال نہیں پوچھتا
حسینوں کی مدد کو ہر کوئی تیار ہوتا ہے
جو اشتہاری پیروں کے چنگل میں پھنس جائیں اصغر
پھر ان کا بیڑہ کبھی نہ پار ہوتا ہے M.Asghar
کپڑے کی مہنگائی ہماری چاہت جب حد سے بڑھی تو رسوائی ہو گئی
پھر محلے کے لوگوں کے ہاتھوں پٹائی ہو گئی
جس محترمہ کے ڈر سے نقل مکانی کی میں نے
چند دنوں بعد وہی صاحبہ پھر میری ہمسائی ہوگئی
میرے اسرار پہ اس نے ملنے کا وعدہ کر لیا
آخر حسن کی عدالت میں میری بھی سنوائی ہوگئی
کئی لوگ غیر شرعی ذرائع سے کماتے ہیں دولت
چندہ دے کر سمجھتے ہیں حلال یہ کمائی ہوگئی
آج کہ مغربی کلچر کے نقش قدم پہ چل کر
ہماری اس نئی نسل کی تو تباہی ہو گئی
بازار میں کئی بیبیاں نظر آئیں جو کم لباس میں
تو خیال آیا اصغر کہ کپڑے کی کتنی مہنگائی ہوگئی M.Asghar
پھر محلے کے لوگوں کے ہاتھوں پٹائی ہو گئی
جس محترمہ کے ڈر سے نقل مکانی کی میں نے
چند دنوں بعد وہی صاحبہ پھر میری ہمسائی ہوگئی
میرے اسرار پہ اس نے ملنے کا وعدہ کر لیا
آخر حسن کی عدالت میں میری بھی سنوائی ہوگئی
کئی لوگ غیر شرعی ذرائع سے کماتے ہیں دولت
چندہ دے کر سمجھتے ہیں حلال یہ کمائی ہوگئی
آج کہ مغربی کلچر کے نقش قدم پہ چل کر
ہماری اس نئی نسل کی تو تباہی ہو گئی
بازار میں کئی بیبیاں نظر آئیں جو کم لباس میں
تو خیال آیا اصغر کہ کپڑے کی کتنی مہنگائی ہوگئی M.Asghar
محنت کرنے والوں کے نام بات کرنے والے کا کب نام دیکھتے ہیں
ہم ایسے لوگوں کا پیغام دیکھتے ہیں
دنیا میں ایسا ہوتا آیا ہے سدا
برائی کا برا ہی انجام دیکھتےہیں
جو محنت ومشقت کرتے ہیں زندگی بھر
معاشرے میں ان کا اعلیٰ مقام دیکھتے ہیں
والدین سے جو لوگ بھلا سلوک نہیں کرتے
انہیں رسوا ہوتے سرعام دیکھتے ہیں
عید کے دن جو دیدار نہ دیتے تھے اصغر
اب بسنت میں ہم انہیں سر بام دیکھتے ہیں M.Asghar
ہم ایسے لوگوں کا پیغام دیکھتے ہیں
دنیا میں ایسا ہوتا آیا ہے سدا
برائی کا برا ہی انجام دیکھتےہیں
جو محنت ومشقت کرتے ہیں زندگی بھر
معاشرے میں ان کا اعلیٰ مقام دیکھتے ہیں
والدین سے جو لوگ بھلا سلوک نہیں کرتے
انہیں رسوا ہوتے سرعام دیکھتے ہیں
عید کے دن جو دیدار نہ دیتے تھے اصغر
اب بسنت میں ہم انہیں سر بام دیکھتے ہیں M.Asghar
صنف نازک کی ثناہ کہا میرا دل رکھنے کو دوست کہتے ہیں تم اچھے شاعر ہو
جواب آیا کیا حسینوں کی ثناہ کرنے میں بھی ماہر ہو
کہا کسی کی تعریف کرتے وقت ہم غلط بیانی نہیں کرتے
جواب آیا اسی لیے حسیں لوگ تم سے پیار نہیں کرتے
کہا اپنی ناگن جیسی زلفوں کا اسیر بنا لیجیے
جواب آیا ہر روز اسی طرح ہماری ثناہ کیجیے
کہا آپ کے ہونٹ مے کے پیالے ہیں
جواب آیا انہوں نے کئی لوگ تباہ کر ڈالے ہیں
