زلفوں میں تیری یاد کا گجرا سجا بھی ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیازلفوں میں تیری یاد کا گجرا سجا بھی ہو
ہاتھوں پہ میرے پیار کا رنگِ حنا بھی ہو
پھیلے ہوئے ہیں چار سو دشمن حسین کے
ممکن ہے پھر سے معرکہ کرب و بلا بھی ہو
ہر دم تمہارے دل کا میں پیغام پڑھ سکوں
آنکھوں کا تیری سامنے اک آئینہ بھی ہو
تنہائیوں کی سیج پہ جل کر گزار لی
اس زندگی کا روح سے اب فاصلہ بھی ہو
میں اجنبی ہوں شہر میں سودائی تو نہیں
کوچے میں تیرے میرا کوئی آشنا بھی ہو
دل میں ہمیشہ میرے یوں ہی روشنی رہے
حبِّ خدا کے بعد حبِّ مصطفے بھی ہو
وشمہ مری حیات ہے گلشن نما یہاں
آنکھوں کو ایک پیار کا سپنا عطا بھی ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