کہا تمہارے گالوں کی لالی میری زندگانی ہے
جواب آیا یہ تیرے لیے خطرے کی نشانی ہے
کہا کب تک مجھے چاہتے رہو گے
جواب آیا جب تک میرے لیے غزلیں سناتے رہو گے
کہا آپ کی آنکھیں بڑی پیاری ہیں
جواب آیا یہ اصغر کے دیدار کی ماری ہیں M.Asghar
جواب آیا کیا حسینوں کی ثناہ کرنے میں بھی ماہر ہو
کہا کسی کی تعریف کرتے وقت ہم غلط بیانی نہیں کرتے
جواب آیا اسی لیے حسیں لوگ تم سے پیار نہیں کرتے
کہا اپنی ناگن جیسی زلفوں کا اسیر بنا لیجیے
جواب آیا ہر روز اسی طرح ہماری ثناہ کیجیے
کہا آپ کے ہونٹ مے کے پیالے ہیں
جواب آیا انہوں نے کئی لوگ تباہ کر ڈالے ہیں
کہا تمہارے گالوں کی لالی میری زندگانی ہے
جواب آیا یہ تیرے لیے خطرے کی نشانی ہے
کہا کب تک مجھے چاہتے رہو گے
جواب آیا جب تک میرے لیے غزلیں سناتے رہو گے
کہا آپ کی آنکھیں بڑی پیاری ہیں
جواب آیا یہ اصغر کے دیدار کی ماری ہیں M.Asghar
چالیس سال بعد چالیس سال بعد جو ان پہ شباب آیا ہے
دیکھنے والے کہتے ہیں کیا لاجواب آیا ہے
ان دنوں ان کا وزن کم ہوتا جا رہا ہے
علم نہیں ڈایٹ کرتے ہیں یا بھوت کا سایہ ہے
تم ہی نے اس بات کی قدر نہ کی ورنہ
ہم نے تو کئی سالوں سے تیرا ساتھ نبھایا ہے
ہم ہر آزمائش میں پورے اترے ہیں جاناں
تم نے جب جب مجھ کو آزمایا ہے
جی چاہتا ہے کے نہ جاؤں اسکو ملنے اصغر
کیسے نہ جائیں فون کر کے اس نے بلایا ہے M.Asghar
دیکھنے والے کہتے ہیں کیا لاجواب آیا ہے
ان دنوں ان کا وزن کم ہوتا جا رہا ہے
علم نہیں ڈایٹ کرتے ہیں یا بھوت کا سایہ ہے
تم ہی نے اس بات کی قدر نہ کی ورنہ
ہم نے تو کئی سالوں سے تیرا ساتھ نبھایا ہے
ہم ہر آزمائش میں پورے اترے ہیں جاناں
تم نے جب جب مجھ کو آزمایا ہے
جی چاہتا ہے کے نہ جاؤں اسکو ملنے اصغر
کیسے نہ جائیں فون کر کے اس نے بلایا ہے M.Asghar
میرا یار میں ہوں پیدل اور وہ کار پہ سوار ہے
اسے لویریا ہے مجھے عشق کا بخار ہے
مجھ جیسے نکھٹو کو کوئی کام مل نہیں سکتا
اب تو محبت کرنا ہی اپنا کاروبار ہے
میں اسے بھولنا تو چاہتا ہوں مگر کیا کروں
مجھے اس سے محبت ہی بے شمار ہے
میں نے کب تجھ سے لعل و گہر مانگے ہیں
یہ بندہ تو تیری اک نظر کا طلب گار ہے
ایک بار اصغر کو آزما کے تو دیکھ لو
یہ تیری خاطر جان دینے کو تیار ہے M.Asghar
اسے لویریا ہے مجھے عشق کا بخار ہے
مجھ جیسے نکھٹو کو کوئی کام مل نہیں سکتا
اب تو محبت کرنا ہی اپنا کاروبار ہے
میں اسے بھولنا تو چاہتا ہوں مگر کیا کروں
مجھے اس سے محبت ہی بے شمار ہے
میں نے کب تجھ سے لعل و گہر مانگے ہیں
یہ بندہ تو تیری اک نظر کا طلب گار ہے
ایک بار اصغر کو آزما کے تو دیکھ لو
یہ تیری خاطر جان دینے کو تیار ہے M.Asghar